Column

جذبات اور انتخابات

محمد رائد خاں
پاکستانی سیاست کئی اتار چڑھائو کا شکار رہی ہے کبھی یہ ’’ میرے عزیز ہم وطنو ‘‘کی بدولت بگڑی ہے تو کبھی میدانِ سیاست کے شکست خوردہ شہسواروں نے ازخود بساط کھینچنے کی کوشش کی ہے۔ آج بھی سیاسی حالات بہتر نہیں اور سیاستدان تو ہرگز مبتلائے سکون نہیں ہیں۔ البتہ اس بار ہم پھر سیاستدانوں کو ہی ’’ سنگِ دشنام‘‘ کی فہرستوں میں شامل کرنے کے لیے نہیں لکھ رہے ہیں بلکہ اب باری جمہور کی ہے جنہیں پرکھنے، سمجھنے اور جاننے کی اشد ضرورت ہے۔ جن کے بغیر کوئی جمہوریت ممکن نہیں اور نہ ہی جن کا جمہوریت سے کوئی واسطہ ہے۔ یہ جملہ بظاہر متضاد معلوم ہوتا ہے لیکن اگر گہرائی میں سمجھا جائے تو یہ صورتحال کا بالکل درست عکاس ہے۔ جمہور جن کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے رہبر آپ چنتے ہیں اور اپنے حاکموں کا آپ انتخاب کرتے ہیں دراصل انتخاب کا انتہائی ’’ شعوری‘‘ فیصلہ بھی ’’ جذبات‘‘ کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ یعنی عام ووٹر منفی اور مثبت جذبات کے زیر اثر اپنے ووٹ ڈالتے ہیں۔
اس حوالے سے بیلجیم سے تعلق رکھنے والی ماہر سیاسیات کیرولین کلوز اور محقق ایمیلی وین ہوٹی کے مضمون ’’ ایموشن اینڈ ووٹ چوائس‘‘ کا مطالعہ ناگزیر ہے، جس کا ندیم فاروق پراچہ نے اپنے حالیہ مضمون میں ذکر کیا ہے جو روزنامہ ڈان کے سنڈے میگزین’ ای اوس‘ میں شائع ہوا تھا۔ کیورلین اور ایمیلی کے مذکورہ مضمون کے مطالعہ سے ہم اس حقیقت تک پہنچتے ہیں کہ در اصل ووٹر چار منفی اور چار مثبت جذبات کے پیش ِ نظر ووٹ کاسٹ کرتے ہیں اور سیاست میں دلچسپی لیتے ہیں۔ اس ضمن میں مذکورہ مضمون کا ایک اقتباس پیش ِ خدمت ہے۔
ریپ ریسنٹ 2019ووٹر سروے کا استعمال کرتے ہوئے، ووٹنگ کے رویے کے سلسلے میں آٹھ جذبات کا تجزیہ کیا گیا ہے: چار منفی ( غصہ، تلخی، فکر اور خوف) اور چار مثبت ( امید، راحت، خوشی اور اطمینان)۔ ہم تصدیق کرتے ہیں کہ ووٹروں کا جذباتی رجسٹر کم از کم دو جہتی ہے، جس میں ایک مثبت اور ایک منفی جہت ہے، جس سے سیاست کی طرف جذبات کے مختلف امتزاج کے امکانات کھلتے ہیں۔ ہمیں پارٹی کے انتخاب میں مختلف جذباتی نمونے بھی ملتے ہیں، اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم ووٹ کے انتخاب پر جذبات ( خاص طور پر منفی) کے ایک اہم اثر کو ظاہر کرتے ہیں، یہاں تک کہ جب دوسرے فیصلہ کن عناصر کو کنٹرول کرتے ہیں۔ آخر میں، ہم جذبات پر انتخابی نتائج کے اثر کو دیکھتے ہیں اور ہم فلینڈرس اور والونیا میں مخصوص حرکیات کے ساتھ ممکنہ فاتح بمقابلہ ہارنے والے اثر کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
اس اقتباس کی روشنی میں چار منفی جذبات دراصل غصہ، تلخی،فکر اور خوف جبکہ چار مثبت جذبات امید، راحت، خوشی اور اطمینان ہیں۔ اگر اس تحقیق کے پیشِ نظر پاکستانی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال کو بہت حد تک سمجھا جاسکتا ہے۔ مثلاً عمران خان صاحب اور پی ٹی آئی کو سوشل میڈیا پر اس قدر مقبولیت کیوں حاصل ہے؟ جبکہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی جیسی’’ روایتی‘‘ سیاسی جماعتوں کو بے لاگ تنقید کا سامنا ہے؟ کیوں 2018ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی مقبول ترین جماعت بن کر ابھری تھی اور کیوں آج بھی وہی مقبولیت برقرار ہے؟ اور کیوں مقتدرہ کو پی ٹی آئی حلقوں کی جانب سے تنقید اور غصہ کا سامنا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو انتخابات کے جذباتی عنصر کی تحقیق سے بہرطور سمجھے جاسکتے ہیں۔
پاکستان کی انتخابی تاریخ کے مطالعے سے یہی سبق ملتا ہے کہ مقتدرہ اور اس کے منچلے سیاستدانوں نے ’’ جذبات‘‘ کی بنیاد پر ہی عوام کو مشتعل کیا ہے اور اس عمل کو اپنے حق میں مینڈیت بٹورنے کا حربہ بنایا ہے۔ 2018ء کے عام انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی نے ریاست مدینہ کے قیام، ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کے یو ٹوپیائی نعروں کے سہارے عوام کے اندر امید اور خوشی کے جذبات سے اپنی انتخابی مہم کو تقویت پہنچائی تھی۔ اسی طرح شریف اور بھٹو خاندان کے کرپشن سکینڈلز کے سہارے عوام میں ان کے خلاف غصہ اور پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے خوف پیدا کیا گیا تھا۔ جس کا اثر آج بھی زور و شور سے پاکستان کے سیاسی سماج میں قائم ہے۔
کچھ ایسے ہی ہتھکنڈوں کا استعمال ماضی میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی کیا جاتا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی نے ’’ روٹی، کپڑا اور مکان۔ مانگ رہا ہے ہر انسان‘‘ جیسے انقلابی نعروں کا بھی خوب فائدہ اٹھایا اور عوام کو مشتعل کیا ہے۔ بالکل ایسے ہی نواز شریف نے بھی خود کو ضیا ء الحق مرحوم کا سیاسی جانشین قرار دے کر اور شریعت بل کے نفاذ کے ذریعے مذہبی حلقوں میں اپنے حامیوں کو بڑھانے کی کوشش کی ہے جبکہ اسلامی نظام کے نام پر عوام کے مذہبی جذبات کا بھی کھل کر استحصال کیا گیا ہے۔
مملکت خداداد میں خلق خدا کا جذباتی استحصال کوئی نیا قصہ نہیں ہے بلکہ اس ملک کی تمام تاریخ اس ہی کا شاخسانہ ہے۔ چاہے مارشل لاء کا تاریک دور ہو یا ان ہی کی کوکھ سے جنم لینے والے سیاستدانوں کا جمہوری دور ہو۔ عوام کا ہر سطح پر، ہر طریق سے اور ہر آن استحصال رواں رہا ہے۔ سخت گیر آمروں نے اور جمہوریت کے فرزندوں نے جذباتی سیاست کو ہی فروغ دیا ہے۔ پاکستان کے نجات دہندہ اور مردِ آہن کے روپ میں پیش ہونے والے بھی دراصل ’’ نئے پاکستان‘‘ کا خواب دکھا کر عوامی استحصال کے لیے ہی اخلاق اور اقدار کے کٹہرے میں اوروں کے ساتھ مورد الزام ہیں۔ زیرِ نظر مضمون میں اٹھائے گئے تمام سوالات کا یہی واضح جواب ہے کہ عوامی جذبات کا اس حد تک استحصال کیا گیا ہے کہ اب ریاست پاکستان اور اسکے ادارے بھی عوامی تلخی اور غصہ سے بچتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ ریاست مجموعی طور پر اس سیاسی اور جذباتی بحران کی ذمہ دار ہے جو شاید مقتدرہ کو پھر کسی ’’ نئے تجربے‘‘ سے باز رہنے کا باعث ہوسکتی ہے۔
جمہور، ریاست اور سیاستدانوں کی جانب سے نا صرف سیاسی و معاشی استحصال کا شکار ہیں بلکہ انہیں جذباتی استحصال کا بھی سامنا ہے۔ عوام میں پروپیگنڈا کے استعمال سے نا صرف انہیں سطحی بیانیوں پر یقین کرنے کا پابند بنایا گیا ہے بلکہ پاکستان میں کسی یوٹوپیا کے قیام کے دعوئوں کے ساتھ مسحور رکھنے کی کوشش اب بھی جاری ہے۔ بہرحال، اس ضمن میں مزید کہنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن یہاں اپنے اس شعر پر مضمون کا اختتام بہتر ہوگا:
جذبات کے آنگن سے انتخاب پھوٹے
شعور اور منطق سے سب چُھوٹے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button