Uncategorized

چاند کا سفر، ناسا تیار ہو گیا

امریکی خلائی ادارے ناسا نے کئی دہائیوں بعد چاند کے لیے پہلے مشن کی منظوری دے دی۔
آرٹیمس 1 مشن کو 29 اگست کو چاند پر بھیجا جائے گا، البتہ اس میں کوئی انسان موجود نہیں ہوگا بلکہ یہ بنیادی طور پر مستقبل کے مشنز کے لیے ٹیسٹ فلائٹ ہے۔
یہ ناسا کے آرٹیمس پروگرام کا پہلا مشن ہوگا جو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ ہوگا۔اس مشن کے لیے اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) میگا راکٹ استعمال کیا جائے گا جو کہ ناسا کا اب تک کا طاقتور ترین راکٹ ہے جس کے ساتھ اورین اسپیس کرافٹ ہوگا۔
اورین اسپیس کرافٹ 42 دن کے مشن کے بعد واپس زمین پر لوٹے گا جس کے بعد انسانوں کو وہاں بھیجنے کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔ناسا کے منصوبے کے مطابق آرٹیمس 1 اسی لانچ پیڈ سے روانہ ہوگا جہاں سے 1969 میں اپولو 10 مشن کو چاند کے مدار پر بھیجا گیا تھا۔
لانچ کے ایک ہفتے بعد یہ مشن چاند کے مدار میں داخل ہوگا، جہاں وہ ایک ماہ تک رہے گا اور پھر 10 اکتوبر کو زمین پر واپس پہنچے گا۔آرٹیمس 1 مشن کے منیجر مائیک سارفن نے بتایا کہ یہ نئے راکٹ اور نئے اسپیس کرافٹ کی پہلی پرواز ہے، ہم بہت مشکل کام کررہے ہیں۔
آرٹیمس 1 کے بعد آرٹیمس 2 میں انسانوں کو خلا میں بھیجا جائے گا اور ایسا 2024 میں متوقع ہے۔آرٹیمس 3 وہ مشن ہوگا جس میں خلا بازوں کو 2025 میں چاند پر بھیجے جائے گا اور یہ وہاں کے قطب جنوبی پر لینڈ کرے گا۔
اس مشن کے لیے اسپیس ایکس کے اسٹار شپ لینڈر کو استعمال کیا جائے گا مگر مستقبل کے ان مشنز کا انحصار آرٹیمس 1 کے نتائج پر ہوگا۔
آرٹیمس 1 مشن کی تجویز 2012 میں پیش کی گئی تھی اور پہلے اسے 2017 میں لانچ کیا جانا تھا، مگر یہ تاخیر کا شکار ہوتا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button