Column

پیناڈول سے باربی ڈول تک ….. ناصر شیرازی

ناصر شیرازی

نئی حکومت کے اقتدارسنبھالنے کے فوراً بعد اپوزیشن جماعتیں خصوصی عینکوں کی خریداری کرتی ہیں جن کی مدد سے حکومتی پالیسیوں میں کیڑے تلاش کیے جاسکیں، اِس کے علاوہ کچھ ایسے آلات کا انتظام بھی کیا جاتا ہے جن کی مدد سے کیڑوں کی عدم دستیابی کی صورت میں کیڑے ڈالنے کاکام کیا جاسکے۔ یہ عینکیں اورآلات اپوزیشن کی ترجمانی پر آمادہ تمام مکتبہ فکر کی چیدہ چیدہ شخصیات کو بطور تحفہ بھی دئیے جاتے ہیں کہ وہ سب مل کر اِس کارخیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔سال بھر کی نیٹ پریکٹس کے بعد ہر روز نیا میچ نئی گراﺅنڈ میں کھیلا جاتا ہے جس کا کبھی فیصلہ نہیں ہوتا۔ اِن میچوں کے دوران نہایت دلچسپ مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں،کبھی کوئی اپنا فُل بوٹ اُتار کر سامنے رکھی میز پر رکھ دیتا ہے، کوئی بھاگتابھاگتا کسی کے بیڈ روم میں گھس کر اُس کی کہانی بیان کرنے لگتا ہے تو کبھی کوئی سامنے بیٹھے اپنے مخالف کی شان میں ایسی آزاد نظم پیش کرتا ہے جسے مدتوں بھلایا نہیں جاسکتا۔ اِس کھیل تماشے میں عوامی دلچسپی قریباً دو برس تک رہتی ہے، پھر قوم بے زار ہوکر سیاسی ڈرامے دیکھناشروع کردیتی ہے اور سوچتی ہے کہ اپنے کام کاج پر توجہ دی جائے، حکومت بھی یہی چاہتی ہے کہ لوگ روزمرہ زندگی کی طرف توجہ دیں، ٹھیک اِس لمحے ادراک کیا جاتا ہے کہ ”اپوزیشن میلہ“ اُجڑنے کو ہے، لہٰذا بلا سوچے سمجھے بغیر کسی تیاری کے اعلان کردیاجاتا ہے کہ حکومت کو گھر بھیجنے کا فیصلہ ہوچکا ہے، عنقریب تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی، پہلے چھوٹے پہلوانوں کی چھٹی کرائی جائے گی پھر آخر میںبڑے پہلوان سے جوڑ پڑے گا، سیاسی گرما گرمی میں اضافہ ہوجاتا ہے، عام آدمی بھی کام کاج چھوڑ کر ایک مرتبہ اِس دنگل میں فتح و شکست پر نظریں جماکے بیٹھ جاتا ہے، کاروباری سرگرمیاں رک جاتی ہیں، دنگل کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا، یہی فلم متعدد مرتبہ نئے رائٹر، ڈائریکٹر، ہیرو اور نئی کاسٹ کے ساتھ بنانے کا اعلان کیا جاتا ہے، ملک کے مقبول ترین سیاسی میوزک ڈائریکٹر اور گیت نگار حضرات کی خدمات حاصل کی جاتی ہے، خوب تشہیر کی جاتی ہے کہ ایسا شاہکار آرہا ہے جو مدتوں یاد رہے گا، نئی فلم کی تیاریوں کے حوالے سے خبریں آتی رہتی ہیں، کبھی ہیرو کو بخار کبھی ہیروئن کی عدم دستیابی، کبھی رائٹر موجود نہیں، کبھی ڈائریکٹر غائب، جو کام نوماہ میں ہوسکتا ہے وہ تین برس تک نہیں ہوپاتا، پھر اچانک اعلان ہوتا ہے کہ ہم نہایت رازداری سے فلم بنارہے ہیں، ریلیز کی تاریخ اور نمائش کے لیے منتخب شہروں کا اعلان کردیاجاتا ہے، قوم ایک مرتبہ پھر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر فلم ریلیز ہونے کا انتظار شروع کردیتی ہے،ریلیز کے لیے مارچ کامہینہ اور 23تاریخ کا اعلان کیاگیا ہے جس پر اب کوئی اعتبار کرنے کو تیار نہیں، فلم کے فنانسرز میںسے بعض نے کہنا شروع کردیا ہے کہ اب فلم ریلیز کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، اِس کے لیے بہترین وقت گزشتہ برس تھا ،اب ریلیزکیا گیاتو سب سرمایہ ڈوب جائے گا، ہیرو ، ہیروئن ،رائٹر، ڈائریکٹر سب فلاپ ہوجائیں گے، صرف گانوں اور میوزک کے زور پرفلم کامیاب نہیں ہوگی، اِن باتوں کا مطلب صاف ہے کہ حکومت کو اپنی باقی مدت پوری کرنے دی جائے، یہاں اہم سوال ہے کہ حکومت تو اپنی مدت پوری کرنے کی طرف قدم بہ قدم بڑھتی ہی رہی، اپوزیشن کے اِس کردار کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت کو قدم قدم پر بریک لگتے رہے، سرمایہ دار نااُمید ہوکر اپنے پراجیکٹ روک کر اِس انتظار میںبیٹھ گئے کہ پہلے دیکھ لیں فلم کامیاب رہتی ہے یا پہلے ہی شو کے بعد سپرہٹ فلاپ ہوکر ڈبوں میں بند ہوجاتی ہے۔

حکومت کی بعض پالیسیوں سے بھرپور اختلاف کی گنجائش موجود ہے لیکن اپوزیشن نے اپنی حکمت عملی سے ملک کو بے حد اقتصادی نقصان پہنچایا ہے، جس کی تلافی نہ ہوسکے گی، وہ اگراتنا دم خم نہ رکھتے تھے تو تین برس سے زائد عرصہ تک قوم کو گمراہ کرنے کا کوئی جواز نہ تھا۔

گزشتہ دور میں ا زخود اختیارات کے تحت فرزند راولپنڈی کا ٹائٹل لیتے ہوئے سیاستدان کہا کرتے تھے کہ آصف زرداری اور پیپلزپارٹی، نواز حکومت کی انشورنس پالیسی ہیں جس کے ہوتے ہوئے نون لیگ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، تحریک انصاف کی حکومت کے لیے کسی انشورنس پالیسی سے بھی بڑھ کر کوئی چیز ہے جس کی موجودگی میں حکومت کو کوئی خطر ہ نہیں۔ ملک میں موجود سیاسی طوطے چڑیاں ہر مہینے حکومت گھر جانے کی خبر دیتے ہیں جو خبر نہیں صرف چغلی ثابت ہوتی ہے۔
حکومت جس ڈگرپر چل رہی ہے اِسی ڈگر پر رہے گی، ماہ و سال اِس کے کارناموں سے بھرے پڑے ہیں اِس کے خلاف اپوزیشن نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کی ہے نہ آئندہ پیش ہونے کا امکان ہے ۔ اگر وہ دن آ بھی گیا تو اِس کا حشر وہی ہو گا جو اِس سے قبل چیئرمین سینیٹ کے انتخاب، پارلیمنٹ میں متعدد موقعوں اور پھر سینیٹ میں ایک اہم بل کی منظوری کے موقعے پر نظر آیا۔
مورخ جب اِس دور کی تاریخ لکھے گا تو اِس میں سب سے دلچسپ باب سیاسی جماعتوں ،اِن کے سربراہوں، اِن کے قول و فعل میں تضاد ، اپوزیشن جماعتوں اور اِن کے سربراہوں کا ایک دوسرے پر عدم اعتماد اور قوم کو نئے نئے لارے دینے سے متعلق ہوگا۔ سیاسی عدم اعتماد اپنی وقعت کھو بیٹھا ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے ہمت کرتے ہوئے کرونا، کروم اور اِس کے بچوں پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اپنے ملک میں تمام پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اِن کی دیکھا دیکھی ماضی میں برطانیہ کے غلام رہنے والے بھی کرونا پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کرنے والے تھے کہ انکل سام نے روک دیا ہے، اِن کا فیصلہ انکل ٹام کے خلاف ہے، وہ ابھی یہ پابندیاں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ جن ملکوں کی معیشت مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئی اِسے تباہ کیا جا سکے۔

پاکستان کے دل شہر لاہور میں پی ایس ایل کا ایڈیشن شروع ہو چکا ہے، سٹیڈیم میں داخلہ کے لیے پابندیاں نہ ہونے کے برابر ہیں ، جو کہہ دے گا کہ ویکسی نیشن ہو چکی ہے وہ داخلے کا حقدار ہو گا۔ عزم ہے کہ سٹیڈیم تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرے نظر آئیں ، یوں سپانسرز اور ایڈورٹائزر اُمڈے چلے آئیں گے جو خرچے پورے کرنے کے ساتھ اِس مرتبہ منافع کاباعث بنیں گے۔ پی ایس ایل کے خاتمہ کے بعد ایک مرتبہ پھر ہم پابندیوں کی زد میں ہوں گے۔ متاثرین کی تعداد ہوشربابتائی جائے گی، موت کاخوف خوب خوب بکے گا بلکہ اِس خوف کی خریداری لازمی قرار دی جائے گی۔ پاکستان دنیا کی سب سے بڑی اور نیوکلیئر ریاست میں کچھ ایسی حیرت انگیز باتیں ، گھاتیں اور راتیں آتی ہیں جو دنیا کی کسی بستی میں نہیں آتیں۔ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ دو روپے میں دس گولیوں کا پیناڈول کا پتہ پہلے سو روپے میں پھر ملک بھر کی مارکیٹوں سے غائب ہو جائے گا۔ کتنا بڑا ملک کتنی بڑی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کتنے ادارے، کتنی حکومتیں سب مل کر بھی پیناڈول کی دستیابی کو یقینی نہیں بنا سکے، جو گھرگھر کی ضرورت بن گئی ہے۔ دوسری طرف نظام کی باگ ڈور گنتی کی چند ”باربی ڈول“ کے ہاتھ نظر آتی ہے، کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام ہو یا بڑے سے بڑا کام، باربی ڈول کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں۔ لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے سابق رہنما الطاف حسین نے بھی ایک ایسے ہی کردار سے ملاقات کی ہے جو کبھی باربی ڈول تھی مگر اب باربی ڈھول بن چکی ہے۔ وہ چاہے تو ہتھیلی پر سرسوں جما سکتی ہے۔ الطاف حسین ملک واپسی کے ساتھ مکمل معافی چاہتے ہیں، کئی باربی ڈول، کئی باربی ڈھول متحرک ہو چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button