Column

پاکستان کیسے قائم رہے گا

علامہ ہشام الہٰی ظہیر

ہم بچپن سے سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ اس خطے میں صدیوں سے دو بڑی قومیں آباد تھیں اس سے قبل اس خطے میں صرف ہندو آباد تھے 1300برس ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے باوجود ان دونوں قوموں کی بعض امتیازی خصو صیات نے ان دو قوموں کو آپس میں مکمل طور پر خلط ملط نہ ہونے دیا بہت سے رسم و رواج ایک دوسرے کی ثقافت میں داخل ہونے کے باوجود دونوں قوموں نے اپنی شناخت برقرار رکھی اور اسی انفرادیت نے بالآخر دو قومی نظریے کی بنیاد ڈالی جو بعد میں پاکستان کی اساس ثابت ہوا۔ دور حاضر کے بعض مفکرین ، دانشور اور چند جدت پسند نام نہاد عالم دین مستقل مزاجی سے یہ بات کہتے چلے آرہے ہیں کہ پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ نہیں تھاجو سراسر حقائق کے منافی اور جھوٹ پر مبنی فلسفہ ہے جسے اسلئے گھڑا جا رہا ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شائد پاکستان اب ایسے ہی بچ سکتا ہے یا قائم رہ سکتا ہے لیکن در حقیقت وہ یہ بات بھول گئے ہیں کوئی بھی شے اُسی وقت تک باقی رہتی ہے جب تک اسکی اصل کی نگہداشت کی جاتی ہے۔
قارئین کرام! میں ان سے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں (1)اگر پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ نہیں تھا تو اور کیا تھا؟(2)اگر پاکستان کا مقصد سیکولر اسٹیٹ قائم کرنا تھا تو پھر کیا ہمارے لئے ہندوستان کی سیکولر اسٹیٹ اس مقصد کیلئے کافی نہیں تھی؟(3)اگر پاکستان کے قیام کا مقصد تعلیمی ادارے، ہسپتال، کالجز، یونیورسٹیاں، پل، سڑکیں اور حکومتی اداروں کا قیام ہی تھا تو کیا یہ کام ہندو ستان میں رہ کر نہیں ہو سکتے تھے؟(4)آج کی نوجوان نسل ان دانشوروں سے یہ جواب ضرور مانگنا چاہتی ہے اگر صرف مضبوط اور معاشی طور پر خوشحال پاکستان ہی اس وطن عزیز کے قیام کا اصل مقصد تھا تو یہ مقصد ہندوستان میں رہتے ہوئے کیونکر پو را نہیں ہو سکتا تھا ؟ (5)پاکستان میں عام انتخابات کے موقع پر جس قسم کے کھوکھلے، جھوٹے نعرے سیا سی جما عتیں عوام کو دھوکہ دینے کیلئے لگاتی ہیں مثلاً روٹی، کپڑا، مکان، لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ، کرپشن کا خاتمہ، غربت، جہالت، بیروزگاری کا خاتمہ ، مہنگائی کا خاتمہ وغیرہ۔ اگر یہ نعرے ہندوستان کی انتخابی سیاست سے مختلف نہیں ہیں تو پھر ہم نے الگ ملک کیوں بنایا؟(6)پاکستان میں جغرافیائی ، لسانی بنیا دوں پر مختلف قسم کی جو قومیں آباد ہیں جن میں سندھی، بلو چی، پٹھان، پنجابی، سرائیکی، بنگالی کے علاوہ برادریوں کے اعتبار سے جاٹ، راجپوت، آرائیں، شیخ، کھوکھروغیرہ ان کو کس چیز نے ہندوستان کی اپنی ہی برادریوں سے الگ کیا؟۔
قارئین کرام!وطن عزیز میں عموماً نام نہاد دانشور قوم کو یہ مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان کی بنیاد چونکہ’’ دو قومی نظریہ‘‘ ہے تو پاکستان ایک’’ قومی ریاست‘‘ ہے یہی وہ اصطلاح ہے جس سے یہ لوگ نوجوانوں کو مغالطے میں مبتلاکئے ہوئے ہیں دو قومی نظریے میں قوموں سے مراد ’’ ہندو‘‘ اور ’’ مسلمان‘‘ ہیں نہ کہ ہندوستان اور پاکستان میں جو برا دریاں اور قومیں جغرافیائی اعتبار سے آباد ہیں اگر قومی ریاست کا مطلب یہ لیا جائے کہ پاکستان پنجابی، پٹھان، بنگالی، سندھی، بلو چی، سرائیکیوں پر مشتمل ایک ملک کا نام ہے تو پھر پاکستان کی بنیا دیں اُسی وقت کمزور پڑ جائیں گی کیونکہ پاکستان سے زیادہ پنجابی اور بنگالی ہندوستان میں آباد ہیں اسطرح پاکستان سے زیادہ پٹھان اور بلوچی بالترتیب افغانستان اور ایران میں آباد ہیں اگر قوموں کی تقسیم لسانی اور برادریوں کی بنیا د پر کی جائے تو پاکستان کا بلوچستان ایران میں ہو تا اور پختونستان افغانستان میں ہوتا اور پنجاب ہندوستان میں ہو تا پاکستان میں موجود ان قوموں کو اگر کسی نے ایک لڑی میں پرویا تھا تو وہ عصبیت مذہب کی عصبیت تھی اس خطے میں رہنے والے مسلمانوں نے خواہ ان کا تعلق کسی بھی قوم یا برادری سے تھا۔ اُنہوں نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ ساری برادریاں ایک طرف آج کے بعد ہما ری برادری اسلام کی برادری ہو گی اسی لئے پاکستان کا مطلب کیا ’’ لا الہ اللہ ‘‘ کا نعرہ مقبول عام ہوا۔
قارئین کرام ! ہما رے دانشوروں ، علماء ، مفکرین کے طبقے کو اعزاز کے طور پر یہ بات تسلیم کرنی چاہئے کہ ہم نے یہ وطن عزیز صرف اسلئے حاصل کیا تھا کہ ہم یہاں پر اسلامی فلاحی ریاست کا قیام عمل میں لائیں اور اُس نظام کو رول ماڈل بنائیں جس کی بنیاد آج سے تقریباً چودہ سو سال قبل نبی آخر الزماں، سرور کونین حضرت محمد الرسولؐ اللہ نے مدینہ طیبہ میں رکھی تھی یہ اور بات ہے کہ ہم اس مقصد کے حصول میں بُر ی طرح ناکام ہو گئے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے اصل مقصد کو بھول کر پاکستان کی تخلیق کے مقصد کو ہی تبدیل کرنے کے پیچھے پڑ جائیں وہ بھی نہایت کھوکھلے بے جان نعروں کے ذریعے یقین کیجئے پھر ہر پاکستانی نوجوان یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیگا کہ ہم ہندو ستان سے علیحدہ ہی کیوں ہوئے ؟ الحمد للہ اگر ہم ہندوستان سے علیحدہ ہوئے تو اس کیلئے ہما رے اکابرین نے ناقابل فراموش قربا نیاں دیں تا کہ ہم الگ وطن میں آزادانہ اسلامی اطوار کے مطابق اپنی زندگیوں کو بسر کریں جس کا دستور و منشور قرآن و سنت ہو اور اس میں ایسا اسلامی معاشرہ تشکیل پا یا جائے جیسا اسلامی معاشرہ مدینہ کی سر زمین میں قائم کیا گیا تھا ایسا وطن جس میں ہر شہری کو نبی کریم ٔ کے اُسوہ حسنہ پر چلنا تھا اور شریعت محمدی ٔ کی پیروی کرنا تھی۔ قارئین کرام! آج ہم اپنے مقصد سے دور ضرور ہیں لیکن عربی محاورہ ہے’’ ہر شے اپنے اصل کی طرف لوٹتی ہے‘‘، آج وطن عزیز میں نظام مصطفیؐ رائج ہو گا تو ہما ری علیحدگی کا مقصد پو را ہو گا اور ہم نے جس مقصد کے حصول کیلئے الگ وطن حاصل کرنے کی جدوجہد کی تھی وہ پا یہ تکمیل تک پہنچ جائیگا ۔ پاکستان میں 1973ء کے آئین میں لفظی طور پر بھی ان مقاصد کا احاطہ کیا گیا ہے لیکن عملی سطح پر ان شقوں کو انکی روح کے عین مطابق نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ آج اگر ہم پاکستان کو مضبوط اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کو صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہو گا جس خواب ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ اور باسیان ہند نے دیکھا تھا اور جس کو تعبیر محمد علی جناح نے دی۔ پاکستان میں رہنے والی ان گنت قوموں کو اسلام کی لڑی کے علاوہ کوئی چیز نہیں پرو سکتی کیونکہ اسلام ہی ان میں واحد قدر مشترک ہے۔
پاکستان کا مستقبل اسلام سے وابستہ ہے اور اس روئے زمین میں اللہ اور اُس کے رسول اللہ ٔ کا نظام ہی امن و امان کا ضامن بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ذوالجلال ہما رے ملک کو اغیار کی سازشوں سے محفوظ رکھتے ہوئے اس میں امن و امان کا نزول فرماتے ہوئے اس کو قرآن و سنت کی حقیقی آماجگاہ بنا دے ( آمین ثم آمین)۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button