پاکستان

ججز تعیناتی کیس : عدالت کا وزیراعلیٰ پنجاب کو بلانے کا عندیہ

 انسداد دہشت گردی عدالت نے ججز تعیناتی کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب کو بلانے کا عندیہ دیتے ہوئے ججز تعیناتی کیلئے قائم کمیٹی کو کل طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت میں ججزکی عدم تعیناتیوں کے کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے کہا قانون میں مشاورت کا کہا گیا ہے تو کھلی عدالت میں آکرکرلیں، ہم یہاں انصاف کے لئے بیٹھے ہیں ، حکومت تمام مقدمات میں فریق ہے توپھرججزتعیناتیوں کیلئےمشاورت کی کیا ضرورت۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نظام اسی طرح چلانا ہے تو ایک ترمیم کرکے سب کچھ ختم کردیں، عدالت کاکسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں، ایڈووکیٹ جنرل صاحب آپ بھی پارٹی نہ بنیں۔

لاہور ہائی کورٹ چیف جسٹس نے اےجی پنجاب سےاستفسار آپ کھلی عدالت میں بات کرنے سے کیوں ڈر رہے ہیں، عدالتی ریکارڈ موجود ہے آپ نے ججز تعیناتیاں جلدکرنےکی یقین دہانی کرائی، ہمارے درجنوں خط لکھنے کےباوجود تعیناتیاں نہیں ہوئیں، آپ کا طرز عمل واضح طور پر توہین عدالت ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ جب آپ نے نیب قانون ہی ختم کردیاپھرجتنےججز کی ضرورت تھی وہ بھی نہیں لگائےگئے، حکومت درست ہے یا نہیں عدالت کو اس سے کوئی سروکار نہیں، احتساب عدالت کے کتنے ججز کی سیٹیں خالی ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحاق نے بتایا کہ احتساب عدالتوں کےنو ججز کی سیٹیں خالی ہیں، انسداد دہشت گردی، احتساب عدالتوں، سروس ٹربیونل، ریونیوٹربیونل میں ججزکی سیٹیں خالی ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ویسے تو نیب قانون ہی ختم کردیاگیا اب عدالتوں کو بھی نہ رہنےدیں توہرج نہیں۔

مبہم جواب دینے پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں پیش ہونے والے لاافسران کا بڑی ذمہ داری کا کام ہے، آپ نے باربار بیان بدلے ،پہلے یقین دلایا کہ ججز تعینات کردئیے جائیں گے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اب آپ مرضی کےججز کےلئے مشاورت کاکہہ رہے ہیں،   سال 2015 سے لوگ جیل میں ہیں اور ججز تعینات نہیں ہوئے، رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ نے بار بار مراسلہ بھیجا مگر تعیناتی نہیں کی گئی، کیا یہ اقدام انصاف میں تاخیر کا سبب نہیں ہے، پہلے آگاہ کیا جائے حکومت نے پہلے کتنے معاملات میں مشاورت کا طریقہ کار اختیارکیاگیا۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ ججز کی تعیناتیوں میں تاخیر جان بوجھ کر نہیں کی گئی، سپریم کورٹ فیصلے کی روشنی میں ججز تعیناتیوں کا معاملہ کابینہ میں لے جانا ضروری ہے، رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو کل مشاورت کےلئے خط لکھا، ججز کی تعیناتیوں کے لئے مشاورت قانون کا تقاضا ہے۔

عدالتی حکم پر رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ عبدالرشید عابد عدالت پیش ہوئے، عدالت نے رجسٹرار سے استفسار کیا احتساب عدالتوں میں ججز کی سیٹیں کب سے خالی ہیں، احتساب عدالت میں سال2021  سے ججز کی آسامیاں خالی ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نےخصوصی عدالتوں میں ججزتعیناتی کیلئےقائم کمیٹی کوکل طلب کرلیا، چیف جسٹس نے کہا کہ مزید تاخیر ہونے پر وزیراعلیٰ کو بلانا پڑا تو بلایاجائے گا، کابینہ کےانچارج کی حیثیت سے فیصلہ تووزیراعلیٰ نےہی کرناہے، ججز تعیناتیوں میں تاخیر پر عدالت وزیراعلیٰ کو نہیں بلانا چاہتی۔

عدالت نے مشاورت کے طریقہ کار کے تحت ججز تعیناتیوں کاریکارڈ طلب کرلیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button