Column

 مہنگائی سے لڑو۔۔۔حکومت سے نہیں ….. ناصر نقوی

ناصر نقوی
موجودہ حکومت اور اِس کے پیارے کھلاڑی متفق ہیں کہ وطن عزیز کی مہنگائی، قرضوں میں اضافہ،بے روزگاری اور روپے کی تنزلی میں تحریک انصاف اور اِن کی پالیسوں کا دوش نہیں بلکہ یہ تمام کارنامے سابق حکمرانوں کے ہیں، جنہوں نے اقتدار کی باریاں لیں،قومی خزانے کو باپ کا مال سمجھ کر لوٹا، ایک دوسرے کے ساتھ فرینڈلی اپوزیشن اپوزیشن کا کھیل کھیلا، پیٹ پھاڑنے اور سٹرکوں پرگھسیٹنے کے دعوے سے عوام کو بے وقوف بنایا، ایک دوسرے کو مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لیے سیکورٹی رسک قرار دیااور پھر لندن معاہدے سے میثاق جمہوریت کا ڈرامہ رچا کر باہمی اتحاد کی عملی تصویر بن گئے، آج بھی اقتدار کے اِن بھوکوں کو اختلافات اور لڑائی جھگڑوں کے باوجود اکٹھے دیکھا جا تا ہے جبکہ تبدیلی سرکار اِن کے برسوں کے پھیلائے ہوئے گند کو صاف کرنے کی کوشش کرکے ملک و ملت کی ترقی و خوشحالی کے راستے پر گامزن کرنے کی تگ و دو میں شب و روز جدوجہد کر رہی ہے جبکہ جمہوری چمپئن اور اِن کا پالتو مافیا حکومت کے ہر مثبت عمل کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں لہٰذا تاخیر پر حکمرانوں کو اناڑی کھلاڑی کا لقب دیا جاتا ہے حالانکہ حقیقی تصویر یہ نہیں، وزیر اعظم عمران خان ایمانداری سے ماضی کی تمام جعلی جھوٹی روایات کا خاتمہ کرکے خوشحال سرسبز پاکستان کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں لیکن اپوزیشن جماعتیں سابق حکمرانوں کا ایجنڈا پورا کرنے کے لیے مفاد پرستوں اور اقتدار کے بھوکوں کا ساتھ دے رہی ہیں، اِن کا ایجنڈا لوٹ مار، کرپشن اور اقتدار ہے کیونکہ حکمرانی کے بغیر ایسا نہیں ہو سکتا لہٰذا روز لڑتے ہیں اور روز نئی دوستی کا راگ الاپتے ہیں، اِس لیے مفاد کے تابع ہیں پاکستان پیپلز پارٹی ایک زبردست اختلافی نظریہ پر پی ڈی ایم سے نکلی،اپوزیشن کی بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف)نے اِسے نیک شگون قرار دیا لیکن اقتدار سے دوری جینے نہیں دے رہی پھر بھی کسی نہ کسی بہانے ایک دوسرے کی محبت کی اسیر ہیں۔
کھلاڑیوں،کے قائدین اور وزراء کا مشورہ ہے کہ قو م لٹیروں، ڈکیتوں اور مفاد پرستوں کو پہچانے۔ موجودہ حکمران عمران خان کی قیادت میں پاکستان کو ریاست مدینہ بنا کر فلاحی معاشرے کا قیام چاہتے ہیں اِن کا ویژن کسی سے پوشیدہ نہیں، ایماندار ہیں دنیا اِن کی قائل ہے، اِس لیے سابق حکمرانوں کے سنہرے خوابوں کے جال میں پھنسنے کی بجائے اِن کے ماضی سے سبق سیکھیں گے، حکومت کے اقدامات کی پیروی کرتے ہوئے مہنگائی سے لڑیں۔حکومت سے نہیں۔اِس راز سے صرف ”برابری پارٹی“ کے سربراہ گلوکار جواد احمد واقف ہیں جنہوں نے اپنی مثبت سوچ کے تحت یہ نعرہ لگایا ہے کہ”مہنگائی کو پھانسی دو“ وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ مہنگائی مافیا کو پھانسی دو لیکن وہ حقیقت سے واقف ہیں کہ ”مافیا“سے دو دو ہاتھ کرنا، ہاتھ تڑوانے والی با ت ہے۔ یہ بات بھی اِنہیں خان اعظم کے بیانات سے پتا چلی ہے کہ ہر شعبے میں مافیاکام کی راہ میں بڑی رکارٹ ہے لہٰذا مضبوط ”مافیا“سے سر ٹکرا کر پھڑوانے کا کیافا ئدہ، اصل مقصد کی فکر کرنی چاہئے۔ ایک کھلاڑی کہنے لگا ”مہنگائی“ کا بہترین فارمولا یہ ہے کہ عوام حکومت سے تعاون کرتے ہوئے ”مافیا“کے خلاف اعلان جہاد کریں قوم مہنگی اشیائے ضروریہ کا بائیکاٹ کرے، ذخیرہ اندوزوں اور بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں کے دماغ ڈھکانے لگ جائیں گے،دوسرے نے مسکراتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کچھ یوں کیا کہ حکومت کو پبلک سروس میسج، ریڈیو، ٹی وی اور سوشل میڈیا سے جاری کرنا چاہئے جیسے صحت کارڈ اور کرونا کے حوالے سے چل رہے ہیں پہلے نے پوچھا ”وہ کیسا ہوگا؟“دوسرے نے جواب دیا ”فون کال ملاتے ہی آواز آئے۔مہنگائی ایک مہلک اور جان لیوا بیماری ہے، اِس سے بچیں، کھانا کم کھائیں، پھٹے پرانے کپڑے پہنیں، جتنا ہو سکے پیدل چلیں یا سائیکل کا استعمال کریں یاد رکھیں! مہنگائی سے لڑنا ہے حکومت سے نہیں۔۔۔۔دوسرے روز ہی یہ میسج سوشل میڈیا پر آگیا، یوتھیوں کی سوشل میڈیا کی سرگرمیاں اپنی مثال آپ ہیں اب دیکھیں یہ منفرد فارمولا قیادت کی نظر وں سے کب گزرتا ہے یا اسے وہ کب پذیرائی دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اپوزیشن سوشل میڈیا پر یہ پیغام دیکھ کر آگ بگولہ ہوگئی، سب سے زیادہ غصہ پی ڈی ایم کے سربراہ حضرت مولانا فضل الرحمان کو آیا اِن کا کہنا ہے کہ یہ پی ڈی ایم کے خلاف سازش ہے، ہم نے پونے چا ر سال کی محنت سے اپنے کارکنوں اور حکومت مخالفین کو مہنگائی کے نام پر حکومت سے لڑنے پر آمادہ کیا ہے اب اپوزیشن اورحکومت میں آخری معرکہ آرائی ہونے والی ہے جس کے نتیجے میں ”سلیکٹڈ“کو اقتدار چھوڑنا پڑے گا۔ مہنگائی نے غریب عوام سے دو وقت کی روٹی چھین لی ہے وزیر اعظم خان نے جتنے وعدے کئے اِن پر عمل نہیں کیا لہٰذا ہم مہنگائی کے ہتھیار سے اسلام آبادفتح کریں گے کیونکہ مہنگائی کا عذاب موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں سے آیا ہے لہٰذا اِس سے نجات اِن کی موجودگی میں کبھی نہیں ملے گی۔ مولانا کا دعویٰ ہے کہ بے تحاشا قرضوں، غلط پالیسیوں، نا تجربہ کاری اور عالمی دباؤ نے عمران خان کو مملکت پاکستان کے لیے رسک بنا دیا ہے، اِس لیے پوری قوم پی ڈی ایم کی کال پر اسلام آباد چل کر نالائق حکمرانوں سے جان چھڑائیں جبکہ ایک دوسرے پر الزامات لگانے والے جیالے اور متوالے بھی حکومت مخالف تحریک میں گلے مل چکے ہیں مستقبل میں کون کس کے گلے پڑے گا اِس بارے میں فی الحال کچھ کہنا ممکن نہیں لیکن اختلافات جمہوریت کا حسن اور کسی چیز کاحتمی نہ ہونا سیاسی روایات ہیں آئندہ سال الیکشن کا ہوگا، حکومت رہے یا جائے  اِس لیے نئی سیاسی صف بندیوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ تبدیلی سرکار نے وہ کچھ نہیں کیا جس کی اِس سے امید تھی یا یوں کہیے کہ جس کا اِنہیں مینڈیٹ دیا گیا تھا لیکن حقیقت یہی ہے کہ اپوزیشن کی کارکردگی بھی ماضی کے حوالے سے صفر رہی بلکہ صرف ٹف ٹائم دینے کے وعدے پر وقت گزاری کرتی رہی، مہنگائی ایک حقیقت ہے، قرضوں میں اضافہ بھی ڈھکی چھپی بات نہیں، بے روزگاری بھی بڑھی اور ڈالر بہادر نے ہمارے روپے کی بھی درگت بنائی، عوام کی زندگی اجیرن ہو گئی، کرونا نے بھی زندگی چھینی لیکن حکومتی نا تجربہ کار ی اور حالات کے تقاضوں کے مطابق اپوزیشن بھی مصلحت پسندی کا شکار رہی، اِس پر مقدمات کا دباؤ تھا کہ عالمی اداروں کا، اِس نے بھی اپنی پرفارمنس میں بہتری پیدا نہیں کی، بلکہ سٹیٹ بنک بل سینیٹ میں اکثریت کے باوجود صرف ایک ووٹ سے صرف اِس لیے منظورکرادیا کہ یہ غلامی اور بے بسی کا پھندا موجودہ حکومت کے گلے میں ہی پڑے۔ اِس مصلحت پسندی کی فضاء میں تو پھر یہی مشورہ بھلا لگ رہا ہے کہ مہنگائی سے لڑو، حکومت سے نہیں یعنی حکومت اور اِس سے لڑنے والوں سے کنارہ کشی اختیار کرکے مہنگائی کے اِس دور میں جینے کے لیے اپنے راستے خود تلاش کرو، کوئی تمہارے لیے کچھ نہیں کرے گا، اپنی چادر کے مطابق پاؤ ں پھیلاؤ، مشکل وقت بھی گزر ہی جائے گا کیونکہ نظام قدرت ہے کہ وقت ایک سا نہیں رہتا اچھا یا برا گزر ہی جاتا ہے۔
چودھری برادرن نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ اتحادیوں کے تحفظات حکومت دور کرے یا نہیں اِسے اگر دوبارہ عوام کے پاس جانا ہے تو پھر عوامی ریلیف کی راہ نکالنی ہوگی۔ چودھری شجاعت کی سیاسی بصیرت نے یہ راز فاش کر دیا ہے کہ مہنگائی سے چھٹکارے کے بغیر عوام میں خطرے سے کم نہیں ہے، تاہم اپوزیشن مہنگائی کارڈ پر کھیلنے کے لیے دن رات صف بندی میں مصروف ہے ماضی کے بچھڑے ہوئے دوست پھر ایک ساتھ کھابہ گیری کرتے دکھائی دے رہے ہیں، متحدہ اپوزیشن ہی نہیں،پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی بھی مہنگائی کے خلاف آواز بلند کرنے میں مصروف ہے، ایسے میں ”خان اعظم“بھی وزراء کو ایوارڈ اور اسناد دینے کے بعد عوامی اجتماعات کا شیڈول بنا کر شاید عوام کو چیک کرنے کے موڈ میں ہیں کہ وہ حکومت سے لڑنا چاہتے ہیں کہ مہنگائی سے، تاہم اپوزیشن مطمئن ہے کہ وہ اِس مرتبہ سر دھڑ کی بازی لگا کر حکومت کو اقتدارا چھوڑنے پر مجبور کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔مبصرین بھی آئندہ ڈیڑھ ماہ حکومتی ایوانوں کے لیے پریشان کن قرار دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button