Column

مسکان خان کا پیغام ”اللہ اکبر“ ….  سی ایم رضوان

 سی ایم رضوان
”ابتدا میں، مَیں نے سوچا کہ میں خاموشی سے چلی جاؤں گی۔ لیکن وہاں بہت سے نعرے بلند ہو رہے تھے۔ میں نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا کیونکہ میں بہت ڈر گئی تھی اور جب میں ڈرتی ہوں تو اللہ کا نام لیتی ہوں۔“ یہ کہنا ہے انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ طالبہ مسکان خان کا، جو مقامی کالج میں بی کام سیکنڈ ایئر کی طالبہ ہیں۔گزشتہ دس دنوں سے مسکان کی ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں وہ حجاب پہن کر اپنے کالج میں سکوٹی پر داخل ہوتی ہیں، اِس دوران اِنہیں دیکھ کر ایک ہجوم”جے شری رام“ کے نعرے بلند کرتا مسکان کا پیچھا کرتا ہے۔ ہجوم کی جانب سے نعرے بلند کیے جانے پر وہ مڑتی ہیں اور ایک ہاتھ اٹھا کر ”اللہ اکبر“ کے نعرے لگاتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں ”مجھے کچھ معلوم نہیں تھا، میں ہمیشہ کی طرح کالج جا رہی تھی۔ باہر سے آنے والے کچھ لوگ گروپ کی شکل میں کھڑے ہوگئے اور مجھ سے کہا کہ آپ برقع پہن کر کالج کے اندر نہیں جائیں گی۔ اگر آپ کالج جانا چاہتی ہیں تو آپ کو برقع اور حجاب اُتار کر اندر جانا ہو گا۔ اگر آپ برقعے میں رہنا چاہتی ہیں تو آپ گھر واپس چلی جائیں“مگر میں اندر آ گئی۔ ابتدا میں مَیں نے سوچا کہ میں خاموشی سے چلی جاؤں گی۔ لیکن وہاں ”برقع ہٹاؤ“ اور”جے شری رام“ جیسے نعرے لگ رہے تھے۔ میں نے سوچا تھا کہ میں کلاس میں جاؤں گی لیکن وہ تمام لڑکے میرے پیچھے ایسے آ رہے تھے جیسے وہ سب مجھ پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ یہ 30 سے 40 افراد تھے۔ میں اکیلی تھی، اِن میں انسانیت نہیں ہے۔ اچانک وہ میرے پاس آئے اور چلانا شروع کر دیا۔ کچھ نے نارنجی رنگ کے سکارف پکڑے ہوئے تھے اور میرے منہ کے سامنے آ کر لہرانے لگے اور وہ کہہ رہے تھے:’جے شری رام‘، ’چلے جاؤ‘، ’برقع ہٹاؤ۔‘ جب میں پہلی بار پری یونیورسٹی (کالج) گئی تھی تو تب سے میں نے حجاب پہننا شروع کیا تھا۔ کالج میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ سب کچھ پہلے جیسا تھا۔ میں حجاب پہن کر کلاس میں جا رہی تھی۔ میں کلاس میں برقع نہیں پہنتی صرف حجاب پہنتی ہوں۔ میں اپنے بال چھپا کر کلاس اٹینڈ کرتی ہوں۔ لیکن اِس دن وہ لوگ مجھے کیمپس میں داخل نہیں ہونے دے رہے تھے۔ اِن کی بڑی تعداد باہر سے آئی ہوئی تھی۔ کالج کے چند طالب علم بھی وہاں موجود تھے۔ وہ سب مجھے ڈرا رہے تھے۔ میرے سامنے چار لڑکیاں آئیں۔ گیٹ بند تھا۔ پھر کسی طرح پرنسپل صاحب آ گئے۔ پرنسپل اور اساتذہ مجھے بحفاظت اندر لے گئے۔ لڑکے اِن پر آوازیں کستے چلے گئے، میں رو کر اندر چلی گئی پھر میرے ساتھ بھی وہی ہوا۔ میں نہیں روئی، میں نے اِس کے خلاف آواز بلند کی۔ میں نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا، کیونکہ میں ڈر گئی تھی۔ جب ڈر لگتا ہے تو اللہ کا نام لیتی ہوں۔ جب میں اللہ کا نام لیتی ہوں تو ہمت پیدا ہوتی ہے۔ کالج میں ہمارے پرنسپل نے خود کہا تھا کہ آپ حجاب پہن کر آ سکتی ہیں۔ یہ بیرونی عناصر آ کر ایسے ہی تماشا بنا رہے ہیں۔ پرنسپل صاحب نے خود کہا کہ آپ جیسے پہلے آیا کرتے تھے ایسے ہی آؤ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ باہر کے لوگ آ کر اِس قسم کے کام کر رہے ہیں۔مسکان خان محب وطن بھی ہے وہ کہتی ہے۔ مجھے اپنے انڈیا کے آئین پر یقین ہے۔ انشا اللہ ہم ہائی کورٹ کے حکم کا انتظار کر رہی ہیں۔ میری عاجزانہ گزارش ہے کہ میں یہاں کوئی ذات پات کی باتیں نہیں پھیلا رہی ہوں، چاہے کوئی ہندو ہو یا مسلمان۔ میں صرف اپنی تعلیم اور  اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوں کیونکہ ہمیں تعلیم حاصل کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ ہمیں اندر نہیں آنے دیا جا رہا،ہم حجاب پہن کر آتی ہیں۔ ہم اِسے برسوں سے پہن رہی ہیں۔ کوئی نئی چیز نہیں پہنی ہے۔ یہ لوگ تو ایسے نارنجی دوپٹے لہرا رہے تھے کہ اگر یہ برقع پہن کر آئیں گی تو ہم پھر یہ پہن کر آئیں گے۔ میرے کالج میں لڑکے پرنسپل سے کہہ رہے ہیں کہ اگر وہ برقع پہن کر آئے گی تو ہم اِس نارنجی شال کو بھی نہیں اتاریں گے۔ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ جیسے مرضی آئیں اور جو مرضی پہن کر آئیں۔ ہمیں صرف حجاب پہننے کی اجازت چاہئے۔
مسکان خان کی اِس ہمت پر دنیا بھر میں اِسے خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے۔ حجاب کا مسئلہ پچھلی کئی دہائیوں سے پوری دنیا میں موجود ہے، امریکی اسمبلی میں اِس مسئلہ پر کافی کچھ ہو چکا اور یورپین ممالک میں بھی اِس پر بڑے پیمانے پر احتجاج ہو چکے ہیں۔ مسکان خان نے گویا اِس پرانے مسئلے میں نئی جان ڈال دی ہے۔ پورے پاکستان میں لوگ اِسے ستائشی کلمات سے خراج تحسین پیش کر رہے ہیں یہاں تک کہ پاکستان علماء کونسل اور انٹرنیشنل اسلامک کونسل کی اپیل پر ہندوستان میں مسلسل اقلیتوں اور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور حجاب پر پابندی اور مسلمان خواتین کی بے حرمتی پر ملک بھر میں ”یوم یکجہتی دختران ہندوستان“ منایا گیا۔ اس موقعہ پر پاکستان سمیت پورے عالم اسلام میں ہندوستان کے مسلمانوں، خاص طور پر دختران اسلام پر مظالم کی بھرپور مذمت کی گئی اور ہندوستان کی اقلیتوں اور مظلوم مسلمانوں اور دختران ہندوستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ ہندوستانی مظالم پر اسلامی تعاون تنظیم، رابطہ عالم اسلامی سمیت تمام عالم اسلام کے اہم قائدین کو خطوط روانہ کئے گئے۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل و انٹرنیشنل اسلامک کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، سیکرٹری جنرل ڈاکٹر پروفیسر ابو بکر صدیق، مولانا قاسم قاسمی، مولانا نعمان حاشر، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا شہباز احمد، مولانا محمد اشفاق پتافی، مولانا محمد شفیع قاسمی، مولانا عاطف تنویر، صاحبزادہ حافظ ثاقب منیر اور دیگر قائدین نے کہا کہ ہندوستانی مظالم کا سلسلہ روز و شب بڑھ رہا ہے اور اس کے خاتمے کے لیے عالم اسلام اور عالمی دنیا کو بھرپور آواز بلند کرنا ہو گی۔ ایک مسلم بیٹی نے وحشت اور دہشت کے سامنے جس انداز سے اپنے حجاب اور اپنے دینی شعائر کا تحفظ کیا،اِس پر پوری اُمت مسلمہ اِسے سلام پیش کرتی ہے۔
بھارت میں صدیوں سے مسلمان اور دیگر مذاہبِ کے پیروکار رہ رہے ہیں لیکن ماضی میں کبھی بھی مسلم خواتین کے پردے پر اعتراض نہیں کیا گیا مگر جب سے ہندو توا کے پیروکار مودی نے بھارت کی حکومت سنبھالی ہے، انتہائی تشویشناک حد تک مسلمان خواتین کو اسلامی شعائر سے زبردستی دور کرنے کی کوشش بزور قوت ہورہی ہے جس کی نہ صرف اسلام بلکہ دنیا کا ہر مذہب مخالفت کرتا ہے۔ کرناٹک کی مسلمان بیٹی مسکان خان نے ہندوتوا کے غنڈوں کے سامنے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرکے پوری دنیا کے مسلمانوں کو پیغام دیا ہے کہ مسلم شعائر کے خلاف کسی بھی عسکری کوشش کے خلاف ڈٹ جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آج اگر مسکان خان نے ڈٹ کر آواز بلند کی ہے تو یہ آواز اب رُکنی نہیں چاہئے بلکہ اِس قدر بلند ہونی چاہیے کہ طاغوت کی ہر آواز دب جائے اور کفر کی ہر سازش ناکام ہو جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button