پاکستان

پاک ایران تناؤ کے بعد دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا گراف بلند سطح پر

پاک ایران تناو کے بعد دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا گراف بلند سطح پر پہنچنے لگا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ایران کے صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی آئندہ ہفتے کے اختتام پر پاکستان کا دورہ کریں گے، پاک ایران تناو میں کمی کے فوری بعد یہ ایرانی قیادت کا اعلی ترین سطح پر پہلا دورہ پاکستان ہو گا۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ تناو کے بعد ایرانی صدر کی بطور پہلے سربراہ مملکت دورہ پاکستان کی خواہش پر وہ دورہ کر رہے ہیں، ایرانی صدر 22 اپریل کی سہ پہر پاکستان پہنچیں گے، ان کا استقبال نور خان ائیربیس پر اعلی پاکستانی حکام اور ایرانی سفیر کریں گے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ایرانی صدر کے ہمراہ ایک وفد بھی پاکستان پہنچے گا، ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کا دورہ پاکستان 3 روزہ ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے صدر پہلے عالمی راہنما ہیں جو کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، دورے میں ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کی انفرادی و وفود کی سطح پر ملاقاتیں ہوں گی۔

ذرائع نے بتایا کہ دورہ پاکستان کے دوران ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کی صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف سمیت سیاسی و عسکری حکام سے ملاقاتیں ہوں گی، ان ملاقاتوں میں پاک ایران باہمی تعلقات، سیکیورٹی توانائی کے شعبوں میں اضافہ کے مواقع کا جائزہ لیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق دورے میں پاک ایران گیس پائپ لائن کے حوالے سے امور پر خصوصی طور پر غور کیا جاے گا، ایران سے گوادر کو بجلی کی رسد میں اضافہ اور مزید سرحدی گزر گاہوں کو کھولنے پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، سرحدی انتظامات، انسانی و منشیات کی اسمگلنگ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے دوران متعدد شعبوں میں معاہدوں اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط ہونے کا امکان ہے۔

سفارتی ذرائع نے مزید بتایا کہ 17 جنوری کو پیدا ہونے والے پاک ایران تناو کے بعد فوری طور پر دونوں ممالک تناو میں کمی کے لیے فعال ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button