تازہ ترینخبریںصحت

فالج سے دنیا بھر میں تقریباً60 لاکھ اموات

ماہرین صحت نے پاکستان سمیت کم اور درمیانی آمدن والے ممالک میں فالج کے بڑھتے ہوئے پھیلائو پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فالج کا مرض دائمی معذوری اور دنیا بھر میں انسانی اموات کا سب سے اہم وجہ ہے۔

دنیا بھر میں تقریباً60 لاکھ اموات فالج کی وجہ سے ہوتی ہیں جبکہ بلڈ پریشر اور تمباکو نوشی اس مرض کے پھیلائو کے اہم اسباب ہیں، صحتمندانہ طرزِ زندگی اور مرض سے متعلق آگہی کے فروغ سے فالج پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

یہ بات انہوں نے کم اور درمیانی آمدن والے ممالک میں فالج کی نگہداشت کی بہتری کے موضوع پر منعقدہ ایک سمینار کے دوران کہی۔ سیمینار کا انعقاد بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم ٟ آئی سی سی بی ایسٞ جامعہ کراچی اور کامسٹیک اسلام آباد کے باہمی تعاون سے ایل ای جے نیشنل سائنس انفارمیشن سینٹر جامعہ کراچی میں ہوا۔

اس سیمینار سے آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوارڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چودھری ، آغا خان یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع، ایرانی اسکالر ڈاکٹر مہدی فرہادی،

یونیورسٹی آف البرٹا کینیڈا کے پروفیسر ڈاکٹر اشفاق شعیب اور راشد ہسپتال دبئی کی ڈاکٹر ماریہ خان نے خطاب کیا۔ پروفیسر اقبال چوہدری نے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد کم اور درمیانی آمدن والے ممالک میں فالج کے پھیلائو کے مسئلے کو اُجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کامسٹیک او آئی سی مماملک میں سائینس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھانا چاہتا ہے، اور اس تناظر میں ایسے پروگرام شروع کیے گئے ہیں کہ جس سے مسلم ممالک میں سائنس اور تحقیق میں کم ترقی یافتہ مسلم ممالک میں بھی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا،

ڈاکٹر اقبال کے مطابق او آئی سی افریقی ممالک میں بھی متعلقہ شعبہ جات میں کام کیا جارہا ہے۔ پروفیسر محمد واسع نے کہا متعلقہ ممالک میں فالج کے پھیلائو کا تعلق نہ صرف بڑھتی ہوئی عمر سے بلکہ مدنی زندگی سے بھی ہے جبکہ مٹاپا، ورزش کا نہ کرنا، غیر متوازن غذا، ذیابطیس، تمباکو نوشی، بلڈ پریشر بھی اس مرض کے پھیلائو کا اہم سبب ہیں۔

ڈاکٹر مہدی فرہادی نے کہا فالج کی صورتِ حال کم اور درمیانی آمدن والے ممالک میں زیادہ آمدن والے ممالک کے مقابلے میں بہت خراب ہے۔ پروفیسر اشفاق شعیب نے کہا کہ فالج دنیا میں سب سے نمایاں معذوری اور اموات کا سبب ہے،

1 2اگلا صفحہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button