Column

حیا اور ویلنٹائن ڈے … عبدالرشید مرزا

عبدالرشید مرزا
آج ہماری نوجوان نسل مغرب اور اِس کی شکست خوردہ تہذیب کی دلدادہ ہے، اِس لیے 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے کی رسم کا باقاعدہ انعقاد کرتی ہے،اِس تہذیب نے عورت کی آزادی کے نام پر جو تذلیل کی وہ تاریخ میں نہیں ملتی، ایک وقت تھا مغربی ممالک امت مسلمہ کے طفل مکتب ہوتے تھے، آج مسلمان اِن کی تہذیب سے اتنے مرغوب ہوئے کہ اپنی پہچان بھول گئے کل تک مسلمان نوجوانوں کے ماڈل حیا کے پیکر فاطمہ زہراؓ بنت محمدﷺ اور سیدنا عثمان غنیؓ ہوتے تھے، آج اِن کے ہیرو مغرب کی فواحش فلموں کے ہیرو ٹھہرے۔ مسلمانوں نے شاندار روایات اور تہذیب کو چھوڑا اور مغرب کی تہذیب کے دلدادہ ہوئے جس کے بعد حیانے ایسا منہ پھیرا کہ آج وطن عزیز فواحش فلمیں دیکھنے میں دنیا میں پہلے نمبر پر آگیا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس میں حیا نہیں، اِس میں ایمان نہیں ہے۔حیا کا تصور صرف عورتوں پر منطبق نہیں ہوتا بلکہ مردوں پر بھی اتنا ہی منطبق ہوتا ہے۔ حیا کے بارے میں ہمیں حدود و قیود کا تعین ہونا چاہیے۔ ہمارے معاشرے میں حیا کا تصور بہت محدود ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ہر سطح پر مغربیت غالب آتی جا رہی ہے۔ ہماری زندگی کا کوئی گوشہ مغربی تصورات سے پاک نہیں ہے۔ آج کی سیکولر تہذیب نے بھی انسانیت کو حیا کے لبادے سے ناآشنا کر دیا ہے۔بے حیائی، عریانی اور فحاشی کی کئی وجوہات ہیں ہر دور میں مغرب نے کوئی نہ کوئی ایسا عمل قبیح مسلمانوں کو متعارف کروایا کہ جو کبھی آزادی مارچ اور کبھی ویلنٹائن ڈے کے نام پر ہے۔مغرب کی تہذیب اور رسم و رواج میں سے ایک ویلنٹائن ڈے ہے۔ہم ویلنٹائن ڈے کی تاریخی حقیقت پر نظر دوڑائیں تومغربی تہذیب کے شیطانی مقاصد روزِ روشن کی طرح واضح ہوتے چلے جاتے ہیں۔برطانیہ سے رواج پانے والے اِس دن کو بعد میں امریکہ اور جرمنی میں بھی منایا جانے لگا۔ آہستہ آہستہ مادر پدر آزاد اور میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگانے والوں نے ہمارے معاشرے میں اِس بے ہودہ رسم کے بیج بوئے۔ کہیں ہیر رانجھااور لیلا مجنوں نے ایسی حرکت کی تو اِنہیں بھی آوارہ مزاجوں نے مرشد بنا لیا۔ اگر یہ محبت کے دیوتا کی یاد میں منایا جانے والا دن ہے تو یہ غیر قوموں کا تصور معبودیت ہے، جس کی اسلام بالکل بھی اجازت نہ دیتا ہے اور نہ کبھی دے گا۔ عریانی و بے حیائی کا جو طوفان مغرب نے آزادی اور روشن خیالی کے نام پر برپا کیا تھا اور جسے شاید ہم اُن کی ترقی کا راز سمجھ کر دن رات اپنے ہاں درآمد کرنے میں مصروف ہیں، اِس کی تباہ کاریوں کے عملی تجربے کے بعد مغرب کے پوپ یا پادری ہی نہیں بلکہ حکومتی و سیاسی حلقے تک آج اِس سے سخت پریشان ہیں لیکن اب اِس سے جان چھڑانا محال ثابت ہورہا ہے۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ جن طاقتوں کے مفادات اور کھربوں کے کاروبار فحاشی کے کلچر سے وابستہ ہیں۔اِس پہلو کے اہم واقعات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ستائیس ممالک پر مشتمل یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں مارچ کے مہینے میں مغربی معاشرے خصوصاً الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں عورتوں کے حیا سوز انداز میں سامنے لائے جانے کو اِن کی بے عزتی اور صنفی عدم مساوات پر مبنی رویہ قرار دیتے ہوئے، اِس پر مکمل پابندی لگانے کی تجویز پر مشتمل ایک مفصل رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ تیار کرنے والی کمیٹی کا نام ”کمیٹی آن ویمنز رائٹس اینڈ جنڈر ایکولٹی“ تھا۔کمیٹی کی رپورٹ کا مسودہ خاتون ڈچ ممبر کارتیکا تمارا نے تیار کیا تھا۔برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق کارتیکا تمارا نے یورپی پارلیمنٹ میں مسودہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”وقت آگیا ہے کہ میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی ہر قسم کی فحاشی پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔“ بے حیائی کی یلغار پر برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون بھی چیخ اٹھے تھے، اُنہوں نے برطانیہ کے تمام گھروں میں تمام فحش ویب سائٹس پر پابندی اور اِس مقصد کے لیے فیملی فرینڈلی فلٹرز سمیت مختلف تدابیر اختیار کئے جانے کا اعلان کیا۔ آج کی مغربی دنیا کا اولین مقصد ایک نوجوان کو اسلام اور روحانیت و معنویت سے دور کرنا ہے، تاکہ وہ نوجوان مغربی طاقتوں کا غلام بن جائے جس کے لیے مغربی و صیہونی طاقتوں نے معروف رسالے ٹائم میگزین کے مطابق 17 بلین ڈالر سے زائد صرف اِس تہوار پر خرچ کر دیئے، تاکہ بے حیائی کے ذریعے اسلامی تعلیمات کو پامال کیا جا سکے اور ان شیطانی چالوں کے ذریعے ایک مسلم نوجوان کی زندگی اجیرن کی جا سکے۔
دسمبر 2019ء میں پیو ریسرچ سینٹر (PEW) کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ناجائز بچوں کی شرح سب سے زیادہ ہے، شادی کی شرح گھٹ گئی ہے اور بچے کسی ”بندھن“ کے بغیر پیدا ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 18سال یا اِس سے کم عمر ایک چوتھائی بچے ”سنگل پیرنٹ“ کے ساتھ رہتے ہیں یعنی عورت سے نہ صرف یہ کہ شادی نہیں کی بلکہ بچے بھی پیدا کرکے اُسی کے حوالے کر دیے کہ اِن کے اخراجات کے لیے معاشی جدوجہد بھی وہ خود ہی کرے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ میں 35سے 59سال عمر تک کی عورتیں مردوں کے اِس عمر کے گروپ سے زیادہ ہیں جو سنگل والدین کے طور پر رہتی ہیں، قریباً ایک تہائی (32فیصد) عورتیں جن کی عمریں 60سال یا زائد ہیں، تنہا رہتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا ہم ایسی آزادی اور شکست خوردہ تہذیب چاہتے ہیں جو آخری سانسیں لے رہی ہے؟ یونیسیف کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 18فیصد لڑکیوں نے بتایا کہ وہ 17سال کی عمر تک جنسی حملوں اور زیادتی کا نشانہ بن چکی ہوتی ہیں۔ پرنٹ میڈیا کے مطالعہ میں ویزلیان یونیورسٹی کے ریسرچرز کے مطابق 58 مختلف رسالوں میں 51.8فیصد اشتہارات میں عورتوں کی نمائش جنسی شے کے طور پر کی گئی جبکہ مردوں کے رسالوں کے اشتہارات میں عورتوں کی 76فیصد تشہیر یا نمائش سیکس مقاصد کے طور پر ہوتی ہے۔ 2019میں سینٹر فار امریکن پروگریس میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں 1974 میں شادی شدہ جوڑوں اور اِن کے گھرانوں کی تعداد 84فیصد تھی، 2017میں یہ تعداد گھٹ کر 66.4فیصد رہ گئی، اِس کے ساتھ ہی غیر شادی شدہ ماں یا باپ کی سربراہی میں خاندانوں کی شرح میں اضافہ ہوا۔1974سے 2015 تک کے عرصہ میں صرف ماں کے ساتھ بچوں سمیت خاندانوں کی تعداد دْگنی ہو کر 14.6سے 25.2فیصد ہوگئی، 1976میں صرف 56.3فیصد شادی شدہ مائیں پیسوں کے لیے کام کرتی تھیں، 2017میں یہ تعداد بڑھ کر 69.6فیصد ہوگئی۔ 2016میں امریکہ کے اندر 40فیصد بچوں کی پیدائش غیر شادی ماؤں کے ہاں ہوئی، رپورٹ کے مطابق 2017میں 41فیصد مائیں اپنے خاندانوں کے لیے روزگار کا واحد ذریعہ ہیں۔ امریکہ میں خواتین کے استحصال کے حوالے سے واشنگٹن پوسٹ نے 15اکتوبر 2019کو رپورٹ دی کہ ایک چوتھائی انڈر گریجویٹ عورتوں کا کہنا ہے کہ وہ جنسی طور پر ہراساں (جس میں زیادتی کے کیس بھی شامل ہیں) کی گئیں، یہ رپورٹ امریکہ کی 33بڑی جامعات کے سروے پر مشتمل تھی، 2018میں بلومبرگ میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 40فیصد بچے شادی کے بغیر پیدا ہوتے ہیں، یہ شرح 1970میں 10فیصد تھی۔
مندرجہ بالا اعداد و شمار امریکہ کے اپنے معروف اداروں کے ہیں، حقائق ثابت کرتے ہیں کہ مغرب کی نام نہاد آزادی نے اُس معاشرے کے خاندانی نظام اور شادی کے ادارے کو تباہ و برباد کرنے کے ساتھ ساتھ عورت اور بچوں کو بدترین استحصال کا نشانہ بھی بنایا، مغرب نے جس تہذیب کا شجر ِخبیثہ اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا، اب خود اِس سے بیزار ہے۔، ہمیں ایسے رستے پر نہیں چلنا جو ہم سے ہماری بچی کھچی شرم و حیا بھی چھین لے، حیا ختم ہوا تو سب کچھ ختم ہو جائے گا۔
علامہ محمد اقبال نے مغربی تہذیب اور رسم و رواج کے بارے کیا خوب کہا اور گرمایا:
پیغام یہ دیتا ہے ہمیں ہر شام کا سورج
مغرب کی طرف جاؤ گے تو ڈوب جاؤ گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button