Column

ہم کہاں پہنچنے والے ہیں

تحریر : فیصل رمضان اعوان
بدقسمتی سے ہمارا ملک ایک تجربہ گاہ بن چکا ہے اور تجربہ گاہ میں گزرے 76سالوں سے کوئی کامیابی نہ سمیٹ سکا سب نااہل اور نالائق سٹوڈنٹ سمجھے گئے، کئی بار ایک دہائی کے اندر اس تجربہ گاہ سے تین چار چار لوگ بھی گزارے گئے لیکن نتیجہ وہی صفر ڈھاک کے تین پات اور آج ملک اس حال میں پہنچ گیا ہے کہ لوگ نفسیاتی مریض بنتے جارہے ہیں اور ہمارا شمار ان مریضوں کی فہرست میں سب سے اوپر لکھا ہوا ہے ہر شہری کا یہی حال ہوسکتا ہے اب پورے ملک کی پچیس کروڑ آبادی سے کون پوچھتا پھرے لیکن یہی حقائق ہیں آپ بیتی بھی اسی طرف اشارہ کر رہی ہے عمر رفتہ میں کئی ادوار دیکھے پچپن تھا تو والدین سے پتا چلتا تھا شعور کی دنیا میں پہنچے تو خود ہی اچھے برے کی پہچان آگئی اور اب تو خیر سے سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے ۔
ہم عوام ان حکمرانوں کی ہر باری پر کبھی ایک کے ساتھ تو کبھی دوسرے کے ساتھ مل کر ان کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچا دیتے ہیں ہم بھی اتنے سادہ ہیں کہ
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
عطار کے اسی لونڈے سے دوا لیتے ہیں
ان کے اقتدار میں آکر ماسوائے اپنے مفادات کے لئے کوئی کام نہیں ہوتا یہ اپنی مدت حکمرانی جو مختصر بھی ہوسکتی ہے اور زیادہ بھی پوری کرکے پھر ہم عوام کی دہلیز پر آجاتے ہیں اور اپنی سابقہ کارکردگی کے قصے سنا کر جن کی ہمیں آج تک سمجھ ہی نہیں آئی اور ہم سے اپنا حق لے جاتے ہیں جسے ہم ووٹ کہتے ہیں اور ایک بار پھر سے واپس اقتدار کی بدمستیوں میں کھو جاتے ہیں اقتدار نشہ ہی ایسا ہے ہم عوام ان سے پچھلے76سالوں سے پٹ رہے ہیں لٹ رہے ہیں لیکن اب لگتا ہے ہم تیزی سے اپنے منطقی انجام کی جانب عازم سفر ہیں جو بڑا ہی سلگتا سفر ہے اب کے بار ہمیشہ کی نسبت ہم اس نازک موڑ پر نہیں ہیں بلکہ اس موڑ سے آگے نکل گئے ہیں اور تیزی سے مڑنے کا مطلب آپ سب سمجھ سکتے ہیں توازن بگڑ جائے تو معاشرے ٹوٹ جاتے ہیں۔
آج عوام کے دکھوں کو جاننے والا سمجھنے والا کوئی نہیں ہے سب تجربہ گاہ میں حسب معمول اپنے تجربوں میں مشغول ہیں عوام جائیں بھاڑ میں بجلی گیس کے ظالمانہ بل اشیائے خوردونوش کی بڑھتی آسمانوں سے چھوتی قیمتیں غریب تو پیاز خریدنے سے بھی گیا۔ ملک مقروض ہے اور حکمرانوں کی شاہ خرچیاں عروج پر ہیں آئے روز عیاشیوں کے ساماں بڑھ رہے ہیں اور غریب کے چولہے بجھ رہے ہیں اور مسلسل خون چوسا جارہا ہے ہم کہاں جارہے ہیں میرا مقصد مایوسی پھیلانا ہرگز نہیں ہے ہم تو صرف محبتیں بانٹتے ہیں لیکن اب اس گھٹن زدہ ماحول میں کیا کریں۔
سانس لیتے ہیں تو دم گھٹتا ہے
کیسی بے درد ہوا ہے یارو
اس گھٹن زدہ ماحول میں ہٹلر کا ایک جملہ یاد آرہا ہے
کہ غلام قوم کو اتنا ذلیل کرو کہ وہ اپنے زندہ رہنے کو ہی ترقی سمجھے کیا ہمارے لٹے پٹے قافلے اسی جانب رواں دواں ہیں کیا سانسوں کو ہی غنیمت سمجھیں ہم کہاں پہنچنے والے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button