دنیا

اسرائیلیوں کا نیتن یاہو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

اسرائیلیوں کا نیتن یاہو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے، تل ابیب میں وزیر اعظم کے گھر کے باہر ایک بار پھر مظاہرین نے زبردست احتجاج کیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تل ابیب میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے گھر باہر مظاہرین نے احتجاج کیا، مظاہرین نے کہا نیتن یاہو نے اسرائیل کو بہت نقصان پہنچایا ہے ، اس لیے فوری طور پر مستعفی ہوں اور عہدہ چھوڑ دیں۔

دوسری طرف پولیس مظاہرین پر ٹوٹ پڑی، اور متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، مظاہرین نے پولیس رکاوٹوں کو توڑا اور نئے انتخابات کا مطالبہ کیا، جس پر پولیس اہلکاروں نے ان پر تشدد کیا، ہفتے کو اس سلسلے میں دو الگ ریلیاں نکالی گئی تھیں جن میں ہزاروں اسرائیلی شریک تھے۔

ٹائمز آف اسرائیل نے لکھا ہے کہ حماس اور اسرائیل جنگ نے اسرائیل کے اندر سیاسی تقسیم کا عمل روک دیا ہے، جس کا آغاز 2023 میں اس وقت ہوا جب نیتن یاہو نے عدالتی اصلاحات کے لیے اقدامات کیے، اور اس کے خلاف ملک بھر میں طوفانی مظاہرے شروع ہوئے، بہت سے لوگوں کو خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ اسرائیلی معاشرہ دو حصوں میں بٹ جائے گا۔ 7 اکتوبر کے حملے کے بعد حکومت کے خلاف نئے مظاہرے ہونے لگے ہیں۔

واضح رہے کہ غزہ پر پانچ ماہ سے جاری اسرائیلی حملوں کے خلاف دنیا کے کئی ممالک میں احتجاج کیا جا رہا ہے، لندن اور مانچسٹر میں ایک اور بڑا مظاہرہ کیا گیا، احتجاج کے دوران ہزاروں مظاہرین نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو فوری طور پر روک کر مستقل بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ پیرس میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد اسرائیلی مظالم کے خلاف سڑکوں پر نکلی، خواتین نے فلسطینی پرچم اور بینرز اٹھا کر اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔

دوسری طرف غزہ میں اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ بمباری جاری ہے، نصیرات کیمپ پر بمباری میں 13 خواتین اور بچے شہید ہو گئے، دیر البلح میں بمباری میں پانچ فلسطینی جان سے گئے، ایک طرف بمباری تو دوسری جانب بھوک سے فلسطینی زندگی کی بازی ہار رہے ہیں، شمالی غزہ میں بھوک سے نومولود اور خاتون جان سے گئیں، خوارک کی قلت کے باعث مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button