تازہ ترینخبریںپاکستان سے

راوی ریور فرنٹ اربن ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کیلئے کافی زمین موجود ہے، روڈا

راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کا کہنا ہے کہ راوی ریور فرنٹ اربن ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے پہلے مرحلے پر دوبارہ کام شروع کرنے کے لیے اس کے پاس سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی اجازت کے تحت کافی زمین موجود ہے۔

تاہم کسانوں اور متاثرہ افراد کے وکیل نے کہا ہے کہ اب تک [اس منصوبے کے لیے] صرف 300 ایکڑ اراضی حاصل کی گئی ہے۔

گزشتہ روز سپریم کورٹ نے راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کو ختم کرنے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے حکومت کو زمین کے صرف اس حصے پر تعمیراتی کام دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی تھی جہاں مالکان کو معاوضہ دیا جاچکا ہے۔

25 جنوری کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے 2020 کے روڈا ایکٹ کی متعدد دفعات کو غیر آئینی قرار دینے کے فیصلے سے حکومت کے منصوبے کو شدید دھچکا پہنچا۔

روڈا کے ترجمان شیر افضل بٹ کا کہنا تھا کہ حکومت نے نقد ادائیگی کے ذریعے 5 ہزار ایکڑ زمین خریدی ہے، تقریباً 25 سے 30 ہزار ایکڑ کے مالکان نے اپنی زمین اتھارٹی کو فروخت کرنے کے لیے فارم حاصل کیے۔

انہوں نے کہا کہ 15 سے 16 ہزار ایکڑ سرکاری اراضی پہلے ہی اتھارٹی کو دی جاچکی ہے اور انہیں جلد ہی اس پر ’سیفائر بے‘ کا پہلا مرحلہ شروع کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں 300 ایکڑ پر رہائشی منصوبے ’چہار باغ‘ میں 10 مرلہ سے ایک کنال تک کے ولاز تعمیر کرنے ہیں اور اس پر 12، 16 اور 45 منزلہ رہائشی فلیٹس بھی تعمیر کریں گے۔

ترجمان نے کہا کہ بوٹی پورہ علاقے میں رہائشی فلیٹ اور ولاز تعمیر کیے جائیں گے اور یہ علاقہ رنگ روڈ سے جڑے گا۔

انہوں نے درخواست گزاروں جانب سے صرف 300 ایکڑ زمین خریدنے کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دعوے صرف عدالت اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے کیے جارہے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل فہد ملک نے بتایا کہ روڈا حکام نے لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی کارروائی میں خریدی گئی زمین سے متعلق کوئی دستاویزی ثبوت کبھی پیش نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکام نے لوگوں سے 95 فیصد اراضی حاصل کرنے کا صرف دعویٰ کیا تھا اور معاوضہ ادا کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا، عدالت میں پیش کیے گئے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویز نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف ایک یا دو ایکڑ والے چھوٹے کسانوں نے مستقبل میں مسائل سے بچنے کے لیے اپنی زمین فروخت کی ہے جبکہ 100 ایکڑ سے زیادہ کے مالکان نے اپنی زمین فروخت نہیں کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button