سپیشل رپورٹ

اگر عزم جواں ہو تو منزل دور نہیں، تین فٹ قد والے ڈاکٹر کی داستان!

انسان اگر کچھ حاصل کرنے کی لگن میں سرگرداں ہوجائے تو اسے منزل مل ہی جاتی ہے ایسا ہی کچھ چھوٹے قد والے ڈاکٹر کے ساتھ بھی ہوا۔

پہلے جس شخص کو حکام کی جانب سے نااہل قرار دیا گیا تھا بالآخر وہ انتہائی چھوٹے قد والا نوجوان ڈاکٹر بن گیا جو اب بڑی جانفشانی سے اپنے مریضوں کا علاج کرتا ہے۔ اسے اپنا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے کیا مشکلات پیش آئیں یہ بھی ایک حیرت انگیز کہانی ہے۔

بھارت سے تعلق رکھنے والے تین فٹ کے نوجوان نے قد کو اپنی خواہشوں کے آگے رکاوٹ نہ بننے دیا اور مصائب و مشکلات کے باجود ڈاکٹر بن کر اپنے خوابوں کی تعبیر پالی۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی ریاست گجرات کے رہائشی 23 سالہ گنیش برایا غیرمعمولی طور پر پستہ قد کے حامل ہیں مگر وہ شروع سے ڈاکٹر بننا چاہتے تھے جس کے لیے انھوں نے انتھک محنت کی اور کامیاب ہوئے۔

ڈاکٹر بننے سے قبل ان کی راہ میں کئی رکاوٹیں بھی آئیں۔ تین فٹ کے گنیش برایا کو ابتدائی طور پر میڈیکل کونسل آف انڈیا نے ایم بی بی ایس میں داخلے کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔ کونسل کے مطابق چھوٹے قد کے باعث وہ ایمرجنسی کیسز کنٹرول نہیں کر سکتے۔

اپنی دھن کے پکے نوجوان نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے خواب کی تعبیر کے لیے اُس نے اپنے اسکول کے پرنسپل کے ساتھ مل کر ضلع کلکٹر اور ریاستی وزیر تعلیم سے اس سلسلے میں مدد مانگی۔

میڈیکل کونسل آف انڈیا کیخلاف گنیش برایا نے گجرات ہائی کورٹ مقدمہ دائر کیا مگر وہ یہ مقدمہ ہار گئے لیکن پھر بھی انھیں یقین تھا کہ وہ منزل پالیں گے۔

اس فیصلے کیخلاف نوجوان نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جہاں سے گنیش نے 2018 میں مقدمہ جیت لیا اور آخر کار 2019 میں ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کرلیا۔

وہ ایم بی بی ایس کے بعد بھاو نگر کے اسپتال میں انٹرن شپ بھی کرچکے ہیں۔ نوجوان ڈاکٹر کا کہنا ہے مریض مجھے دیکھ کر چونک جاتے ہیں لیکن پھر وہ مجھے بطور معالج قبول کرتے ہیں میں ان کا علاج کرتا ہوں۔

اتنے کٹھن سفر کے باجود اور چھوٹے قد کی رکاوٹ کے باجود ایک نوجوان کا اپنی منزل پالینا یقیناً اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر حوصلے بلند ہوں تو پھر منزل مل ہی جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button