Uncategorized

کراچی میں گرین لائن بس سروس چل پڑی، لوگوں کا جو ش و خروش

کراچی میں گرین لائن بس سروس چل پڑی۔ مسافروں کو لیکر پہلی بس صج آٹھ بجے سرجانی ٹاون سے روانہ ہوئی۔ شہریوں کی بڑی تعداد پہلے سے ہی اسٹیشن پر موجود تھی۔ مسافروں نے پہلے ٹکٹ لئے اور پھر بس میں سوار ہو گئے۔ خواتین، بزرگ اور جوان سب ہی خوش نظر آئے۔
یاد رہے کہ گرین لائن منصوبہ کی تعمیرات 2016 میں شروع ہوئی تھیں۔ 16 ارب روپے لاگت والا منصوبہ ایک سال کی مدت میں مکمل ہونا تھا۔ مگر گرین لائن 4 سال کی تاخیر کے بعد اب 35 ارب روپے سے مکمل کیا گیا ہے۔ منصوبہ کی مانیٹرنگ 900 کیمروں سے کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق سرجانی ٹاون سے نمائش تک 21 کلو میٹر روٹ پر بسیں چلائی جا رہی ہیں۔ ابتدائی طور پر محدود پیمانے پر بسیں چلائی جائیں گی۔ 80 بسوں میں سے 25 بسیں 11 اسٹیشنز پر چلائی جائیں گی۔ 10 جنوری سے مکمل آپریشنز بحال کیے جائیں گے۔ کرایہ 15 سے 55 روپے ہوگا۔ ٹکٹ کے لیے کیش کاونٹرز بنا دیئے گئے۔ ٹکٹ کے لیے ریچارج ایبل کارڈز بھی دستیاب ہوں گے۔
18 میٹر لمبی بسوں میں 40 نشستیں ہیں۔ کھڑے ہو کر اور نشستوں پر بیک وقت 150 افراد سفر کرسکیں گے، زیادہ رش کی صورت میں 190 مسافروں کی گنجائش ہوگی۔ بسوں میں معذور افراد کے لیے جگہ خصوصی ہے اور خودکار ریمپ نصب ہے۔ ہر بس میں دو وہیل چیئرز کی جگہ مخصوص ہے۔
کراچی گرین لائن منصوبے کے لیے بسیں فراہم کرنے والی کمپنی کے مطابق کراچی کی بسیں لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں چلنے والی بسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ جدید ہیں۔
یہ بسیں یورو تھری معیار کی اور ہائبرڈ ہیں، ان میں ڈیزل کے ساتھ خودکار طریقے سے چارج ہونے والی بیٹری بھی استعمال ہوگی جس سے ایندھن کی بچت کے ساتھ ماحول کو بھی فائدہ ہوگا۔ بسوں میں خصوصی سسٹم نصب ہے جو انجن میں آگ لگنے کی صورت میں خودکار طریقے سے آگ بجھائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button