CM RizwanColumn

جمہوریت، آمریت کی کچی لسی

تحریر : سی ایم رضوان
پاکستانی پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر جہاں بھی سیاسی نظام اور حکومتی معاملات کی بات ہو۔ ملک میں جمہوریت اور آمریت کی لڑائی کی تاریخ، کرداروں اور واقعات کی بناء پر ملکی تباہی، وطن عزیز کی جگ ہنسائی اور آئین پاکستان سے چہار طرفہ بیوفائی کی باتیں اس شدت اور احساس ندامت سے شروع ہو جاتی ہیں کہ پھر اصل معاملہ کہیں بیچ میں ہی رہ جاتا ہے اور الزامات، خرافات، فضولیات، لغویات اور فروعات کا ایسا طوفان بدتمیزی شروع ہو جاتا ہے کہ الحفیظ و الامان۔
اس حوالے سی یہ کہنا بھی فضول ہے کہ یہ گھٹیا روایات ابھی یا چند سال پہلے کی شروع ہوئی ہیں بلکہ اگر دیکھا جائے تو اس قومی قباحت کی ابتداء بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی وفات سے ہی شروع ہو گئی تھی جب حکومتی ایوانوں سے مخلص قیادت کی چھٹی کروا دی گئی اور طاقت کے مراکز پر خود سر، خود پسند اور خود غرض طبقات قابض ہو گئے تھے۔ ظلم تو یہ ہے کہ تب سے لے کر آج تک کسی بھی دور میں اس قبضے اور لعنت کو ختم کرنے کی کوئی سنجیدہ یا مخلصانہ کوشش نہیں کی گئی کیونکہ دراصل دونوں متحارب گروہ ایک ہی طبقے کے لوگ ہیں ان کا مشن ایک ہی ہے کہ عام پاکستانیوں کے وسائل چند ہاتھوں میں ہی رہیں۔ کبھی بھی مخلص قیادت یہاں آ نہیں سکی۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ لعنت روایت کی شکل اختیار کر گئی ہے اور اس سے ہر دور میں بیا استفادہ ہی کیا جاتا ہے اس کو ختم یا کم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی جاتی۔ اس روایت کو آپ آئین شکنی بھی کہہ سکتے ہیں۔ غداری بھی قرار دے سکتے ہیں۔ جمہوریت دشمنی بھی کہا جا سکتا ہے اور آمریت پروری بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس قومی قباحت کے قیام کی سازش گو کہ قائد اعظم کی رحلت پر کامیاب ہو گئی تھی مگر اس کے طاقتور ہونے کی ابتداء واقعی ایوب خان کی آمریت سے شروع ہوئی تھی اور پھر دو وزرائے اعظم کی جان لینے والی اور متاعِ وطن کی ہر طرح سے لوٹ مار کو جاری رکھنے والی یہ ظالمانہ روایت آج تک جاری ہے۔ اس روایت کے تناظر میں اگر متحارب کرداروں کا دیانتداری سے تجزیہ کیا جائے تو ایک چیز واضح ہو جاتی ہے کہ اس لڑائی میں دودھ کا دھلا ہوا کوئی بھی نہیں۔ اس لڑائی سے سب نے حصہ بقدر جثہ وصول کیا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس فلم میں سبھی ولن ہیں ہیرو کوئی نہیں تو بیجا نہ ہوگا اور یہ کہ ان سب نے ہر دور میں ملکی مفاد اور ملکی آئین کا ہی خون کیا ہے۔
اس قبیح روایت یعنی جمہوریت، آمریت کی لڑائی کے کچی لسی ٹائپ مشروب کی طویل ترین وسعت کی ایک قسط گزشتہ روز قومی اسمبلی میں پھر پیش کی گئی جب اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ جو بھی آئین کو معطل یا ختم کرے وہ سنگین غداری کا مرتکب ہوتا ہے، پاکستان میں اس وقت صحیح جمہوریت کا فقدان ہے۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی بہت کم ہے، میڈیا پر دبا ہے۔ اب بھی میری تقریر کٹ کٹ کے نشر ہو رہی ہے۔ القصہ روایتی جمہوری لفاظی کا جو جو بھی روایتی جملہ وہ اپنی جماعت کے حق میں بہتر سمجھتے تھے انہوں نے بولا۔ جس میں سے آئین کو معطل کرنے والا جملہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اچک لیا اور اپنی باری پر تقریر میں ملک کے پہلے آئین شکن ایوب خان کی میت نکال کر اسے پھانسی دینے کا مطالبہ کر دیا۔ واضح رہے کہ ایوب خان نے ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ کیا تھا۔ پہلا آئی ایم ایف پروگرام حاصل کیا تھا۔ پہلی بار ملک کے بااثر طبقات کو حکومتی اور ریاستی مراعات سے نوازا تھا اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کی سیاسی مخالفت انتہائی گھٹیا انداز میں کی تھی۔ پھر ملک کے طول و عرض میں جب ایوب کتا ہائے ہائے کے نعرے گونجے تھے تو وہ گوشہ نشین ہو گئے تھے مگر اب آگے ان کے پوتے عمر ایوب نے اپنی اس آبائی تاریخ کے عین مطابق پی ٹی آئی نامی جماعت کے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد شروع کر رکھی ہے۔ جس جدوجہد کا فی زمانہ ایک ہی مقصد ہے کہ اس جماعت کی فوج کے ساتھ تعلقات کی بحالی ہو جائے۔
واضح رہے کہ ایوب دور (1969۔1958) کے بارے میں حقائق سے عاری عام خیال سننے کو ملتا ہے کہ اُن کے دور میں اقتصادی ترقی، خوشحالی ہوئی اور دنیا میں پاکستان کی ساکھ میں اضافہ ہوا مگر اُس دور کے اقتصادی حقائق، اگر بھیانک نہ بھی ہوں تو بھی اتنے بہتر نہیں۔ جنرل ایوب کی پالیسیوں، اقدامات کا خصوصی جائزہ بتاتا ہے کہ اُن کا بنیادی مقصد اپنی حکومت کو بحال رکھنا اور طول دینا ہی تھا، یوں اُن کی حکومت نے ہی بنگلہ دیش کی علیحدگی کا بیج بویا اور اُس پودے کو بے تحاشہ پانی فراہم کیا، پھر اگلے چند برسوں میں سقوطِ ڈھاکہ ہو گیا۔ انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف حمایت حاصل کرنے کے لئے مذہبی بنیاد پرستوں کو مضبوط کیا۔ ایوب دور میں آمدنی میں عدم مساوات کو فروغ ملنے سے ملک میں صرف 20گھرانوں کو عروج نصیب ہوا۔ جنہوں نے قومی وسائل پر اپنا اختیار جما لیا اور اپنے پاس کالا دھن جمع کیا، اس طرح باقی لوگوں میں غربت، بھوک اور مایوسی پھیلی رہی۔ جنرل ایوب خان کی اقتدار میں ڈرامائی آمد ایک دہائی کی سیاسی کشیدگی کے بعد ہوئی تھی۔ 1947ء سے 1958ء تک پاکستان میں 4گورنر جنرلز اور 7وزرائے اعظم کی حکومت رہی۔ اقتدار کے لئے سیاسی رسہ کشی نے اُس وقت کے صدر جنرل سکندر مرزا کو بے بس کر دیا تھا اس لئے انہوں نے پارلیمنٹ معطل کر دی اور جنرل ایوب خان کے ساتھ مل کر خود بطور وزیر اعظم نئی کابینہ تشکیل دے دی۔ تاہم کچھ دنوں کے اندر ہی ایوب خان نے جنرل سکندر مرزا کو معاوضے کے ساتھ جبری طور پر لندن جلا وطن کر کے فارغ کر دیا اور خود کو 27اکتوبر کو صدر پاکستان نامزد کر دیا مگر اُس کے ساتھ ہی چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا بھی قلمدان سنبھالا۔ جنرل ایوب خان کے الفاظ تھے کہ ’’ میجر جنرل سکندر مرزا جو کچھ دیر پہلے صدر پاکستان تھے، نے قلمدان سے دستبردار ہوکر تمام اختیارات مجھے سونپ دیئے ہیں۔ اس لئے میں نے اس شب صدارت کا قلمدان سنبھال لیا ہے اور صدارتی اختیارات اور اُس سے متعلقہ دیگر اختیارات اپنے ذمے لے چکا ہوں‘‘۔ اقتدار سنبھالتے ہی جنرل ایوب خان نے عوام اور جمہوری عمل کو مایوس کیا۔ ان کے نزدیک عوام اس قدر ان پڑھ اور غریب تھے کہ ان کے ووٹ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا تھا۔ سو اُنہوں نے چند ہزار افراد پر مشتمل الیکٹوریٹ ( بنیادی جمہوریت) تشکیل دیا جس میں سے 95فیصد نے جنرل ایوب خان کو اپنا سربراہ منتخب کر لیا۔ حالانکہ پاکستان کے یہ اَن پڑھ اور غریب لوگ اتنے قابل تو ضرور تھے کہ وہ ایک نئی مملکت کے لئے اپنے دل، دماغ اور سوچ کے ساتھ ووٹ دے سکیں، کیا جس مملکت نے جنرل ایوب خان کو آرمی چیف کے عہدے پر تعینات کیا تھا، کیا وہ اِس قابل بھی نہ بن پائی تھی کہ جنرل ایوب خان اُن کے ووٹوں پر اعتماد پیدا کر سکیں؟ بہرحال جنرل ایوب خان نے ’’ داخلی افراتفری کی صورتحال‘‘ کا سیدھا ذمہ دار سیاستدانوں کو ٹھہرایا اور اُن پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ذاتی مفادات کے لئے ملک کا سودا کیا۔ وہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے مرکزی سیاستدانوں کو جیل میں ڈالنا چاہتے تھے۔ اُن کے بعد آنے والے فوجی آمروں نے بھی اِسی طرح سیاستدانوں کی توہین کی۔ یہاں تک کہ آج ان کے پوتے جس جماعت میں اپنی بے پایاں سیاست فرما رہے ہیں اس کا کام بھی کچھ اسی نوعیت کا ہے۔
بہرحال قومی اسمبلی میں اس زیر نظر تقریر میں عمر ایوب نے 2024ء کے الیکشن اور 9مئی کے واقعات اور پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 9مئی کے حوالے سے آزاد جوڈیشل کمیشن ہونا چاہیے، جسے تمام سی سی ٹی وی ویڈیوز تک رسائی ہو تاکہ سچ سامنے آ جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان میں ریاست کی تعریف قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیاں اور ٹائون کمیٹی ہے، سکیورٹی ادارے ریاست نہیں ہیں۔ 9مئی کی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے لائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 9مئی کو 170ارب کا نقصان ہوا اور الزام آج ہم پر لگتا ہے۔ اس تقریر کے جواب میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی بات کی تائید کرتا ہوں، آئین شکنی پر سنگین غداری کی دفعہ آرٹیکل 6لگنا چاہیے۔ ایوب خان نے ملک میں پہلا مارشل لاء لگا کر آئین توڑا، ابتدا ایوب خان سے ہونی چاہیے۔ ان کی میت قبر سے نکال کر پھانسی دی جائے۔ آرٹیکل 6لگانے کی ابتدا ایوب خان سے کرنی چاہیے جس نے ملک میں پہلا مارشل لاء لگایا اور اختتام اس پر ہونا چاہیے، جس نے اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے پر قومی اسمبلی توڑ دی۔ خواجہ آصف کی تقریر پر ایوب خان کے پوتے عمر ایوب نے شدید احتجاج کیا جبکہ پی ٹی آئی کے دیگر ارکان بھی وزیر دفاع کی تقریر میں رکاوٹ ڈالتے رہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اب اپوزیشن کو مرچیں لگ رہی ہیں، انہیں مرچیں لگنی چاہئیں، انہوں نے پارلیمنٹ پر حملہ کیا۔ آرٹیکل چھ لگنے کا عمل شروع وہاں سے ہونا چاہیے جس رات عدم اعتماد روکنے کے لئے سپیکر کی کرسی پر بیٹھ کر آئین توڑا گیا۔ پھر عدالت نے اسمبلی بحال کی۔ حلف کی بات کی گئی سب سے پہلے حلف کی خلاف ورزی ایوب خان نے کی۔ آج بھی پاکستان کے قدم اکھڑے ہوئے ہیں صرف اس وجہ سے کہ ایوب خان نے حکومت کا تختہ الٹا تھا، ایوب خان نے حلف لیا قرآن پر، قومی پرچم پر اور مکر گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک آمر ایوب تھا۔ ایک آمر ضیاء الحق تھا اور ایک آمر پرویز مشرف تھا افسوس کہ ان تینوں کے لائے ہوئے سیاستدان اب جمہوریت کی بات کرتے ہیں اور شرم کھانے سے مکمل پرہیز کرتے ہوئے جمہوریت، آمریت کی کچی لسی میں بے تحاشہ پانی ڈال کر اسے اور اپنی دولت کو بڑھا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button