Column

یہ تھے بڑے لوگ

تحریر : سیدہ عنبرین
واقعہ چند روز قبل کا ہے ایک بہن ڈیفنس لاہور میں رہتی ہیں ان کی طرف سے قریباً پندرہ خواتین کو فون آیا کہ کل ان کے یہاں افطار ڈنر پر تشریف لائیں۔ دعوت صرف خواتین کی تھی لہٰذا گھر کے مردوں سے کہا گیا کہ وہ اپنی افطاری کا انتظام کر لیں افطار سے دو گھنٹے قبل میزبان کا فون آیا افطار ڈنر ملتوی کر دیا گیا ہے وجہ پوچھی تو کہا گیا پھر بتائوں گی ۔ تجسس بڑھا تو پوچھا خیر تو ہے جواب ملا نہیں لیکن پھر بتائوں گی اس کے ساتھ ہی فون بند ہو گیا۔ یہی مختصر پیغام تمام خواتین کو دیا گیا جو مدعو تھیں سب نے اپنے اپنے طور روزہ افطار کیا اور ایک دوسرے سے فون پر پوچھا افطار ڈنر کے ملتوی ہونے کے حوالے سے تمہارے پاس کیا خبر ہے ہر ایک بے خبر تھا سب کو یہی بتایا گیا کہ پھر بتائوں گی مگر سب نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ بھی کہا گیا تھا کہ خیر نہیں ہے۔ سب کو تشویش اسی جملے سے ہو رہی تھی رات یہی سوچتے سوچتے کروٹیں بدلتے گزر گئی دن چڑھا اور کچھ آگے بڑھا تو رہا نہ گیا دل میں کئی قسم کے خیال آ رہے تھے لیکن غالب خیال یہی تھا کہ اگر خیر نہیں ہے اور کوئی مشکل آن پڑی ہے تو اس میں مدد دی جائے۔
میزبان کے گھر پہنچے تو چند منٹ بعد اندازہ ہوا کہ اہلخانہ معمول کے مطابق مصروف ہیں کوئی ہلچل کوئی سراسمیگی نہیں۔ دفتروں والے دفتر جا چکے ہیں سکول کالج والے پڑھنے گئے ہیں یہ دیکھ کر یک گو نہ اطمینان ہوا کچھ اپنی بھی جان میں جان آئی، چند منٹ کے توقف کے بعد پوچھا۔ کل تم نے بتایا کہ خیر نہیں ہے۔ لہٰذا افطار ڈنر ملتوی کر دیا گیا ہے، ہوا کیا تھا۔ میزبان بہن کے ہنستے مسکراتے چہرے پر سنجیدگی کی لہر دوڑ گئی انہوں نے بتایا کہ وہ افطار ڈنر کے انتظامات میں مصروف تھیں کہ بیل بجی ملازم نے آ کر بتایا کچھ مرد اور خواتین آپ سے ملنے آئے ہیں باہر کھڑے ہیں انہوں نے گیٹ پر جا کر دیکھا تو آٹھ دس خواتین اور چار پانچ مرد تھے جن کی عمریں اٹھارہ سے بائیس چوبیس برس کے درمیان تھیں، انہیں دیکھ کر خیال آیا کہ شاید کچھ مدد چاہتے ہیں لہٰذا ان کی بات سنے بغیر ہی کہہ دیا۔ بھائی جو کچھ اللہ کی راہ میں دینا تھا وہ زکوٰۃ کی شکل میں دے چکے ہیں، کچھ خواتین مسکرائیں اور کہنے لگیں باجی ہم آپ سے ایک روپیہ بھی نہیں لینا چاہتے، لیکن آپ ہماری بات سن لیں ان کے اس حملے سے اندازہ لگایا کہ طلب کچھ زیادہ کی ہو گی لہٰذا اپنی مصروفیت کو ذہن میں لاتے ہوئے کہا کہ آج نہیں پھر کسی وقت آ جائیں اس پر ان میں ایک خاتون نے کہا ہم آپ سے صرف پانچ منٹ لیں گے۔ مجھے اندازہ ہوا وہ اپنی بات کئے بغیر شاید پیچھا نہ چھوڑیں۔
میری بہن بتانے لگیں کہ انہوں نے بادل نخواستہ وہیں کھڑے کھڑے ان سے کہا کہ جی بتائیں لیکن ذرا جلدی کریں میری کچھ مصروفیت ہے انہوں نے قریب کھڑی چنگ چی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا وہ لوگ مانگنے والے نہیں ہیں سب مزدوری پیشہ لوگ ہیں ہر مرد ہر عورت حتیٰ کہ ان کے بچے بھی کچھ نہ کچھ کرتے ہیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے لیکن سب کچھ کرنے کے باوجود وہ دو وقت کی روٹی تو کما کھا رہے ہیں لیکن ان سب کا شمار غریبوں میں ہوتا ہے پھر انہوں نے بتایا کہ انہیں لائنوں میں لگ کر دھکے کھا کر کپڑے پھڑوا کر حکومت پنجاب کی طرف سے نگہبان پیکیج موصول ہوا ہے جس کے تھیلے پر چیف منسٹر پنجاب محترمہ مریم نواز کے والد محترم کی تصویر ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں جناب نواز شریف کی تصویر بھی اچھی لگتی ہے لیکن جب یہ امدادی تھیلے لے کر گھر پہنچے تو بچوں نے غزہ کے بارے میں ایک ڈاکومنٹری دکھائی جس میں کمسن بچیاں بتا رہی تھیں کہ انہوں نے گزشتہ دو روز سے روٹی کی شکل نہیں دیکھی ان بچیوں سے انٹرویو کرنے والی اینکر نے سوال پوچھا تو ایک بچی نے جواب دیا کہ وہ دو روز سے درختوں کے پتے کھا رہے ہیں اور تمام اہلخانہ کیلئے موجود ایک بوتل پانی سے چند گھونٹ پانی پی لیتے ہیں اتنا کہہ کر وہ خاتون رک گئی اس کی آواز گلے میں پھنس کر رہ گئی پھر وہ روتے روتے بمشکل اپنی بات مکمل کر سکی کچھ ایسا ہی حال دوسری عورتوں کا تھا سبھی رو رہی تھیں یہ سب کچھ دیکھ کر کچھ ہمسائے بھی اکٹھے ہو گئے۔ ان خواتین کا کہنا تھا ہمارے مرد سر پر سلامت ہیں ہمارے سر پر چھت موجود ہے ہمیں کسی دشمن کا خوف نہیں ہمیں مزدوری مل جائے گی ہم اپنی گزر بسر کر لیں گے خواہ مشکل ہی سے ہو، ہماری خواہش ہے کہ یہ امدادی سامان جو ہمیں ملا ہے آپ کی وساطت سے غزہ کے کئی روز سے بھوکے پیاسے بچوں، عورتوں، مردوں اور زخمیوں تک پہنچ جاتے، ہم حکومت کے نمائندوں تک پہنچ سکتے ہیں نہ اپنی آواز ان تک پہنچا سکتے ہیں آپ ہماری مدد کریں، اس کی بات ختم ہوئی تو میری سسکیاں بلند ہو چکی تھیں مجھے وہ سب لوگ بہت بڑے لوگ اور اپنا آپ ان کے سامنے بہت چھوٹا لگنے گا۔ میں نے ان سب کو گھر کے اندر بلایا بٹھایا اور اس موضوع پر تفصیل سے بات کی میں ان کا جذبہ دیکھ کر بہت حیران ہوئی، اس بے حس معاشرے میں یہ کون لوگ ہیں جو اپنی تنگ دستی اور غربت کے باوجود ہزاروں کلو میٹر دور بیٹھے اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں اور کمسن بچوں کیلئے تڑپ رہے ہیں میں نے ان سب کو حوصلہ دیا انہیں اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا انہیں بہت زور دے کر روکا آپ سب کو افطار ڈنر ملتوی کرنے کی اطلاع دی ان سب کو افطار کرایا کھانا کھلایا یہ بڑے لوگ تھے پہلی مرتبہ میرے گھر آئے تھے میں انہیں بغیر افطار کئے جانے دیتی، وقت رخصت میں نے ان سے گزارش کی وہ نگہبان پروگرام کے تحت ملا ہوا سامان اپنے ساتھ لے جائیں میں ان کا پیغام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ان کے چچا جان وزیراعظم پاکستان جناب شہباز شریف صاحب تک ضرور پہنچائوں گی کہ انہوں نے پاکستان میں موجود غربا اور مساکین کا خیال رکھا ہے لیکن ان بڑے اور عظیم لوگوں کی خواہش ہے کہ اس پیکیج کا نصف کم از کم پہلی دستیاب فلائٹ سے غزہ بھجوانے کا انتظام کریں اس کار خیر میں ایک ایک پل کی تاخیر بہت تکلیف دہ ہو گی۔ غزہ میں ہمارے بہن بھائی ہمارے بچے ایک ایک لقمے کو ترس رہے ہیں ایک ایک گھونٹ پانی کیلئے دنیائے اسلام کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
رمضان کے روزوں، خیرات و زکوٰۃ کے ساتھ ساتھ ماہ رمضان کا آخری عشرہ حرم میں گزارنے کیلئے ہر برس سفر اختیار کرنے والوں کیلئے ان عبادات میں اجر عظیم ہے لیکن اگر اس برس وہ اپنے وسائل اہل غزہ کیلئے مختص کر دیں تو یہ نیکی بھی کچھ کم نہ ہو گی۔
شریف خاندان کے تمام افراد زندگی میں درجنوں مرتبہ زیارت حرم کیلئے وہاں گئے انہیں دس برس وہاں قیام کا موقع ملا درجنوں عمرے اور جانے کتنے حج کر چکے ہونگے یہ سب کچھ انہوں نے خدا اور رسولؐ خدا کو راضی کرنے کیلئے کیا وہیں سے ان نیکیوں کا اجر آئے گا۔ اس مرتبہ وہ بھی اپنا سب کچھ اہل غزہ کیلئے وقف کر دیں تو یہ بھی عظیم نیکی ہو گی یوں ان کا شمار بھی ان بڑے لوگوں میں ہو گا جو اپنی ضرورتیں بھول کر اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کیلئے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں یہ کتنے بڑے لوگ ہمیں اس کا اندازہ نہیں خدا ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button