Column

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارتی معاہدہ

ضیاء الحق سرحدی
گزشتہ دنوں پاکستان اور افغانستان نے دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک نئے دو طرفہ تجارتی معاہدے پر دستخط کر دئیے ہیں اور افغان طالبان کی نگران حکومت کے مطابق معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے مابین بلا روک ٹوک تجارت ممکن بنانا ہے۔یہ معاہدہ افغان طالبان کی درخواست پر پاکستانی وفد کے دورہ کابل کے دوران کیا گیاجبکہ ایک چار رکنی سرکاری وفد سیکرٹری وزارت تجارت پاکستان محمد خرم آغا کی قیادت میں کابل افغانستان پہنچا ۔وفد میں ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ خوشحال خان ڈائریکٹر جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ ( ایف بی آر ) واجد علی خان اور جائنٹ سیکرٹری کامرس ماریہ قاضی شامل تھے دوسرے روز کابل میں امارت اسلامیہ کے وزیر تجارت الحاج نورالدین عزیزی کی سربراہی میں امارت اسلامیہ کے سرکاری سطح کے حکام بالا نے ایک اجلاس میں شرکت کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے باوجودتجارت پر کابل میں ہونے والے مذاکرات میں ایک مثبت پیش رفت ہے پاکستان اور افغانستان کے تاجروں کا ہمیشہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ تجارت کو سیاست سے دور رکھنا چاہئے ۔18مارچ کو افغانستان کے صوبے پکتیقا اور خوست صوبوں میں پاکستانی فضائی کاروائی کے بعد یہ کسی بھی پاکستانی سرکاری وفد کا پہلا دورہ تھا جبکہ وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ فضائی کاروائی میں حافظ گل بہادر گروپ اور کالعدم تحریک طالبان نے مراکز کو نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ افغانستان عبوری حکومت کا کہنا تھاکہ حملے میں عام لوگوں کا جانی نقصان ہوا تھا۔مذکورہ دو روزہ مذاکرات میں تجارت کو سیاست سے الگ کرنے اور دونوں ممالک کے عوام کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے بغیر کسی رکاوٹ کے تجارتی اور راہداری تعلقات پر زور دیا گیا اور اس چیز کا عندیہ دیا گیا کہ دونوں وفود کے درمیان افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ( APTTA)معاہدے کو دو ماہ کے اندر حتمی شکل دی جائے گی اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستانی فریق اگلے 6ماہ میں کراچی کی بندرگاہوں میں بین الاقوامی کنٹینرز ( کراس اسٹیفنگ) میں سامان کی کی منتقلی میں سہولت فراہم کرے گا جبکہ ترجیحی تجارت کے حوالے سے ایک معاہدہ کیا گیا کہ دونوں فریق برآمدی سامان کی 10اشیاء کو ٹیرف میں ترجیحی دیں گے جن میں سے آٹھ زرعی اور دو اشیاء صنعتی ہیں اجلاس میں اس پر بھی اتفاق رائے ہوا کہ آزمائشی مدت کے طور پر ایک سال کے لئے ٹرکوں کی نقل وحمل کے لئے ایک عارضی آزار اجازت نامہ جاری کیا جائے گا جو مئی 2024ء سے نافذ کیا جائے گا اور اس اقدام سے پاکستانی ٹرک آزادانہ طور پر افغانستان اورافغانی ٹرک آزادانہ طور پر افغانستان جا سکیں گے اور اسی طرح دونوں ممالک کے ہوائی اڈوں کے ذریعے ملٹی ماڈل ائر ٹرانزٹ کی شکل میں سامان کی منتقلی کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی جو اگلے 2ماہ میں شروع ہو جائے گا۔دونوں فریقوں نے بارٹر تجارت سے باز رہنے اور بینکنگ تعلقات قائم کرنے اور اسے ترقی دینے پر اتفاق کیا جبکہ افغانستان سے پاکستان کو کوئلے کی برآمد پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور پاکستانی فریق نے بین الاقوامی قیمت پر افغانستان سے کوئلہ خریدنے کے لئے اپنی آمادگی کا اظہار کیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ افغانستان کے اندر برآمدی کپاس پر کیا جانے والا جراثیم کشی کا عمل کافی ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کا یہ دورہ وفاقی سیکرٹری کامرس خرم آغا کی قیادت میں امارت اسلامیہ افغانستان کی وزارت صنعت وتجارت کی سرکاری دعوت پر تجارت کے فروغ کے لئے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ تعلقات مستحکم کرنے اور انہیں مزید توسیع کے لئے کیا گیا تھا۔ افغان طالبان کی سرکاری دعوت پر تجارت کے فروغ کے لیے پاکستانی وفد نے کابل کا دورہ کیا اور یوں دونوں ممالک کے مابین ایک نیا تجارتی معاہدہ طے پا گیا۔ماضی میں کیے گئے معاہدے پاکستان اور افغانستان کے مابین یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ فریقین نے تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا بلکہ ماضی میں بھی دونوں پڑوسی ممالک نے تجارتی معاہدے کیے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین پہلا تجارتی معاہدہ 1965میں اس وقت کیا گیا جب کابل میں سردار محمد داد کی حکومت کو ظاہر شاہ نے ختم کر دیا اور بعد میں پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے پایا۔پاکستان سوشل سائنس ریویو نامی جریدے میں شائع 1965کے تجارتی معاہدے کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ یہ تجارتی معاہدہ تو کیا گیا لیکن اس کے اتنے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے تھے۔ تاہم جریدے کے مطابق معاہدے کے بعد لاجسٹک کے نئے طریقہ کار اپنانا، سامان کی ترسیل کے لیے بڑے ٹرکوں کو شامل کرنا، کسٹم نظام کو بنانا اور سکیورٹی معاملات ضرور بہتر ہوئے تھے۔ اسی جریدے کے مطابق تجارتی معاہدے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ پاکستان اپنے سامان کو وسطی ایشیائی ممالک کو برآمد کرنے کے لیے آسانیاں پیدا کرنا چاہتا تھا۔تاہم تقریبا 45سال بعد دونوں ممالک نے محسوس کیا کہ اب ایک نئے تجارتی معاہدے کی ضرورت ہے اور اس کی بنیادی وجوہات میں سویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجانا اور 2001میں نیٹو افواج کا افغانستان میں داخل ہونا شامل تھا۔پاکستان سوشل سائنس جریدے کے مطابق سویت یونین کی شکست کے بعد پاکستان وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تجارت میں دلچسپی رکھتا تھا جبکہ دوسری جانب 2001کے بعد امریکہ کو اپنی افواج کو سامان کی ترسیل کے لیے راستہ چاہیے تھا۔افغانستان کی جانب سے 1965کے معاہدے کے بعد نئے معاہدے میں دلچسپی یہ تھی کہ وہ پاکستان کی بندرگاہوں کو تجارتی سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا اور دوسری وجہ افغانستان کا انڈیا کے ساتھ پاکستانی راستے سے تجارت کو فروغ دینا تھا اور 1965کے معاہدے کے مطابق یہ ممکن نہیں تھا۔ ان ہی وجوہات کی وجہ سے 2010میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک نیا تجارتی معاہدہ طے ہوا اور اس میں ایک اہم نکتہ یہی تھا کہ اس وقت کے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے واہگہ بارڈر کے ذریعے افغانستان کو تازہ پھل اور سبزیوں کو انڈیا سپلائی کرنے کی اجازت دی۔ تاہم 2010کے معاہدے کے مطابق انڈیا کو اجازت نہیں تھی کہ پاکستان کے راستے اپنا سامان افغانستان سپلائی کریں اور اس معاہدے کے دوران اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، وزیر تجارت مخدوم محمد امین فہیم، افغانستان کے اس وقت کے صدر حامد کرزئی، زلمے رسول اور امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن موجود تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button