ColumnImtiaz Aasi

تحقیقاتی رپورٹ کا دوسرا پہلو نظر انداز کیوں ؟

تحریر : امتیاز عاصی
وفاقی حکومت نے نگران دور میں سانحہ نو مئی سے متعلق ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی جس میں سانحہ کی منصوبہ بندی ، توڑ پھوڑ، بلوائیوں اور منصوبہ بندی میں فعال کر دار ادا کرنے والوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سانحہ نو مئی کو ریاست اور سپہ سالا ر کے خلاف بغاوت قرار دیتے ہوئے کہا ہے ایسی سزا ملے گی قیامت تک کوئی ایسی حرکت نہیں کر سکے گا۔ دوسری طرف سپہ سالار نے پی ٹی آئی قیادت سے کسی قسم کی ڈیل کو ناممکن قرار دیا ہے جس کے بعد پی ٹی آئی اور طاقتور حلقوں کے درمیان بات چیت کی امید باقی نہیں۔ سیاسی جماعتیں جلسہ اور جلوس یا احتجاجی ریلی نکالنے کا پروگرام بناتی ہے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قبل از وقت اس کا علم ہو جاتا ہے۔ سیاست دانوں کی حرکات و سکنات پر نظر رکھنے کے لئے پنجاب میں اسپیشل برانچ میں باقاعدہ ایک سیل ہے جس میں ڈی ایس پی، انسپکٹرز، سب انسپکٹر اور دوسرے اہل کار تعینات ہوتے ہیں جو سفید پارچات میں سیاسی جماعتوں کے اجتماعات اور ان کے اجلاسوں کی کارروائی کی باقاعدہ رپورٹ مرتب کرتے ہیں جسے بعد ازاں کمشنر ، چیف سیکرٹری اور سپیشل برانچ کے ایس پی کو تحریری شکل دی جاتی ہے جسے ڈی ایس آر کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ اخبارات میں رپورٹ ہوا ہے سانحہ کا منصوبہ ساز اور مرکزی کردار سابق وزیر اعظم عمران خان تھا۔ نو مئی کو صوبے کے مختلف شہروں میں عسکری تنصیبات اور شہدا کی یادگاروں کو نقصان پہنچا یا گیا حیرت ہے سپیشل برانچ کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔ جیسا کہ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے عمران خان کی گرفتار ی سے کئی روز پہلے مسلح افراد کو پی ٹی آئی کا گڑھ سمجھے جانے والے مختلف علاقوں میں بھیجا گیا۔ تعجب ہے اس تمام منصوبہ بندی کی سپیشل برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خبر نہیں ہو سکی۔ سپیشل برانچ کے فرائض کی بات کریں تو اس کے شعبہ پولیٹیکل ونگ کے فرائض میں یہاں تک شامل ہے وہ سیاسی رہنمائوں کی باقاعدہ نگرانی Surveillanceکرتے ہیں۔ عجیب تماشا ہے اتنا بڑا سانحہ پیش آیا سپیشل برانچ اور ضلعی پولیس بے خبر رہی۔ بلاشہ سانحہ میں ملوث افراد سزائوں کے مستحق ہیں اس کے برعکس جن سرکاری اداروں نے متعلقہ اداروں کو اس سانحہ کی قبل ازوقت رپورٹ نہیں دی وہ بھی سانحہ نو مئی میں ملوث افراد کی طرح محکمانہ سزائوں کے حقدار ہیں یا نہیں؟ سوال ہے بلوائیوں کو روکنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کیا اقدامات کئے ؟ خصوصا وہ عسکری تنصیبات اور شہدا کی یادگاروں تک کیسے پہنچ گئے؟ یہ وہ دو سوال ہیں جن کا جواب اس وقت کی پنجاب کی حکومت کو دینا چاہیے تاکہ عوام سمجھ سکیں سانحہ نو مئی میں ملوث افراد اتنے طاقت ور تھے جنہیں روکنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بس کی بات نہیں تھی جس کے سبب یہ ناخوشگوار سانحہ پیش آیا۔ اخباری خبروں کے مطابق کئی ہزار افراد کی شناخت نہیں ہو سکی جو اس سانحہ میں ملوث ہونے کے شبہ میں کئی ماہ تک جیلوں میں حفاظتی بند رہے۔ قارئین کی معلومات کے لئے عرض ہے جیلوں میں حوالاتی اور قیدیوں کو ادھر ادھر چہل قدمی کی اجازت ہوتی ہے وہ جیل کی مساجد میں نمازوں کی ادائیگی کے لئے جا سکتے ہیں ایسے افراد جنہیں محض شک کی بنا پر جیل بھیجا گیا ہو انہیں سیلوں میں بند رکھا جاتا ہے وہ ان سیلوں سے باہر کہیں نہیں جا سکتے نہ جیل کی مسجد میں نماز ادا کر سکتے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کئی ہزار افراد شک کی بنیاد پر گرفتار ہو کر جیلوں میں بھیجے گئے وہ کئی ماہ تک جیلوں میں پڑے رہے جس کے بعد ان کی شناخت پیریڈ کا مرحلہ آیا اور ان کی شناخت نہیں ہو سکی جس کے بعد ان کی رہائی عمل میں لائی گئی۔ وہ افراد جو سانحہ میں براہ راست ملوث ہیں ایک سال گزرنے کے باوجود ان کے چالان عدالتوں میں نہیں بھیجے گئے جو اس بات کا غماز ہے پولیس کے پاس ایسے افراد کے خلاف سانحہ میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد نہیں ہیں اور اسی لئے ایک سال تک پولیس ملزمان کے خلاف چالان مرتب کرنے میں ناکام رہی۔ نو مئی کو پیش آنے والے واقعات کی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ نگران دور کی تحقیقاتی رپورٹ میں سانحہ کی منصوبہ بندی اور بلوائیوں کی نشاندہی کے علاوہ اس سانحہ کے دوسرے پہلو کو کیوں نظرانداز کیا گیا ہے ؟۔ تحقیقات میں سانحہ کے دونوں پہلوئوں پر روشنی ڈالنے کی ضرورت تھی نہ جانے تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے دوسرے پہلو کوکن وجوہ کی بنیاد پر نظر انداز کیا؟ پی ٹی آئی کے رہنما گزشتہ ایک سال سے یہ مطالبہ کرتے آرہے ہیں سانحہ کے محرکات اور منصوبہ سازوں کا پتہ چلانے کے لئے ایک جوڈیشل کمیشن ہونا چاہیے تاکہ حقائق قوم کے سامنے آسکیں۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کا یہ فیصلہ موجود ہے کسی جرم کے حقائق کا پتہ چلانے کے لئے معاملے کی تہہ تک جانا ضروری ہے لہذا حکومت کو سانحہ کے منصوبہ سازوں کا پتہ چلانے کے لئے عدالتی کمیشن بہت پہلے قائم کرنا چاہیے تھا جو ابھی تک نہیں بن سکا ہے۔ عسکری ترجمان نے چند روز قبل عدالتی کمیشن بنانے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے بآور کرایا تھا عدالتی کمیشن بنانے میں کوئی حرج نہیں تاہم اس کے ساتھ 2014ء کے دھرنے کے محرکات کا پتہ چلانا ضروری ہے جس کے جواب میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے دھرنے کی تحقیقات پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ عوام اپنی مسلح افواج کا صدق دل سے احترام کرتے ہیں مسلح افواج کی بدولت ہماری سرحدیں محفوظ ہیں اور سرحدوں پر منڈلاتے خطرات کا سامنا افواج پاکستان کے بہادر سپوت کرتے ہیں۔ گو پوری قوم سانحہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے حق میں ہے لیکن اس کے ساتھ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے فرائض کی انجام دہی صحیح طریقہ سے کر رہے ہوتے تو شائد سانحہ نو مئی پیش نہیں آسکتا تھا لہذا جہاں سانحہ نو مئی میں ملوث افراد کو سزائیں دی جائیں گی وہاں سانحہ کو روکنے کے ذمہ داروں کو کیسے بری الذمہ قرار دیا جا سکتا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button