تازہ ترینخبریںصحتصحت و سائنس

سمندری جانور سے جان بچانے والی ادویہ بنانا ممکن

اس سمندری جانور کی لمبائی 8سے 10سینٹی میٹر لمبی ہوسکتی ہے لیکن اس میں کئی اقسام کے زہر پائے جاتے ہیں جو کئی بیماریوں کے لیے شفا ثابت ہوسکتے ہیں۔
کوئنز لینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی ڈاکٹر لورین ایش وُڈ اور ان کے ساتھیوں نے کئی اقسام کے سی اینیمن کا مطالعہ کیا ہے۔ ان میں سے ایک مشہور سی اینیمن میں 84طرح کے زہر پائے جاتے ہیں۔ ماہرین نے دیکھا ہے کہ جانور کی آنتوں، اس کے ابھار اور جسم کے دیگر حصوں میں طرح طرح کے زہر موجود ہیں۔
ڈاکٹر لورین کے مطابق اس کے ہر زہر کا کام بھی الگ ہے۔ کسی زہر سے یہ شکار کو بے بس کرتا ہے، دوسرے زہر سے یہ اپنا دفاع کرتا ہے اور تیسرے زہر سے نظامِ ہاضمہ کا کام لیتا ہے۔ مختلف اقسام کے خلیات سے یہ زہر خارج ہوتا رہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سائنسدانوں نے ان زہروں کے معالجاتی پہلوئوں پر غور شروع کیا ہے۔ اس زہریلے سی اینیمن کا نام Telmatactis stephensoniہے جو آسٹریلیا کے سمندروں میں پایا جاتا ہے۔
لیکن اب تک ایک ہی جانور میں زہر کی اتنی بڑی مقدار کبھی نہیں دیکھی گئی ہے۔ اس کا زہر نکال کر ہنگری میں موجود ایک جدید لیبارٹری میں بھجوایا گیا ہے۔ سب سے پہلے اس میں ایک نئے زہر یو ٹی ایس ٹی ایکس ون کا انکشاف ہوا ہے جس سے خود سائنس نا واقف تھی۔
یہ زہر چکنائی کو چھوٹے سالمات میں توڑتا ہے۔ دوسرے زہر سے درد دور کرنے والی ادویہ بنائی جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور زہر ملا ہے جو نیوروٹاکسن ہے اور ایک بلاکر کے طور پر کام کرتے ہوئے کمر کے شدید درد کا علاج بن سکتا ہے۔
اس طرح یہ چھوٹا سا جانور کئی طرح کا ادویاتی دوا خانہ ثابت ہوسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button