سپیشل رپورٹ

سیاستدانوں، سابق جرنیلوں کی دبئی لیکس پر وضاحت

دبئی لیکس میں نام سامنے آنے کے بعد سیاستدانوں اور سابق جرنیلوں نے وضاحت جاری کردی ہے .

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ، سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر داخلہ محسن نقوی ، سینیٹر فیصل واوڈا ، پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت اور آئی جی پی آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر سہیل حبیب تاجک نے کہا ہے کہ دبئی میں موجود ان کی جائیدادیں ڈکلیئرڈ ہیں۔

سابق لیفٹننٹ جنرل شفاعت اللہ شاہ ، سابق ڈی جی سی میجر جنرل (ر) احتشام ضمیرکے بیٹے، سابق ڈی جی ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹ میجر جنرل نجم الحسن شاہ اور میجر جنرل (ر) راجہ محمد عارف نذیر نے دبئی میں اپنی جائیدادوں کی تصدیق کی اور کہا کہ تمام جائیدادوں کو ٹیکس حکام کے سامنے ظاہر کیا جاچکا ہے ۔

اسلام آباد میں بلاول بھٹو کے ترجمان ذوالفقارعلی بدر کا کہنا تھا کہ بلاول اور آصفہ بھٹو کے تمام اثاثے ڈکلیئرڈ ہیں، بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد مذکورہ املاک انکو وراثت میں ملیں موجودہ خبر میں کچھ نیا نہیں، نہ ہی کچھ غیرقانونی ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ہم ہر سال اثاثہ جات اور جائیداد کی ڈکلیئرشن میں یہ تفصیلات جمع کرواتے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں، پہلے سے سب کچھ عوام کے علم میں ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ میری اہلیہ کے نام پر خریدی گئی دبئی پراپرٹی ٹیکس ریٹرن میں مکمل طور پر ظاہر اور درج ہے،بطور نگراں وزیراعلیٰ پنجاب الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے گوشواروں میں بھی اسے ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ پراپرٹی ایک سال پہلے فروخت کی گئی تھی، اور حال ہی میں اس رقم سے ایک نئی پراپرٹی خریدی گئی ہے۔

آئی جی پی آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر سہیل حبیب تاجک بھی الدفرہ فرسٹ الثانیہ تھرڈ میں جائیداد رکھنے کی فہرست میں شامل ہیں۔

ڈاکٹر تاجک نے جائیداد کے مالک ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے اسے 2002 میں اس وقت خریدا تھا جب وہ اقوام متحدہ میں کام کر رہے تھے۔ میری تنخواہ 10 ہزار ڈالرز تھی۔ میں نے قانونی لین دین کے طور پر یو این بینک سے رقم دبئی منتقل کی اور اسے اپنے اثاثوں میں ظاہر کیا اور یہ ہر جگہ فخر سے کہتا ہوں۔

سابق وفاقی وزیر سینیٹر فیصل واوڈا نے پراپرٹی لیکس پر ردعمل دیتے ہوئےکہا ہے کہ پراپرٹی لیکس پروپیگنڈا مہم ہے اس کی ٹائمنگ پر اعتراض ہے، پی ٹی آئی کےکسی بھی فرد کا پراپرٹی لیکس میں کوئی ذکر نہیں۔

دبئی میں پراپرٹی جائز ہے یا ناجائز سب پر ناجائز کا ٹھپہ لگا دیا گیا ۔ ایک مخصوص طبقے کو کلین چٹ دینےکا فرمائشی پروگرام بھی بنایا گیا ہے۔

فیصل واوڈا نے سوال کیا کہ کیا آنے والی اس مہم کا ہدف ایس آئی ایف سی اور دوست ملکوں کی سرمایہ کاری ہے؟ کیا آزاد کشمیر میں ہونے والی منصوبہ بندی اور اس کھیل کے کھلاڑی ایک ہی ہیں؟فیصل واوڈا نے کہا کہ اس پروپیگنڈا مہم کا حتمی ہدف کون ہے؟ وقت آنے پر سب بتائیں گے۔سابق لیفٹیننٹ جنرل شفاعت اللہ شاہ نے او سی سی آر پی کو اپنے جواب میں جائیداد کے مالک ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ ان کی تمام غیر ملکی جائیدادیں پاکستان میں ٹیکس حکام کے پاس ظاہر کی گئی ہیں، سابق ڈی جی سی میجر جنرل (ر) احتشام ضمیر، ان کے بیٹے اور دیگر بچے بھی الوارسان فرسٹ، مرینا آرکیڈ مارسا کے علاقوں میں جائیدادوں کے مالکان کی فہرست میں شامل ہیں۔

سابق ڈی جی سی میجر جنرل (ر) احتشام ضمیرکے بیٹے نے او سی سی آر پی کو اپنی جائیدادوں کی ملکیت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان سب کو ٹیکس حکام کو ظاہر کیا گیا ہے۔

سابق ڈی جی ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹ میجر جنرل نجم الحسن شاہ بھی ال سقران ٹاور الثانیہ پانچویں میں جائیداد رکھنے کی فہرست میں شامل ہیں۔ اپنے ردعمل میں جنرل (ر) نجم نے کہا کہ میں نے 2007 میں ایک آف پلان پراپرٹی خریدی۔

ہمیں بتایا گیا کہ عمارت 2014 میں مکمل ہو جائے گی اور اپارٹمنٹ ہمارے حوالے کر دیا جائے گا۔ لیکن یہ ابھی مکمل ہونا باقی ہے اور ہم فی الحال ٹاور کی انتظامیہ کے ساتھ قانونی چارہ جوئی میں ہیں کیونکہ وہ تقریباً 17 سال گزرنے کے باوجود اپارٹمنٹ کی فراہمی میں ناکام رہے۔

میجر جنرل (ر) راجہ محمد عارف نذیر بھی گالف پرومینیڈ اے ٹو، الہیبیہ تھرڈ ایریا میں جائیداد کے بارے میں لیک ہونے والے ڈیٹا میں نظر آتے ہیں۔

جنرل (ر) عارف نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ وہ مذکورہ جائیداد کے مالک ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ یہ انہیں ان کے بیٹوں نے تحفے میں دی تھی جو امریکا اور ڈنمارک میں مقیم ہیں۔

جائیداد ظاہر کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک اسے ظاہر نہیں کیا ہے کیونکہ پراپرٹی آف پلان تھی اور انہیں 2022 میں قبضہ مل گیا تھا لیکن وہ اب اسے ظاہر کردیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button