Column

غریب وزیروں کی مدد

سیدہ عنبرین
غیر نصابی سرگرمیوں میں دلچسپی رکھنے والے اور کھیل کے میدانوں سے عشق کرنے والے مشہور زمانہ ایتھلیٹ یوسین بولٹ کے نام سے بخوبی واقف ہونگے جنہوں نے تیز ترین دوڑنے والے انسان کی حیثیت سے دنیا میں اپنا لوہا منوایا سیاہ نام امریکی اپنی دوڑ کے اختتام پر ایک خوبصورت ایکشن دیتے تھے جو بہت مقبول ہوا ان کے پرستار دوڑ کے اختتام پر ان کے اس ایکشن کے منتظر رہتے۔ یوسین بولٹ دوڑ جیتنے کے بعد چند لمحوں کیلئے ساکت و جامد ہو جاتے اپنا دائیاں ہاتھ سیدھا کر کے اپنی انگشت شہادت سے آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خاموشی کی زبان سے دنیا کو پیغام دیتے کہ انہیں یہ کامیابی زمین و آسمان تخلیق کرنے والے خدا کی مہربانی سے نصیب ہوئی ہے۔
یوسین بولٹ کی تیز رفتاری کا ریکارڈ جاری برس کے ابتدائی مہینوں میں ٹوٹا ہے۔ ریکارڈ توڑنے کا اعزاز ایک پاکستانی ادارے کی حصے میں آیا ہے جو دنیا بھر میں 140ویں پوزیشن رکھتا ہے۔
دنیا میں ایسا تیز ترین انصاف اس سے قبل کہیں ہوتا نہیں دیکھا برسوں کے مفرور عدالت کے روبرو ہوئے تو منٹوں میں ضمانت کا تحفہ پیش کیا گیا پھر چند گھنٹوں میں باعزت بری ہونے کی لاٹری نکل آئی جنہوں نے یہ مقدمات تیار کئے انہوں نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر کہا کہ انہیں ان ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوئی خواہش نہیں ان کے مقدمے کو آگے بڑھانے میں کوئی دلچسپی بھی نہیں۔ العزیز، حدیبیہ ، منی لانڈرنگ کے مقدمات ختم ہوئے۔ جناب نواز شریف، شہباز شریف، اسحاق ڈار، حمزہ شہباز، حسن نواز، حسین نواز، مریم نواز سب کے سب باعزت بری ہوئے پاکستان کی معصوم ترین اور بے داغ دامن رکھنے والی عظیم محب وطن شخصیات پر خواہ مخواہ جھوٹے کیس بنائے گئے ان مقدمات پر بلامبالغہ کروڑوں روپے خرچ ہوئے، ملزمان تو باعزت بری ہو گئے ان کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملا پس جنہوں نے یہ مقدمات بنائے اور وقت و سرکاری وسائل اور روپیہ اجاڑا انہیں ہی اس جرم میں گرفتار کر کے سزا دے دی جائے لیکن نہیں نہیں انصاف کی رفتار ابھی اتنی بھی تیز نہیں اسے بریکیں بھی لگ جاتی ہیں یہ بریکیں خودکار ہیں انہیں معلوم ہے کہاں کہاں رکنا ہے اور کہاں انصاف کے ڈمپر کو کس پر چڑھنے اسے کچلنے کی آزادی دینی ہے بلکہ کھلی چھٹی دینی ہے۔
رمضان کے بابرکت مہینے میں انصاف کی تیز رفتار فراہمی کے بعد دوسرا نیک کام بھی زور و شور سے جاری ہے غریبوں ناداروں کو گھر کی دہلیز پر راشن پہنچانے کا منصوبہ تو بتایا گیا لیکن کچی آبادیوں کی تنگ گلیوں میں سرکاری گاڑیاں نہ پہنچ سکیں۔ گھر کی دہلیز پر سب کچھ پہنچ جاتا تو وہ تماشا نہ لگتا جو غریبوں کی مدد کا حسن سمجھا جاتا ہے، عورتوں، بچوں، بزرگوں کو دھکے، دوپٹے، چادریں تار تار پھر دو چار افراد کی موت نہ ہو تو کیسے معلوم ہو کہ حکومت حرکت میں ہے تمام تر حکومتی کوششوں کے حق داروں تک حق نہیں پہنچ سکا بعض شہروں سے مافیا نے سازباز کر کے سٹاک خفیہ خانوں تک پہنچا دیا لیکن سب سے زیادہ بڑا حق دار بالاخر سامنے آ ہی گیا وہ خود تو انتہائی غیرت مند جانا جاتا ہے اس نے تمام عمر حق حلال کی روزی کمائی وہ تمام عمر گھر نہ بنا سکا۔ فارم ہائوس زرعی زمین اور غیر ممالک میں جائیدادیں تو فقط ایک خواب تھا وہ درحقیقت زکوٰۃ کا مستحق تھا اسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے وظیفہ ملنا چاہئے تھا۔ وہ حکومت پنجاب میں اعلیٰ ترین عہدوں پر کام کرتا رہا پھر اس کی امانت دیانت اور شرافت سے متاثر ہو کر ان صلاحیتوں کے قدر دانوں نے اسے نگران حکومت میں وزیر کا عہدہ پیش کیا انتخابات کے بعد بننے والی حکومت میں اسے مشیر مقرر کر کے عہدہ وفاقی وزیر کے برابر کیا گیا تاکہ وہ غربت کی چکی میں تمام عمر پسنے کے بعد آخری عمر میں کچھ سکھ کا سانس لے سکے۔
وہ اس قدر تنگ دست تھا کہ اپنے بچوں کو کسی بھی ڈھنگ کے سکول میں پڑھانے کی فیس بھی ادا نہ کر سکتا تھا اس نے اپنے بچوں کی فیس معاف کرنے کی درخواست کی جو رد کر دی گئی لیکن صوبے کے آئینی سربراہ کو اس کی حالت زار پر ترس آ گیا انہوں نے نیک چلن غریب سائل کی مجبوریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے بچوں کی فیس معاف کر دی یہ یقیناً کوئی جرم نہیں لیکن ان کے اس نیک عمل پر دنیا بھر سے تنقید کی جاری ہے۔
اس غریب اور تعلیم و علم دوست شخص کی حالت زار پر ترس کھاتے ہوئے مسلم لیگ ( ن) کے تاحیات قائد کی تصویر والا امدادی سامان کا توڑا اس کی دہلیز پر پہنچانا بہت ضروری ہے کیا خبر اس کے بیوی بچے کب سے بھوکے پیاسے ہوں ان کے پاس روزہ رکھنے اور روزہ کھولنے کا سامان ہے کہ نہیں اس قسم کے خود دار خاندان پانی پی کر روزہ رکھتے اور نمک سے افطار کرتے دیکھے گئے ہیں یہ نیک کام لاہور میں صرف دو شخصیات ہی کر سکتی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ حکم دیں اور ایس پی شہربانو ان کے حکم پر عملدرآمد کرائیں ان کے علاوہ یہ کام کسی اور پر چھوڑا گیا تو غریب آدمی کا خاندان ترستا رہ جائے گا بھوکا پیاسا رہ جائے گا مریم نواز ایک اور نیک کام بھی لگے ہاتھوں کر سکتی ہیں۔ رمضان ختم ہونے کے بعد عید آئے گی یہ خاندان عید کے روز اپنے آس پاس لوگوں کو زرق برق کپڑے پہنے، نئے جوتے پہنے، خوشبوئیں لگائے بال بنائے اٹھکیلیاں کرتے دیکھے گا تو کیا سوچے گا۔ وہ چاہیں اپنے چھوٹے ہو چکے یا آئوٹ آف فیشن کپڑے بھی ان کیلئے بھجوا سکتی ہیں۔ لوگ انہیں یہ کپڑے پہنے دیکھ کر سوچیں گے کہ یہ لنڈے سے خریدے گئے کپڑے ہیں کیونکہ غریب آدمی عمدہ کپڑا خود تو خرید نہیں سکتا اگر خرید لے تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ لنڈے سے اچھا مال ہاتھ آ گیا ہے، خیر لوگ کچھ بھی کہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہی لوگ تو کسی کو خوش دیکھ ہی نہیں سکتے اب مریم نواز صاحبہ نے اپنی گاڑی کے ٹائروں کیلئے اگر چند کروڑ روپے مانگ ہی لئے ہیں تو اس پر تنقید کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا انہوں نے یہ رقم درحقیقت کسی اور نیک کام پر خرچ کرنے کیلئے مانگی ہو اور بتایا اس لئے نہ ہو کہ کسی ضرورت مند کی عزت نفس مجروح نہ ہو ورنہ انہیں ٹائروں کی کیا کمی ہے ان کے ایک اشارے پر ٹائروں کی فیکٹری لگ سکتی ہے، انہیں چاہئے کہ اس غریب وزیر کے گھر جا کر اس کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کریں اور اس کے دو مرلے کے گھر میں ننگی چارپائی پر بیٹھ کر اس کے میلے کچیلے بچوں کو سینے سے لگائیں گود میں اٹھائیں اور اگر مشکل پیش نہ آئے تو ان بچوں کا منہ چومیں لیکن ساتھ سرکاری ویڈیو گرافر اور فوٹو گرافر بے جانا نہ بھولیں تاکہ جب وہ گھر کی کنڈی کھٹکھٹا کر پوچھیں کہ یہ احد چیمہ کا گھر ہے تو منظر ریکارڈ کرنے کیلئے ٹیم گھر کے اندر پہلے سے موجود ہو ورنہ اس نیکی کو قوم نہ دیکھ پائے گی یوں یہ نیکی تو ہو جائے گی لیکن دریا برد ہو جائے گی غریب وزیروں کی مدد اللہ جزا دے۔
یوٹیلیٹی بلز ادا کرنے کیلئے میں نے اپنی سونے کی بالیاں فروخت کی ہیں یہ رقم بھی اس کارخیر کیلئے حاضر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button