Column

تماشا،ڈگڈگی اور سیاسی شعبدہ باز

کاشف بشیر خان …….

پاکستان کی 74 سالہ تاریخ میں اور کچھ ہوا ہو یا نہیں، لیکن اِس میں تماشوں کی بھرمار ہے۔دراصل تماشا ایک ایسے فعل کو کہتے ہیں جس میں فارغ لوگ ایک ایسے فعل کو دیکھنے میں مصروف ہوتے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا یا اِس میں عام لوگوں کے لیے تفریح کا سامان ہو۔ ماضی میں پاکستان کے مختلف شہروں،قصبوں اور گاو ¿ں کے گلی، بازاروں میں ایسے تماشے عام ہوا کرتے تھے، جن کو لوگوں کی بڑی تعداد بے فکری سے دیکھ کر خوش ہوا کرتی تھی۔ تماشا کرنے والے ڈگڈگی بجا کر لوگوں کو اکٹھا کرتے اور پھر تماشے دکھا کر اپنی روزی روٹی کا بندوبست کرتے ۔اِن تماشوں کا حقیقت سے دور کا بھی کوئی تعلق نہ ہوتا اور یہ تماشے ڈگڈگی بجانے والوں کے حصول رزق کا ذریعہ ہوا کرتے تھے۔ اگر ماضی کے اوراق پلٹیں تو ہم میں سے اکثریت کو کسی سڑک کنارے پر ہونے والے ایسے تماشے یاد آجائیں گے جس میں تماشا گیر اپنی چکنی چپڑی زبان اور جملوں سے عوام کو رجھاکر لوگوں کی جیبوں سے پیسے نکلوانے میں کامیاب نظر آتاتھا۔

پاکستان بننے سے پہلے آزادی دلانے والے حقیقی لیڈران عوام کے بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب کرتے رہے لیکن اِن اجتماعات(جلسوں) میں سیاست کی بجائے پا کستان بننے کی بات ہوتی تھی۔پاکستان بننے کے بعد چند سال تک تو سکون رہا لیکن پھر اِنہی اجتماعات پر سیاسی رنگ غالب آنے لگا اور مختلف سیاسی رہنماو ¿ں نے اِن جلسوں کو عوام کو خواب دینے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا تو یہ اجتماعات سیاسی و انتخابی جلسوں میں تبدیل ہونا شروع ہو گئے۔ اگر اِن جلسوں کو سیاسی ہی رہنے دیا جاتا تو کوئی برائی نہیں تھی لیکن رفتہ رفتہ اِن سیاسی و انتخابی جلسوں کا تماشوں میں تبدیل ہونا اِس ملک کا سب سے بڑا المیہ ثابت ہوا۔ اَب قارئین سوچیں گے کہ کہاں سیاسی جلسہ اور کہاں تماشا؟ لیکن اگر پاکستان میں پچھلے پچاس ساٹھ سال کی سیاست پر نظر دوڑائیں تو بہت آسانی سے معلوم ہو جائے گا کہ پاکستان میں موجود سیاستدان (جو کہ کرپٹ سابق حکمران بھی ہیں )نے پہلے جلسوں میں اور پھر اپنی حکومتوں میں عوام سے کیسے کیسے تماشے رچائے۔ایسے ایسے تماشے کہ جنہوں نے نہ صرف عوام کو سیدھی راہ سے ہٹا دیا بلکہ انہیں اپنے حقوق سے بھی غافل کر ڈالا۔

ستر اور اَسی کی دہائی میں سڑک کنارے ہونے والے چھوٹے چھوٹے تماشے کم ہوتے گئے اور اِن کی جگہ بڑے چھوٹے سیاسی تماشا نما جلسوں نے لے لی۔ڈگڈگی بجانے والے کی جگہ اَب نام نہاد سیاسی رہنماو ¿ں نے لے لی تھی ۔لاہور کے تاریخی موچی گیٹ سے ہوتے ہوئے یہ سیاسی تماشے مینار پاکستان کے ساتھ تلے پہنچ گئے اور اِن میں شریک ہونے والے سادہ لوح عوام کی تعداد بھی سینکڑوں سے ہزاروں اور کبھی کبھار لاکھوں میں پہنچ چکی تھی۔ شروع میں تو نوابزادہ نصر اللہ خان، آغا شورش کشمیری،ولی خان، حبیب جالب اور ذوالفقار علی بھٹو جیسے قیمتی لوگ اِن جلسوں میں آتے اور عوام کے دل کی بات کرتے تھے۔یہ وہ سیاستدان تھے جن پر اِن کا دشمن بھی کبھی کرپشن کا الزام نہیں لگا سکتا تھا۔اِن سب کے نظریات گو مختلف تھے لیکن اِن کی ایمانداری اور قوم سے درد سب ہی محسوس کر سکتے تھے ۔ اِن کے جلسوں میں جانا عوام کے لیے فائدہ مند تھا کہ اِس سے عوام میں سیاسی شعور کے ساتھ ساتھ حقوق کے حصول کی ترغیب ہوا کرتی تھی۔

پھر 1977 کا سال آیا اور ملک میں طویل مارشل لاءلگ گیا جس نے قوم کی فکری سمت کو تہہ و بالا کر ڈالا اور جلسے جلوسوں پر پابندی لگا دی گئی اور پھر جب محمد خان جونیجو نے بطور وزیر اعظم پاکستان بینظیر بھٹو کو لاہور ائیر پورٹ پر اترنے کی جازت دی تو چشم فلک نے لاکھوں افراد کا سمندر لاہور میں دیکھا اور مینار پاکستان پر محترمہ بینظیر بھٹو کا خطاب سنا،اِس خطاب میں بھی محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے باپ کے قاتل کے بارے میں مہذب زبان ہی استعمال کی اور عوام کے حقوق کی بات کرتے ہوئے مارشل لاءکے خاتمے کی بات کی تھی، لیکن بینظیر بھٹو کے خلاف کس شخص کو لایا گیا وہ لاہور کے علاقے گوالمنڈی کی ایک لوہار فیملی کا چشم و چراغ تھا۔

شریف فیملی نے نواز شریف کو کرکٹر بنوانے کی کوشش کی وہاں سے ناکامی کے بعد موصوف کو پولیس میں بھرتی کروانے کی کوشش میں بھی ناکامی ہوئی تو 1978 میں میاں نواز شریف کو اِس وقت کے گورنر غلام جیلانی کے پاس چھوڑ دیا گیا جنہوں نے میاں نواز شریف کی پولیس میں بھرتی ہونے کی معصوم سی خواہش کو انہیں رضاکاروں کا لاہور کا انچارج بنواکر پوری کرنے کی کوشش کی۔(یاد کرنے کی ضرورت ہے کہ رضا کاروں کی وردی بھی پولیس جیسی ہوا کرتی تھی) قریباً تین سال کی خدمت گزاری کے بعد غلام جیلانی نے میاں نواز شریف کو پنجاب کا وزیر خزانہ بنوا دیا تھا۔اِس حقیقت کی تصدیق مشہور سیاسی شخصیت میاں زاہد سرفراز سے آج بھی کی جا سکتی ہے جو میرے پروگرام میں یہ سب انکشافات کر چکے ہیں۔خیر بات ہو رہی تھی تماشا لگانے کی۔

جب محترمہ بینظیر بھٹو 1988 میں اقتدار میں آئیں تو اِس مقبول ترین سیاسی رہنما کا مقابلہ کرنے کے لیے جو جلسے منعقد کئے گئے اِن میں سیاست کم اور تماشے زیادہ لگائے جانے کی روایت ڈالی گئی لیکن افسوس ناک اور شرمناک بات یہ تھی کہ اِن سیاسی تماشوں میں غیر مہذب اور غیر اخلاقی زبان کی ترویج کی بنیاد ڈالی گئی۔لاہور کے بازار حسن کے ایک جلسے میں جماعت اسلامی کے لاہور سے متعدد مرتبہ ممبر قومی اسمبلی بننے والے مرحوم سیاستدان سے نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو کے لیے دو کوٹھے خالی کروانے کی بات کروانے والے شہباز شریف اور نواز شریف ہی تھے۔

گڑھی شاہو میں راقم نے 1988 کے ضمنی انتخابات میں میاں عمر حیات کے انتخابی جلسے میں میاں نواز شریف ،اعجاز الحق اور دوسرے سیاسی رہنماو ¿ں کو بینظیر بھٹو کا نام لے کر انتہائی غیر اخلاقی اشارے کرتے دیکھ کر جو نفرت میرے دوستوں اور میرے دل میں پیدا ہوئی تھی اس کا اظہار آج بھی مشکل ہے۔یہ وہ دور تھا کہ جس میں سیاسی جلسوں کو گوالمنڈی کے سیاستدان نے تماشوں میں بدل دیا تھا۔ایسے تماشے کہ جن کا تماشا گیر گلی گلی میں تماشا کرنے والے سے اِخلاقی طور پر انتہائی پست تھا۔

1997 میں لاہور کے ایوانِ اقبال میں اِس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بارے میں اِنتہائی غیر اخلاقی زبان اور غیر مہذب زبان و اشارے استعمال کرنے والوں میں پرویز رشید اور دوسرے وزراءکے ساتھ اِس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف بھی شامل تھے۔پاکستان کی سیاست میں تماشا لگانے کا سلسلہ شروع کرنے کا”سہرا“میاں نواز شریف کے سر ہی باندھا جائے گا کہ اِنہوں نے اپنی حکمرانی کے دوران بھی”تماشے“ہی لگائے اور عوام کو اِن تماشوں میں الجھا کر قومی دولت لوٹ کر بیرون ملک پہنچانے کا سفر تیزی سے طے کیا۔1993 میں پی ٹی وی پر اِس وقت کے صدر غلام اسحاق کے خلاف میاں نواز شریف کا تماشا بھی یاد کرنے کی ضرورت ہے۔

شہباز شریف بھی ذوالفقار علی بھٹو کے قدرتی سٹائل کی نقل کرتے ہوئے مائیک پھینکنے کا تماشا متعدد مرتبہ لگاتے نظر آتے تھے۔ ماڈل ٹاو ¿ن میں عوام کا قتل عام کہ جس میں نواز شریف، شہباز شریف اور 18 دوسرے اِس وقت کے وزراءنامزد ملزم ہیں بھی ایک ایسا ہی حکومتی تماشا تھاجس کے مرکزی ملزمان(نواز شریف، شہباز شریف، رانا ثنااللہ، خواجہ سعد رفیق وغیرہ)آج بھی بغیر کسی ضمانت کے دندناتے پھر رہے ہیں۔آج بھی اگر اِس جماعت کے خاندانی وارثوں(مریم صفدر، حمزہ شہبازاورصفدر اعوان)اوراِن کے حواریوں(عظمی بخاری،مریم اورنگزیب اورعطا تارڑ وغیرہ)کی میڈیا یا عوام سے بات کرتے ہوئے زبان کو سنیں تو یہ ماضی میں سڑکوں پر تماشا کرنے والوں کو بھی شرمسار کر دے گی۔

افسوسناک امر ہے کہ جنرل حمید گل کے بقول گوالمنڈی سے برآمد ہونے والے ”اِن کے ہاتھ کے بنائے ہوئے بت“نے اِس قوم کو تربیت دینے کی بجائے” تماشائی“ بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور اب اِن کی صاحبزادی مریم صفدر (اپنے حواریوں کے ہمراہ) پاکستان کے لوٹے ہوئے کھربوں ڈالر سرمائے کے بل بوتے پرپاک فوج، وزیر اعظم و مختلف منتخب آئینی عہدوں کے خلاف غلیظ زبان استعمال کرتی دکھائی دیتی ہے۔ تماشائی(عوام) جو کہ چند سکوں کے عوض تماشا دیکھا کرتے تھے آج مجبور ہیں کہ اربوں ڈالر لوٹنے والے”ڈگڈگی بجانے والے سیاسی بیوفاﺅں“ کا ہر روز لگایا جانے والا”تماشا“مفت میں دیکھیں۔فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ ماضی میں سڑکوں پر چند ٹکوں کی خاطر تماشا لگانے والے بہتر تھے کہ میاں نواز شریف اور اِس کے حواری بہتر ہیں جو سیاست کی آڑ میں تماشے(شعبدے بازی) لگا کر اس قوم کو لوٹتے چلے آ رہے ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button