Column

سوچ بدلیں ….. امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد
مقدر،تقدیر،خوش قسمتی اور بد قسمتی ایسی اصطلاحیں ایجاد ہوئیں کہ انسان غور و فکر،تدبر اور حقیقت ایسے انمول رستوں سے محروم ہوتا چلا گیا۔ سقراط کے پاس ایک شخص آکر کہنے لگا: ”بتائیں میرا مستقبل کیسا ہوگا؟“سقراط نے ایک کاغذ منگوایا اور کہا اِس پر اپنے خیالات لکھو۔ اِس نے جو جو سوچا تھا سب لکھ ڈالا۔ سقراط نے بتا دیا کہ جیسے تمہارے خیالات ہیں، اِس کے مطابق تمہارا مستقبل ایسا ہوگا۔معروف مصنف نپولین ہل کہتا ہے: ”دنیا میں اِتنا خزانہ زمین میں سے نہیں نکالا گیا، جتنا کہ انسان نے اپنے ذہن، خیالات، تصورات اور سوچ کے سمندر سے حاصل کیا“۔اچھی سوچ ایک ایسا خزانہ ہے جس سے مٹی کو بھی سونا بنایا جاسکتا ہے، جبکہ منفی اور گھٹیا سوچ رکھنے والا شخص سونے کو ہاتھ ڈالے تو وہ بھی مٹی بن جائے۔ اچھا سوچنے والے لوگ مسائل کو حل کرنے کی بہتر اہلیت رکھتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتے کہ ایسے اِن سے کوئی ناجائز فائدہ اٹھائے اور اِن کو دھوکا دے۔ جن کی اپنی آزاد سوچ ہوتی ہے، اِن کو غلام نہیں رکھا جا سکتا اور قوموں کی غلامی اصل میں سوچ کی غلامی ہوتی ہے۔ تاریخ کے مشہور آمر حکمران اڈولف ہٹلر نے کہا تھا: ”ہم جیسے حکمرانوں کو لوگوں پر حکومت کرنے کا موقع آسانی سے مل جاتا ہے کیونکہ اکثر لوگوں کے پاس سوچ اور فکر نہیں ہوتی“۔
جان میکسویل نے چالیس سال دنیا کے کامیاب لوگوں پر تحقیق کے دوران مشاہدہ کیا کہ ایک وصف اِن سب میں مشترک ہے اور وہ یہ کہ اِن سب کا سوچنے کا انداز ایک جیسا ہوتا ہے۔ یہ اندازِفکر ہی ہے جو کامیاب اور ناکام شخص میں تفریق پیدا کرتا ہے۔ میکسویل نے یہ بھی بتایا کہ اچھا سوچنا بھی ایک فن ہے جو سیکھنا پڑتا ہے، اچھے خیالات کوئی ایسی چیز نہیں جو آپ کو ڈھونڈتے پھریں یا پھر آپ کے ذہن میں خود بخود آ جائیں، بلکہ آپ کو اِنھیں تلاش کرنا پڑتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی سوچ بہتر ہوجائے اور اچھے اچھے خیالات آپ کے ذہن میں آئیں تو جان میکسویل کے بتائے ہوئے چند طریقوں پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ایک آفاقی اصول ہے کہ برتن میں سے وہی چیز باہر آئے گی جو اِس میں ڈالی گئی ہوگی۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اِس میں ڈالیں پانی اور نکلے شہد، آپ اپنے روز مرہ معمولات میں جو کچھ دیکھیں گے، پڑھیں گے، سنیں گے، یا جس قسم کے ماحول میں آپ رہیں گے، اِسی قسم کے خیالات آپ کے ذہن میں پیدا ہونے لگیں گے۔ دنیا کے کامیاب مفکرین اور فلاسفروں نے ہمیشہ اپنے ماحول سے متاثر ہو کر ہی اتنے زبردست نظریات پیش کیے۔ نیوٹن کے سر پر اچانک درخت سے سیب گر کر لگتا ہے، پھر وہ اِس کی وجہ پر غور و فکر کرتا ہے اور آخر کار کشش ثقل کا قانون پیش کر دیتا ہے۔
مشہور انگریزی مقولہ ہے کہ اگر کسی انسان کے کردار کو پرکھنا ہو تو اِس کے دوستوں کو دیکھ لیں۔ آپ کا اُٹھنا بیٹھنا جس قسم کے لوگوں میں ہوگا، اِن کا رنگ آپ کی سوچ پر ضرور چڑھ کر رہے گا۔ خوشبو کی دکان پر جائیں گے تو کچھ نہ بھی خریدیں، پھر بھی کپڑوں میں خوشبو رچ بس جائے گی۔ کوئلے کی دکان پر جائیں گے تو کوئلہ نہیں خریدیں گے، تب بھی کپڑوں پر کالک لگ جائے گی۔ آپ اپنی سوچ کو جس سانچے میں ڈھالنا چاہتے ہیں، اِسی شعبے کے لوگوں سے میل جول بڑ ھا دیں۔ لہٰذا اچھا سوچنے والوں کی دوستی بھی انسان کو اچھی سوچ کا مالک بنا دیتی ہے۔انسان کے ذہن میں ہر وقت خیالات آتے اور جاتے رہتے ہیں، اِن میں کچھ اِس کے لیے مفید اور مثبت ہوتے ہیں، اور بعض اِس کو غلط راستے پر چلا دیتے ہیں۔ ابن العربی فرماتے ہیں ”دل کے دروازے پر دربان بن کر بیٹھ جاؤ اور دیکھو کہ کون سا خیال آتا ہے اور کون سا خیال جاتا ہے“۔ جس طرح ہم گھر کا دروازہ کھلا نہیں چھوڑتے تاکہ کوئی آوارہ کتا یا چور وغیرہ گھر میں داخل نہ ہو جائے، اِسی طرح ہمیں یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ ذہن میں آنے والا خیال مثبت ہے یا منفی؟ کیا یہ میرے کام کا ہے یا نہیں؟ خیالات اور نظریات کی زندگی بہت مختصر ہوتی ہے، یہ بہت جلد اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔ یہ انسان کا کردار اور عمل ہی ہے جو اِس کی سوچ کو زندہ رکھتا ہے۔ دنیا میں بہت سے مفکر اور دانشور گزرے جنھوں نے کامیابی کے موضوع پر درجنوں کتابیں لکھ ڈالیں، مگر اِن میں سے بعض اپنی ذاتی زندگی میں بری طرح ناکام رہے۔ اِس کی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے اوروں کو تو کامیابی کے فارمولے بتائے مگر اپنی زندگی میں اِن پر عمل نہ کر سکے۔ اِس لیے بہت سا اچھا سوچ کر اِس پر عمل نہ کرنے سے بہتر ہے کہ تھوڑا سا اچھا سوچ کر اِس پر عمل پیرا ہو جائیں۔اِسی طرح اچھی سوچ کو پروان چڑھانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جو محسوس کریں، اِس پر فوری کوئی رائے یا خیال پختہ نہ کر لیں۔ کسی واقعہ پر اپنا ردعمل ظاہر کرنے سے پہلے اِس کا اچھی طرح تجزیہ کر لیں۔ ہمیشہ اپنے جذبات پر قابو رکھیں۔ کبھی بھی جذبات کی رو میں بہہ کر کوئی منصوبہ نہ بنائیں۔ یاد رکھیں، محسوس کرنے اور سوچنے میں فرق ہوتا ہے۔ جذبات دریا کی موجوں کی طرح عارضی ہوتے ہیں جبکہ سوچ دریا کے نہ رکنے والے بہاؤ کا نام ہے۔ اپنی سوچ کی ناؤ کو جذبات کی لہروں کے رحم و کرم پر مت چھوڑیں بلکہ اپنے محسوسات اور جذبات کو اپنے اچھے خیالات کے تابع کریں۔
تحقیقات سے یہ بات ثابت ہے کہ انسان کے مستقبل پر اثر انداز ہونے والی سب اہم شے اِس کی سوچ ہی ہے۔ سوچ دو طرح کی ہوتی ہے، مثبت اور منفی۔ سوچ منفی اِس لیے ہوتی ہے کہ آدمی کو سوچنا نہیں آتا، اِس کے ذہن میں پہلے سے منفی یادداشتوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ وہ ہر واقعہ اور تجربہ کو ایک ہی عینک سے دیکھنے کا عادی ہو چکا ہوتا ہے۔ اِس کے پاس منفی سوچ کے مقابلے میں مثبت سوچ کی متبادل آپشن ہی نہیں ہوتی۔ اگر سوچنے کا فن آجائے تو اِس کو مثبت اور منفی میں سے انتخاب کرنا آجاتا ہے۔ منفی سوچ کو مثبت بنانے کا فن سیکھنا کچھ مشکل نہیں۔
جان میکسویل نے اپنی کتاب ”کامیاب لوگ کیسے سوچتے ہیں؟“ میں بتایا کہ چند اقدامات سے ہم بھی اپنی زندگی سے منفی سو چ کو کم کر سکتے ہیں۔ مثبت سوچ کے محرکات کو اپنا کر، اچھی سوچ کے مالک افراد سے دوستی کر کے، مثبت خیالات کا انتخاب کر کے، اپنی اچھی سوچ پر خود عمل کر کے، سوچ کو جذبات سے آزاد کر کے اور اچھے خیالات پر مسلسل کام کر کے سوچ بدلنا ممکن ہے۔ بس رکاوٹ صرف یہ ہے کہ آدمی اپنی سوچ کو خود نہیں بدلنا چاہتا۔اگر اِنہی باتوں کو ذہن میں رکھ کر قوم اور وطن کی تعمیر کی جائے تو ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بدقسمتی سے گذشتہ کئی دہائیوں سے بطور قوم ہم ایسے لوگوں کے نرغے میں ہیں جن کی سوچ فقط روٹی کپڑے اور مکان کے گرد گھومتی ہے اور انہوں نے اِس عظیم قوم کی بھی یہی سوچ بنا دی۔اغیار کے سرنگی اور باجوں کے عشق میں ہم اپنی مٹی سے مینا و جام پیدا کرنے سے قاصر رہے۔ابھی وقت ہے بغض اور عداوت سے نکل کر اپنی سوچ بدلو،وطن اور قوم کی تقدیر بدل جائے گی۔اگر سوچ نہ بدلی تو یقین مانیں ہماری آنے والی نسلیں بھی ڈالرز کے اتار چڑھاؤ کے چکر سے باہر نہیں نکل پائیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button