سپورٹس

سٹار فاسٹ بالر کی انجری بگاڑنے والے پی سی بی ڈائریکٹر مستعفی

پاکستانی فاسٹ بولر احسان اللہ کی کہنی کی انجری کی درست تشخیص نہ کرنے اور انھیں مناسب علاج مہیا نہ کرنے کے الزامات ثابت ہونے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) ڈائریکٹر آف میڈیکل اینڈ سپورٹس سائنسز ڈاکٹر سہیل سلیم اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

برق رفتارفاسٹ بولر احسان اللہ نے 2023 میں پاکستان سُپر لیگ (پی ایس ایل) میں ملتان سلطانز کی نمائندگی کی تھی، جس کے بعد انھیں اپریل میں 2023 میں ہی پاکستانی ٹیم کی جانب سے نیوزی لینڈ کے خلاف پہلا ون ڈے میچ بھی کھلایا گیا تھا لیکن انجری کے سبب وہ دوسرا میچ نہیں کھیل سکے۔

ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے اس وقت یہ دعویٰ کیا تھا کہ پی سی بی کا میڈیکل ڈیپارٹمنٹ احسان اللہ کے ہاتھ میں فریکچر کی درست تشخیص نہیں کر سکا، جس کے سبب وہ صحتیاب نہ ہو سکے۔ پی سی بی نے انھیں علاج کے لیے گذشتہ مہینے برطانیہ بھی بھیجا تھا۔

پی سی بی کے میڈیکل ڈپارٹمنٹ پر لگنے والے الزامات کے بعد اس معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رُکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں ڈاکٹر رانا دلویز، ڈاکٹر ممریز نقشبند اور پروفیسر جاوید اکرم شامل تھے۔
اس کمیٹی نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کے پاس جمع کروا دی ہے۔

پی سی بی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران احسان اللہ کی کیس ہسٹری، ٹیسٹ رپورٹس اور پی سی بی کے اراکین کے انٹرویوز کیے گئے ہیں۔

تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ’احسان اللہ کو اپنی دائیں کہنی اور کندھے کو ٹھیک کرنے کے لیے فزیوتھراپی جاری رکھنی چاہیے۔ اگر وہ چھ سے 12 ماہ میں مکمل صحتیاب نہیں ہوتے تب ان کی سرجری کو آخری آپشن سمجھا جائے گا۔
تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ پی سی بی کے میڈیکل ڈیپارٹمنٹ نے احسان اللہ کی انجری کی تشخیص میں تاخیر کی اور انھیں نامناسب علاج تجویز کیا۔

پی سی بی کے مطابق رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ فاسٹ بولر نے بھی اس معاملے میں بے احتیاطی سے کام لیا۔

’کمیٹی نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ احسان اللہ کے کہنی میں درد کی صورتحال کا درست اندازہ نہیں لگایا گیا، نہ ان کا علاج اور آپریشن درست طریقے سے کیا گیا۔‘

تحقیقاتی ٹیم کے مطابق فاسٹ بولر کے آپریشن میں جلدبازی سے بھی کام لیا گیا۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احسان اللہ کے آپریشن کے لیے پی سی بی کے ڈائریکٹر آف میڈیکل اینڈ سپورٹس سائنسز نے جس سرجن کا نام تجویز کیا، ان کے پاس اس طرح کی انجری کو ٹھیک کرنے کا تجربہ بھی نہیں تھا۔

تحقیقاتی ٹیم کے مطابق احسان اللہ کی موجودہ حالت میں وہ ان کو ایک اور سرجری کروانے کا مشورہ نہیں دے سکتے۔

اس کے علاوہ پی سی بی کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی نے تین مزید کھلاڑیوں ارشد اقبال، ذیشان ضمیر اور کرکٹر شوال ذوالفقار کی انجریز کا بھی جائزہ لیا۔

کمیٹی نے ارشد اقبال کی صحتیابی کے لیے دو مہینے کا پروگرام تجویز کیا جبکہ ذیشان ضمیر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاؤں اور ٹخنے کے کسی ماہر ڈاکٹر سے اپنا طبی معائنہ کروائیں۔

کمیٹی نے شوال ذوالفقار کے بارے میں کہا ہے کہ وہ اپنے دائیں کندھے کا سی ٹی سکین کروائیں تاکہ ان کے لیے علاج تجویز کروایا جا سکے۔

اس تحقیقاتی رپورٹ کے منظرِعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی صارفین غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button