تازہ ترینخبریںکاروبار

رواں مالی سال حکومتی قرض جی ڈی پی کا86.7فیصد رہیگا، آئی ایم ایف

عالمی مالیاتی فنڈ ٟ آئی ایم ایفٞ نے پاکستان سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کا حکومتی قرض جی ڈی پی کا86.7فیصد رہے گا تاہم اگلے مالی سال پاکستان کا حکومتی قرض 4.6فیصد کم ہونے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف نے بتایا کہ اگلے مالی سال پاکستان کا حکومتی قرض جی ڈی پی کا 82.1فیصد رہنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کا غیرملکی قرض جی ڈی پی کا40.6فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ اگلے مالی سال پاکستان کا غیرملکی قرض0.5فیصد کم ہونے کا امکان ہے اور اگلے مالی سال یہ غیرملکی قرض جی ڈی پی کا40.1فیصد رہنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران کرنٹ اکائونٹ خسارہ جی ڈی پی کا صفر رہنے کی توقع ہے اور اگلے مالی سال میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ جی ڈی پی کا1.2فیصد رہنے کی توقع ہے۔
دوسری جانب ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار ٟ جی ڈی پیٞ میں تجارت کی شرح دنیا میں کم از کم قرار دیدی گئی۔
پاکستان کی معیشت اور تجارت سے متعلق اپنی رپورٹ میں اے ڈی بی کا کہنا ہے کہ اپنی نمو کو فروغ دینے کے لیے پاکستان اپنی معیشت کو تجارت کے لیے مزید کھولنے کی حکمت عملی اپنا سکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی زیادہ تر برآمدی مصنوعات ٹیکسٹائل گروپنگ کے تحت آتی ہیں، برآمد کے ارتکاز کے رسمی اقدامات اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی برآمدات نسبتاً زیادہ انواع و اقسام کی ہیں، خاص طور پر دوسرے بڑے ٹیکسٹائل برآمد کرنے والے ممالک جیسے بنگلہ دیش اور کمبوڈیا کے مقابلے میں لیکن اس کی برآمدات بھارت کے مقابلے میں کم اقسام کی ہیں۔
رپورٹ میں پاکستان کی معاشی کشادگی کا موازنہ دوسرے ممالک سے کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان معاشی سرگرمیوں کے لیے کھلے پن کے لحاظ سے بھارت اور بنگلہ دیش سے کم، جبکہ ایتھوپیا، برازیل اور سوڈان سے زیادہ کھلا ہے۔ رپورٹ میں سال2019سے2020تک کے اعداد و شمار کا استعمال کیا گیا ہے جو کہ کرونا وبا کے باعث ایک غیر معمولی سال تھا، دستیاب اعداد و شمار سے مرتب کردہ رپورٹ166ممالک اور معیشتوں کے لیے جی ڈی پی کی مختلف سطحوں پر اقتصادی کشادگی کا ایک خاکہ ظاہر کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button