Column

معاشرے میں بڑھتی زہرقاتل تفریق ….. محمد الیاس رانا

محمد الیاس رانا ……

پاکستان کی سیاست عجیب دور میں داخل ہو گئی ہے ، کسی کے پاس کوئی دلیل ہے اور نہ ہی کوئی ملک و قوم کی خاطر کسی کو قائل کرنے کے لیے کوشاں نظر آتا ہے۔ جو زبان اور رویہ سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کے کارکنان ایک دوسرے کے ساتھ روا رکھتے ہیں وہی میڈیا میں ،ایوان بالا اور ایوان زیریں میںبھی دیکھنے کو ملتا ہے ، پارلیمنٹ میں موجودیہ سرکردہ رہنما سوشل میڈیا پر ذمہ داریاںنبھانے والوں سے سیکھ رہے ہیں یاجو سوشل میڈیا پر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں وہ اپنے رہنماﺅںسے سیکھ رہے ہیں اِس کا فیصلہ عوام پر چھوڑتا ہوں لیکن جس معاشرے میں اِتنی تلخی ہو، ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنے کا حوصلہ نہ ہو وہ معاشرے کبھی مہذب ہو سکتے ہیں اور نہ ترقی کامنہ دیکھتے ہیں۔حکومتیں بیشک دعوے کرتی رہیں کہ ہماری معیشت 5یا 6فیصد سے گروتھ کر رہی ہے لیکن آپ اپنے معاشرے میں تحمل ،برداشت اور دلیل کی سطح کو دیکھیں تواِس کی گروتھ منفی میں ہے اورعدم برداشت ، اپنا نقطہ نظر ٹھونسنا یا طاقت کے ذریعے منوانا اِس میں شاید ہی ہم نے کسی ملک کو اپنے قریب بھی آنے دیا ہو۔

ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم نے یہاں پر نصاب کے معاملے میں تقسیم پیدا کی ، جس نے ہمارے بچوں کی روح تک کوتقسیم کر دیا ہے ۔ معاشرے میں بد ترین تفریق کی ایک مثال بھی پیش کر سکتا ہوں جس کا میں خود چشم دید گواہ ہوں۔کرونا کی پہلی لہر کے دوران بہت خوف و ہراس تھا ،صوبائی دارالحکومت لاہورکی ایک پوش ہاﺅسنگ سوسائٹی کے داخلی راستے پر اِس قدر سختی کر دی گئی کہ باہر سے آنے والے (جو سوسائٹی کا رہائشی نہ ہو )کوسوسائٹی کے مکینوں کی اجازت کے بغیر سوسائٹی کے اندرداخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ میں بھی اتفاق سے ضروری کام کے سلسلہ میں اِس سوسائٹی میں چلا گیا ، میں گاڑی پر تھا ، مجھے رابطے کے بعد اندرجانے کی اجازت دیدی گئی لیکن میرے ساتھ کئی موٹرسائیکل سوار بھی وہاں کھڑے تھے جن میں سے کچھ نے سوسائٹی کے اندررہائش پذیرلوگوںسے اُجرت لینا تھی یا اپنی دوسری کسی ضرورت کی غرض سے اندر جانا چاہتاتھالیکن اِنہیں اندر رابطہ کئے بغیر ہی وہاں سے واپس بھجوا دیا گیا ، میں گاڑی پر تھا میرے لیے اندر رابطہ بھی کیا گیا او راندر سے بلاوا بھی آ گیا اور دوسری جانب موٹر سائیکل سواروں کے بارے میں اندراطلاع دینا تک گوارہ نہیں کی گیا اور اگر کوئی موٹر سائیکل سوار اپنے موبائل سے رابطہ کر لیتا تو بھی اِسے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی ، سوسائٹی میں رہائش رکھنے والوں کا کوئی ملازم ہی با ہر آ کر اِس سے مل سکتاتھا۔ اِس واقعہ کا ذکر کرنے کا مقصد ہرگز گاڑی والے کی برتری اور موٹر سائیکل سواروں کی تذلیل کرنا نہیں بلکہ وہ تفریق بتانا ہے جو ہمارے معاشرے میںپروان چڑھ رہی ہے اور جو میں نے بتایا ہے وہ اِس کا عشرعشیر بھی نہیں جس طرح کی تفریق ہمارے معاشرے میں پروان چڑھ رہی ہے۔

ہمارے بہت سے دوست بیرون ممالک سے آ کراِن ممالک میں قانون پر عملداری اورانسانیت سے محبت کے حوالے سے کہانیاں سناتے ہیں لیکن جب وہ یہاں آتے ہیں اِنہیں بھی اِسی رنگ میں رنگتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔یہاں لوگ جب اپنے بچوں کے ساتھ باہر کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے جاتے ہیں تو اپنا رعب جمانے کے لیے گھریلو ملازم بھی ساتھ لے لیتے ہیں جو اِن کا سامان یا چھوٹے بچوںکو اٹھاتاہے ، فیملی ایک وقت میں ہزاروں روپے کا کھاناکھا جاتی ہے لیکن ساتھ آیا گھریلو ملازم یا ڈرائیور ایک طرف بیٹھ کر اِن کے کھانے سے فارغ ہونے کا انتظار کر تے ہیں، ایسے واقعات اکثریت میں پیش آتے ہیں اِس لیے اِس کا ذکر کر رہا ہوں۔ویسے تو معاشرے میںسدھارلانے کے لیے ہر کسی کو اپنا انفراد ی کردار ادا کرنا ہوگااور یہی اجتماعی کردار کی صورت اختیارکرے گا لیکن یہاں پر ٹرینڈ چلتے ہیں ، رہنمائی میں لوگ زیادہ جلدی سیکھتے اور اِس پر عمل پیرا ہوتے ہیں ،اِس لیے سیاسی جماعتوں کی قیادت، مرکزی رہنماﺅں اور متحرک کارکنوںپر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سیاست ضرورکریں لیکن اِس میں معیار اپنائیں تاکہ سیاستدان کو بھی اصلاح کرنے والے اور رہنمائی کرنے والے کے طور پر دیکھا جا سکے۔ یقین مانیے ہمارامعاشرہ اخلاقی طور پر دیوالیہ پن کی انتہاکو پہنچ رہا ہے اور اکثریت کسی بھی برائی جس میں حق تلفی ہو یا کسی کی پگڑی اچھالنے کا معاملہ ہو اِس پر کوئی ندامت محسوس نہیں کرتی بلکہ اس کا کریڈٹ لیا جاتاہے۔اگر ہم نے اپنے معاشرے میں تفریق کو ختم کرنا ہے ، ایک دوسرے کے لیے احساس کا درد جگانا ہے ، قانون پر عملداری ،تحمل اوربرداشت کو فروغ دینا ہے تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ معذرت سے یہ کہنا پڑے گا کہ موجودہ حکومت کا یکساں نصاب کا دعویٰ ابھی تک حقیقت کا روپ نہیں دھار سکا۔ وفاقی اورصوبائی وزیر تعلیم بتائیں کیا انہوںنے سرکاری سکولوں کے نصاب کو اِس معیار کا بنا دیا ہے کہ ِان کے اپنے بچے ، پوتے پوتیاں یانواسے نواسیاں ایلیٹ سکولوں سے سرکاری سکولوں میں منتقل ہو گئے ہیںتو ایسا ہرگزنہیں ہے۔

وہ لوگ جو عوام کے لیے پالیسیاں بناتے ہیں جب وہ غریب کے مستقبل سے قطعی لا تعلق اور اِن کی مشکل اور درد سے آشنا ہی نہیں ہیں تو وہ کیا پالیسی دیں گے بلکہ وہ ڈنگ ٹپاﺅ ہوگا۔وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ اعلان کریں کابینہ میں بیٹھے وزراء، بیورو کریسی کے بچے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کریں گے پھر آپ دیکھیں سرکاری سکولوں کی حالت کیسے تبدیل ہوتی ہے۔ہمارے معاشرے میں بے پناہ بیگاڑ ہیں اورمیں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ کوئی بھی حکومت آ جائے وہ پانچ سال تو کیا دس سالوںمیںبھی اِس بیگاڑ کودرست نہیں کر سکتی کیونکہ ہمیںاپنی سمت کا ہی معلوم نہیں ہے کہ ہم نے کن معاشروں کی قطار میں کھڑاہونا ہے۔ حکومت کو اپنی پڑی ہے،اپوزیشن کی سمت کسی اورطرف ہے، اگر حکومت کے بقول سٹیٹ بینک کو خود مختاری دینے کا ترمیمی بل اتنا ہی نا گزیر تھا تو اپوزیشن کو کیوں قائل نہیں کیا جا سکا۔ اپوزیشن اِس بل کو سٹیٹ بینک کو عالمی اداروںکے پاس گروی رکھنے سے تشبیہ دیتی ہے۔ ایسے معاملا ت ہی نہ صرف ہمارے ملک کو تقسیم کر رہے ہیں بلکہ ہمارے دشمنوں سمیت عالمی ادارے بھی اِس پر خوش ہوتے ہیں اور جب وہ اِس طرح کی صورتحال دیکھتے ہیں تو اپنی شرائط بھی کڑی کر دیتے ہیں ، انہیں معلوم ہے کہ اِس قوم میں اتنا دم خم نہیں کہ یہ اکٹھے بیٹھ کرسوچیں اور کوئی حل نکالیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button