تازہ ترینخبریںپاکستان سے

23مارچ کو لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار، پی ڈی ایم کا تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان

لاہورٜ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ٟ پی ڈی ایمٞ کے سربراہی اجلاس  میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق ہوگیا۔ مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں اپوزیشن اتحاد کا اجلاس لاہور میں شہباز شریف کی رہائشگاہ پر ہوا جس میں مولانا فضل الرحمان، شہباز شریف، مریم نواز، اکرم درانی، حمزہ شہباز، سعد رفیق، عطا تارڑ، رانا ثنائ اللہ، آفتاب شیرپائو شریک ہوا جبکہ نوازشریف، اسحاق ڈار، عابد شیر علی و دیگر رہنما آن لائن شریک ہوئے۔ جبکہ مریم نواز اور شہباز شریف کی جانب سے عشائیے کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اڑھائی گھنٹے طویل اجلاس  میں لانگ مارچ اور عدم اعتماد سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس سے پہلے مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف کی ملاقات ہوئی، صدر ن لیگ نے آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے ہوئی بات چیت پر اعتماد میں لیا اور بتایا کہ ن لیگ اور پی پی نے عدم اعتماد پر اتفاق کیا ہے۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں اکثر و بیشتر سربراہان نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی کیونکہ اجلاس ہنگامی طور پر بلایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ہم اس ناجائز حکمران کے خلاف عدم اعتماد لائیں گے اور اس سلسلے میں حکومت کی حلیف جماعتوں سے بھی رابطے کریں گے کہ وہ اپنا اتحاد ختم کریں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومتی حلیف جماعتیں ملک و قوم پر رحم کریں، ملک کے مستقبل اور عوام کی بدحالی کو مدنظر رکھیں اور ایسی حکومت کے اتحادی بننا سیاسی اور اقتصادی طور پر ملک کے لئے مفید نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ہم ایک وفد بھی تشکیل دے رہے ہیں جس کے ارکان کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا، یہ حلیف جماعتوں سے رابطہ کرے گی اور ان کو اس موقف پر قائل کرنے کی کوشش کرے گی۔
نجی ٹی وی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ پہلے گرائونڈ بنائیں گے اور ہوم ورک مکمل کریں گے پھر تحریک عدم اعتماد لائیں گے اور  وفاق سے لے کر صوبوں تک جہاں ہوسکا عدم اعتماد لائیں۔ سربراہ اتحاد کا کہنا تھا کہ کہہ چکا ہوں کہ میں ہدف ایک ہی رکھوں گا، حالات کا انتظار بھی کرنا پڑتا ہے اور گرائونڈ تیار کرنے کیلئے مراحل ابھی باقی ہیں، ہم اپنی طرف سے بھرپور کوشش اور جتن کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک سے ہم رابطہ نہیں کریں گے، ہم کسی کو لالچ نہیں دیں گے اور  نہ پیسے دیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 23مارچ کو لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ برقرار ہے، سٹیرنگ کمیٹی تفصیلات طے کرے گی۔
ادھر پی ڈی ایم کے اجلاس سے پہلے ن لیگ کے رہنما رانا ثنائ اللہ نے دعویٰ کیا کہ تحریک عدم اعتماد کیلئے نمبر پورے ہیں۔ رانا ثنائ اللہ کا کہنا تھا کہ نمبر گیم کوئی مسئلہ نہیں بس یہ کلیئر ہونا ہے کہ ہم نے کس شخص کو لینا ہے اور کس کو نہیں، پہلے عدم اعتماد سپیکر یا وزیراعظم کیخلاف آئیگی، اس کا فیصلہ قیادت کریگی، عدم اعتماد لانے کیلئے تاریخ کا تعین کسی میٹنگ میں نہیں کیا جائےگا، تاریخ کا تعین نوازشریف اور دیگر جماعتوں کے سربراہ خفیہ کریں گے، امپائرز کی ضرورت نہیں ہم اپنے سیاسی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ تبدیلی سرکار نے ملک تباہ کر دیا، کسانوں سمیت تمام طبقوں کا معاشی قتل جاری ہے، حالات کی بہتری اور جمہوری استحکام کے لئے عمران خان کو ہٹانا ضروری ہے۔
مظفر گڑھ میں نور ربانی کھر کی وفات پر اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  27فروری کے عوامی مارچ کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں، 27فروری کو کراچی سے نکلیں گے اور سندھ سے ہوتے ہوئے پنجاب میں داخل ہوں گے ، پیپلز پارٹی کی اس جدو جہد کا مقصد عوام کے پاس جا کر اپنا پیغام پہنچانا ہے، مہنگائی، غربت اور بے روزگاری تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، مارچ کا مقصد عوام کو بتانا ہے کہ تبدیلی کے نام پر تباہی ہو رہی ہے، کھادوں کے بحران سے کسانوں کا معاشی قتل بھی ہوا ہے، ہر طبقے کا معاشی قتل ہو رہا ہے، پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کی بنیاد رکھی اور اس بات پر سب متفق ہیں کہ عمران کو تو جانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button