Column

ایرانی صدر کا دورہ اور مسئلہ فلسطین

تحریر : محمد عباس عزیز
ایرانی صدر جناب ابراہیم رئیسی دو روزہ دورے پر پاکستان تشریف لائے۔ پاکستان اور ایران آپس میں ہمسایہ ممالک ہیں، دونوں اسلامی ممالک ہیں، ایک ہزار کلو میٹر طویل مشترکہ سرحد ہے، تاریخی طور پر اگر جائزہ لیا جائے تو1947ء میں جب پاکستان آزاد ہوا تو سب سے پہلے ایران نے پاکستان کو تسلیم کیا تھا۔ اسی طرح1979 ء میں خمینی انقلاب آنے کے بعد پاکستان نے سب سے پہلے امام خمینی حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ اس سے پہلے بھی ایران کی کئی اہم شخصیات پاکستان کا دورہ کرتی رہیں ہیں، موجودہ ایرانی صدر کا دورہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ مشرق وسطی کی صورت حال کافی کشیدہ ہے۔ اسرائیل نے فلسطین پر جنگ مسلط کی ہوئی ہے، ایران کے علاوہ تمام عرب ممالک میں ایک خوف کی فضا ہے کوئی بھی کھل کر مسئلہ فلسطین پر اظہار خیال بھی نہیں کر رہا جبکہ ایران مکمل طور پر اسرائیل اور امریکہ کی مخالفت کر رہاہے۔ ایرانی صدر ابراہیم رئسیی کی اسلام آباد سے لاہور آکر علامہ اقبال ؒ کے مزار پر حاضری اور پھر کراچی قائد اعظمؒ کے مزار پر فاتحہ خوانی یہ پاکستان کیلئے اعزاز کی بات ہے۔ یہ دونوں قومی لیڈر پاکستان کی پہچان ہیں۔ ڈاکٹر اقبالؒ کا جو کلام فارسی میں ہے ایران والوں کے نزدیک اس کی بڑی اہمیت ہے۔ ایران میں اقبالیات پر پی ایچ ڈی بھی سٹوڈنٹ کرتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے تعلقات کئی دفعہ سرد مہری کا شکار بھی رہے، حال ہی میں ایران کی طرف سے پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کی گئی، جس کا جواب بھی پاکستان نے دیا۔ پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات میں بھی سعودی عرب اور ایران پراکسی وار میں ملوث رہے۔ ایران سرحد سے بھارتی جاسوس کلبھوشن کی گرفتاری اور اس سے حاصل شدہ معلومات بھی دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر انداز ہوئیں، لیکن ان سب حقیقتوں کے باوجود پاکستان نے ایران کا ساتھ دیا جب امریکہ اور یورپ ہمیں اس کے خلاف ڈکٹیٹ کر رہے تھے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں اسلامی ملکوں کو ایک دوسرے کی سرحدوں کا احترام کرنا چاہئے۔ ایران اس وقت عالمی تنہائی کا شکار ہے، گزشتہ 45برس سے اس پر عالمی پابندیاں لگی ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ یورپ اور امریکہ کا مقابلہ کر رہاہے۔ تمام اسلامی ملکوں کو ایران کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دینی چاہئے، ہم حکومت پاکستان سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ ایرانی صدر کے ساتھ جو معاہدات ہوئے ہیں ان پر عملدرآمد ہونا چاہئے۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ اپنی آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دے جیسے بھارت کی خارجہ پالیسی ہے۔
سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ہم اپنی آزاد خارجہ پالیسی تشکیل نہیں دے سکے۔ سول ملٹری تعلقات 1947ء سے لے کر آج تک کشیدہ ہیں جس کی وجہ سے پاکستان معاشی اور خارجہ پالیسی میں بھارت کے مقابلے میں بہت پیچھے ہے۔ آپ ذرا غور کرکے دیکھیں کہ 14سال سے پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن کا معاہدہ ہوا تھا جس پر آج تکے عمل نہیں ہوسکا۔ اس کی بڑی وجہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ ہے۔ امریکہ نے ایران پر معاشی پابندیاں لگائی ہوئی ہیں اس کے باوجود چین اور بھارت ایران سے تیل خرید رہے ہیں اور بھی کئی ممالک ایران سے تجارت کرتے ہوں گے۔ ہم نے افغانستان کی جنگ میں امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا جنرل مشرف نے 2002ء میں امریکہ کو غیر مشروط طور پر افغانستان کے خلاف اڈے دیئے تھے جس کی وجہ سے افغان طالبا ن بھی ہمارے خلاف ہوگئے اور ہمارے ملک میں دہشت گردی کی وجہ سے لاکھوں لوگ مارے گئے مگر اس کے بدلے میں مشرف نے کیا حاصل کیا۔ ہاں اگر اس کے برعکس پاکستان میں ایک عوامی منتخب حکومت ہوتی تو صورتحال مختلف ہوتی۔
حکومت پاکستان کو ایک آزاد خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے اور پاکستان کو امریکہ پر یہ واضح کرنا چاہئے کہ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور ہمارے ملک میں گیس کا بحران ہے اگر بھارت اور چین ایران سے تیل لے سکتے ہیں تو ہم کیونکر ایران کے ساتھ چودہ سالہ پرانا معاہدہ وفا کیوں نہیں کر سکتے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے ہم کب تک اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے آخر کب تک۔ حالیہ ایرانی صدر جناب ابراہیم رئیسی کے ساتھ جتنے معاہدے ہوئے ہیں دونوں ملکوں پر لازم ہے کہ ان معاہدوں کی پاسداری کریں اور دونوں ممالک آزاد تجارت کو فروغ دیں۔ ایران پاکستان کے مقابلے میں ایک خود کفیل ملک ہے بلکہ منی یورپ ہے۔ دونوں ملکوں کو ٹرین کے ذریعہ لوگوں کی آمدورفت کو جلد از جلد شروع کرنا چاہئے، پاکستان کو اپنے ہمسایوں سے تعلقات بہتر کرنے چاہئیں کیونکہ دنیا بدل رہی ہے بلکہ بدل چکی ہے۔ یورپ کے تمام ملکوں نے اپنی کرنسی ایک کرلی ہے، زمینی راستوں کے ذریعہ لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے لیکن ایشیا کے ممالک ابھی تک آپس میں لڑائی جھگڑے کر رہے ہیں۔ وقت آ پہنچا ہے کہ پاکستان کی حکومت ایک آزاد خارجہ پالیسی کے تحت اپنے تمام ہمسایہ ممالک سے تجارتی اور معاشی سیاسی تعلقات کا از سر نو جائزہ لے اور وہ تمام اقدامات کئے جائیں جو پاکستان کے مفاد ہیں۔
مسئلہ فلسطین ایک گھمبیر شکل اختیار کر گیا ہے۔ ایران کے علاوہ کوئی اسلامی ملک اسرائیل کے خلاف بیان تک نہیں دے رہا۔ پینتیس ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں امریکہ اور یورپ اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ 56اسلامی ملکوں کی حکومتیں اور عوام سوئے ہوئے ہیں۔ ترکی بھی کھل کر اسرائیل کی مذمت نہیں کر رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری عالمی جنگ جو1939ء میں شروع ہوئی اور1945 ء میں ختم ہوئی۔ مسلمان عالمی سطح پر شکست کھا گئے اور اس کے بعد آج تک وہ عالمی سطح پر کوئی مقام حاصل نہیں کر سکے۔ تمام اسلامی ممالک کوئی عالمی فورم قائم نہیں کرسکے جس میں وہ اپنے مسائل مشترکہ طور پر ڈسکس کر سکیں۔ سلامتی کونسل سے لے کر اقوام متحدہ تک کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ اخلاقی اور سیاسی لحاظ سے ہم یورپ سے بہت پچھے ہیں۔ عرب ممالک جن کو اللہ تعالی نے دولت سے بہت نوازا ہے وہ ٹیکنالوجی میں بہت کمزور ہیں، سیاسی لحاظ سے انکے ملکوں میں بادشاہت ہے۔ امریکہ اور یورپ ٹیکنالوجی میں بہت آگے نکل گئے ہیں۔ ہر اسلامی ملک کے اندر ایک انتشار برپا ہے تقریباً تمام اسلامی ملکوں میں عوام کی امنگوں کے خلاف حکومتیں قائم ہیں جہاں جمہوری حکومتیں ہیں وہاں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ قائم نہیں ہے۔ اقبالؒ نے فرمایا تھا کہ مسلمانوں کے زوال کی وجہ تین شخصیات ہیں۔ ملا، پیر اور سلطان۔ ایک اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لانے والے آج کئی فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ مسئلہ فلسطین کا واحد حل یہ ہے کہ تمام اسلامی ممالک آپس میں اتحاد کریں ٹیکنالوجی میں اپنی نئی نسلوں کو جدید تعلیم سے راستہ کریں۔ تمام اسلامی ممالک اپنے اسلامی ملک فلسطین کی مکمل حمایت کریں۔ اخلاقی لحاظ سے بھی اور مالی لحاظ سے بھی۔ عرب ممالک کی ذمہ داری زیادہ ہے کہ وہ امریکہ اور یورپ کو قائل کریں کہ اسرائیل کو جنگ بندی پر آمادہ کیا جائے۔ سفارتی سطح پر فلسطین کیلئے ایک آزاد ریاست کا قیام ضروری قرار دیا جائے۔ یہ تبھی ہو سکتا ہے جب تمام اسلامی ممالک آپس میں تجارت کو فروغ دیں اپنے اختلافات کم کریں، سفارتی سطح پر یک زبان ہو کر اسرائیل کی مذمت کریں اور تمام اسلامی ممالک غزہ کے مسلمانوں کیلئے خوراک ادویات اور دیگر سامان وہاں بھیجیں تاکہ جو زندہ ہیں وہ تو آرام سے زندگی گزار سکیں۔ ورنہ پھر اقبالؒ کے بقول:
افسوس صد افسوس کہ شاہین نہ بنا تو
دیکھے نہ تیری آنکھ نے فطرت کے اشارات
تقدیر کے قاضی کا فتوی ہے ازل سے
ہے جرم ضیفی کا سزا مرگ مفاجات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button