Column

عیدالفطر اور ہمارے رسم و رواج

ضیاء الحق سرحدی
عید الفطر کا سنتے ہی ساری دنیا کے مسلمانوں کے ذہن میں سب سے پہلا لفظ جو آتا ہے وہ ہے خوشی اور کیوں نہ ہو۔ مسلمانوں کا سب سے بڑا مذہبی تہوار جس کا پورے اہتمام سے منانا ہم سب کی مذہبی ذمہ داری ہے۔ رحمتوں اور برکتوں والے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد عید کی صورت میں جو خوشیوں کی سوغات ملتی ہے اس کی اہمیت ایک مسلمان روزہ دار ہی سمجھ سکتا ہے۔ اس خوشیوں بھرے دن کیلئے ہر گھر میں بڑھ چڑھ کر اہتمام کیا جاتا ہے اور اس اہتمام میں گھر کی صفائی سجاوٹ اور سب سے بڑھ کر کپڑوں کی تیاری سر فہرست ہے۔عید کی آمد ہے چند ہی دن بعد جب فرزند ان توحید ایک ماہ کی روح پرور مشقت کے بعد اس کی اجرت پائیں گے تو وہ کتنے نہال اور شادماں ہوں گے کہ اللہ رب العزت نے ان کی اس مشقت کا صلہ کتنا جلدی ان کو عطا کر دیا کیوں کہ رب العالمین کا فرمان ہی کہ ’’ رمضان کے روزے میرے لئے ہیں اور میں ہی اس کا اجر دوں گا‘‘۔
اس فرمان سے روزے اور اس کے اجر کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اسی لئے اس دن ایک ناقابل بیان خوشی اور مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ اس دن کسی بھی شخص کے ماتھے پر شکن کے آثار دکھائی نہیں دیتے بلکہ سب سے بڑی بات تو یہ ہوتی ہے کہ دلوں میں پالنے والی کدورتوں اور رنجشوں کو بھلا دیا جاتا ہے۔ ایک دوسرے سے گلے لگ کر سارے گلے شکوے دور ہوتے ہیں اور یہ پورے ایک ماہ کی روحانی تربیت کا اثر ہی ہوتا ہے کہ فرزندان اسلام کو اس دن وہ خوشی نصیب ہوتی ہے جو کروڑوں روپے خرچ کرکے بھی نہیںحاصل کی جاسکتی۔ایک زمانہ تھا جب کسی کو عید کارڈ بذریعہ پوسٹ مین موصول ہوتا تھا تو گھر والوں کی خوشی دیدنی ہوتی تھی۔کیا بچےبوڑھےعورتیں سب کارڈکو چھو کر دیکھتے تھے۔یہ ایک سادہ سا عید کارڈ ہوتا تھا جس پر مسجد کے خوبصورت مینار ہوا کرتے تھے اور اُس کی اوٹ سے عید کا چاند مسکرارہا ہوتا تھا یا کوئی حسینہ گلاب کا پھول اپنے پھول جیسے گالوںکولگا کر عید مبارک کہہ رہی ہوتی تھی۔بڑے مزے مزے کے کارڈ ہوا کرتے تھے اور یکم رمضان سے ہی عید کارڈز کے سٹالز سج جایا کرتے تھے۔ شاپنگ کرنے سے زیادہ عید کارڈ خرید کر خوشی ہوتی تھی مگر اب تو سب کچھ موبائل میں سمٹ گیا ہے۔کارڈ تو رہا ایک طرف کارڈ پر عید کیک بھی بھجوا دیا جاتا ہے۔البتہ سائنس ٹیکنالوجی نے اتنی مہربانی کی جو کارڈ20روپے میں مل جاتا تھا وہ 10پیسے کے خرچ پر موبائل کے ذریعے آپ کے کسی پیارے تک پہنچ جاتا ہے۔اب کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ عید کارڈ خرید نے مارکیٹ میں جائے
اور پھر اسے پہنچاتا پھرے۔عید الفطر رمضان المبارک کے اختتام پر یکم شوال کو پوری دنیا کے مسلمان مناتے ہیں۔اور سب خوشی کا اظہار اپنے علاقائی کلچر کے مطابق کرتے ہیں۔پاکستان میںبھی لوگ ہر تہوار کو بڑے جوش وخروش سے مناتے ہیں اور ان مذہبی تہواروں میں بھی اپنی علاقائی رسمیں شامل کرکے اس کے لطف کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔آج ہم عید الفطر کے حوالے سے موجود رسوم کا مختصر جائزہ لیں گے۔کچھ رسمیں اس مخصوص دن کے حوالے سے ہوتی ہیں مثلاً یہ بڑی خوبصورت رسم ہے کہ عید سے پہلے رمضان کے آخری عشرے میں والدین اپنی شادی شدہ بیٹیوں کے گھر جاتے ہیں اور ان کے لئے مختلف اشیاء ضرورت خرید کر انہیں تحفہ دیتے ہیں۔اس کیلئے ’’ عید ‘‘ دینے کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔جس لڑکی کے والدین زندہ نہ ہوںتو اس کے بھائیوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ یہ فریضہ سر انجام دیں۔ عید کے قریب لڑکی کو بھی انتظار رہتا ہے اور اس کی نگاہیں گھر کے دروازے پر ٹکی ہوتی ہیںکہ کب اس کے میکے سے کوئی آئے۔یہ رسم بھی محض لین دین کا نام نہیں بلکہ اس کا مقصد آپس میں محبت کے جذبات کو تقویت دینا اور اس کی آڑ میں اپنے غریب بہن بھائیوں کی امداد کرنا بھی مقصود ہوتا ہے۔ اور یوں یہ خوبصورت رسم اپنے اندر ایک خوبصورت مقصد کو بھی سموئے ہوئے ہے۔اسی طرح عید الفطر کی آمد سے قبل جس گھر میں کوئی فرد فوت ہوگیا ہو تو اس کے عزیز وقارب اس کی موت کے بعد ’’ پہلی عید‘‘ پر اس کے گھر جانا ضروری سمجھتے ہیں۔اس کا مقصد ایک تو جس گھر میںفوتگی ہوئی ان کو یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہیںاوران کے عزیز واقارب ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں۔ وہ پریشان نہ ہوں اس موقع پر مرحوم کی بیوی بچوں کی مالی امداد بھی کی جاتی ہے یوں اس رسم کے ذریعے وہ لوگ بھی عید کی خوشیوں میں کسی حد تک شامل ہو جاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عید جیسے تہواروں کی رنگینیوں میںاضافہ کرنے کیلئے حکومت ایک قدم آگے بڑھائے اور مہنگائی کو قابو میں کرکے کم از اکم ان خاص دنوں کو تو عوام کو کھل کر منانے کا موقع فراہم کرے۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ عید بچوں کی ہوتی ہے ،اور یہ اس اعتبار سے سچ بھی ہے کہ عید سے منسلک سرگرمیوںسے جو خوشی اور طمانیت بچوں کو ملتی ہے،وہ عام آدمی محسوس نہیں کر سکتا۔بچوں کوعید سے ملنے والی خوشی میں اہم کردار بڑوں کی طرف سے ملنے والی عیدی کا بھی ہوتا ہے۔نئے نئے نوٹوں سے اپنی چھوٹی چھوٹی جیبوں کو بھر لینا ان کے لیے بہت طمانیت بخش اور خوشی کا باعث ہوتا ہے۔عیدی کی روایت اگرچہ آج بھی پہلے کی طرح قائم ہے۔اگرچہ گزشتہ 3سال سے کرونا کی وجہ سے تمام خوشیاں ماند ہو کر رہ گئیں ہیں۔ اللہ پاک اس رمضان کی برکت اور عید الفطر کی برکت سے یہ وباء تمام دنیا سے ختم کر دے آمین۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان ماضی کی طرح عید کے موقع پر نئے نوٹ بھی جاری کرتا ہے لیکن اس کے باوجود دیکھنے میں آیا ہے کہ عیدی میں نئے نوٹوں کی روایت کم ہوتی جا رہی ہے، اس کی مختلف وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ایک تو نئے نوٹ تک ہر آدمی کی رسائی نہیں ہوتی ،پھر یہ کہ پہلے چھوٹی کرنسی کے نئے نوٹ عام تھے،جنہیں بچے حاصل کرکے خوشی محسوس کرتے تھے۔ لیکن اب ان کی قدر اس قدر گھٹ چکی ہے کہ بچے بھی انہیں حاصل کرکے خوشی محسوس نہیں کرتے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس سے وہ اپنی پسند کی چیزیں نہیں خرید سکیں گے،اس لیے وہ چھوٹی کرنسی کے نئے نوٹوں کے مقابلے میں بڑی کرنسی کے پرانے نوٹوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button