Editorial

شہباز شریف وزیراعظم منتخب، حلف اُٹھا لیا

8فروری 2024ء کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد سے حکومت سازی کے معاملات جاری ہیں اور اب یہ تکمیل کے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں۔ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا انتخاب عمل میں آچکا ہے۔ چاروں صوبوں کی اسمبلیوں کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر چُن لیے گئے ہیں۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز وزیراعلیٰ منتخب ہوئی ہیں، سندھ میں پیپلز پارٹی کے مُراد علی شاہ کو تیسری بار مسلسل وزیراعلیٰ سندھ منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا، بلوچستان میں بھی پی پی سے تعلق رکھنے والے میر سرفراز بگٹی وزیراعلیٰ چُنے گئے، اور خیبر پختونخوا میں سنی اتحاد کونسل ( پی ٹی آئی) کے علی امین گنڈاپور وزیراعلیٰ منتخب کیے گئے۔ یہ تمام اپنے عہدوں کا حلف اُٹھا چکے ہیں۔ رب العزت کا لاکھ شکر ہے کہ اتوار کو قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں میاں محمد شہباز شریف کا دوسری بار ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے انتخاب عمل میں آیا ، اُنہوں نے اپنے عہدے کا حلف بھی اُٹھا لیا ہے، جلد ہی صوبوں اور وفاق میں حکومتوں کی تشکیل کا عمل مکمل ہوجائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی اسمبلی نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو 16واں قائد ایوان اور ملک کا 24واں وزیراعظم منتخب کرلیا۔ اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب کے عمل کا آغاز ہوا، جہاں شہباز شریف کو پاکستان کا نیا وزیراعظم منتخب کرلیا گیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا کہ شہباز شریف 201ووٹ لے کر وزیراعظم پاکستان منتخب ہوئے جبکہ عمر ایوب نے 92ووٹ حاصل کیے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا، وہ ایوان میں بیٹھے رہے۔ اتوار کو قومی اسمبلی اجلاس کا وقت 11بجے مقرر تھا، لیکن اجلاس تاخیر کا شکار ہونے کے ایک گھنٹے بعد اسپیکر ایاز صادق کے زیرصدارت شروع ہوا۔ وزارت عظمیٰ کے انتخاب میں حکومتی اتحاد کے امیدوار شہباز شریف اور تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوار عمر ایوب مد مقابل تھے۔ وزارت عظمیٰ کیلئے شہباز شریف کو پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، آئی پی پی اور دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل تھی جبکہ جے یو آئی نے وزیراعظم کے انتخاب کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ قومی اسمبلی اجلاس شروع ہوتے ہی ایوان میں شور شرابہ شروع ہوگیا، اجلاس میں اتحادیوں اور سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے شدید نعرے لگائے، سنی کونسل کے اراکین نے سپیکر ڈائس کا گھیرائو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کے حق میں نعرے لگائے۔ اس کے اگلے روز نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے 24ویں وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ ایوان صدر میں تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، تقریب میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی شریک تھے۔ اس کے علاوہ آصف زرداری، نوازشریف، بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بھی تقریب میں شریک تھے جبکہ مختلف ممالک کے سفیر بھی تقریب حلف برداری کا حصہ تھے۔ صدر مملکت عارف علوی نے نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف سے حلف لیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی حلف برداری کے بعد وزیراعظم ہائوس میں مسلح افواج کی جانب سے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعظم آفس کے عملے کا تعارف کرایا گیا۔ میاں شہباز شریف کو دوسری بار وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارک باد۔ ان پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ یہ قوم کی توقع پر پورے اُتریں گے۔ آخر کار حکومت سازی کے حوالے سے مایوسی کے تمام بادل چھٹ گئے، طرح طرح کی افواہیں بھی دم توڑ گئیں، عام انتخابات سے قبل بھی اسی طرح کی افواہیں زیر گردش رہی تھیں کہ عام انتخابات کا انعقاد عمل میں نہیں آسکے گا اور الیکشن ملتوی کر دئیے جائیں گے، لیکن عام انتخابات ہوئے اور ایسی افواہیں پھیلانے والوں کو منہ کی کھانی پڑی۔ گو عام انتخابات کے نتیجے میں کوئی بھی سیاسی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کر سکی۔ اس لیے اتحادی حکومت تشکیل پا رہی ہے۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم ( پاکستان)، استحکام پاکستان پارٹی، مسلم لیگ ( ق) اور دیگر اتحادی جماعتوں نے سیاسی تدبر، دُوراندیشی اور دانش کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کو مشکلات کے بھنور سے نکالنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ گو پیپلز پارٹی وفاق میں کوئی عہدہ نہیں لے رہی، تاہم اُس نے میاں شہباز شریف کو اعتماد کے ووٹوں سے نوازا ہے اور پی پی رہنما سابق صدر آصف علی زرداری صدارتی عہدے کے لیے مضبوط ترین امیدوار ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ ملکی معیشت انتہائی مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ اکثر صنعتوں کو تالے ہیں، مہنگائی کے ستائے غریبوں کے منہ پہ نالے ہیں، ہر شے کے دام مائونٹ ایورسٹ سر کر رہے ہیں، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بھی تاریخی بلندی پر ہیں، کاروبار کے لیے صورت حال مشکل ہے، بے روزگاری کا عفریت تباہ کاریاں مچا رہا ہی، پاکستانی روپیہ بے توقیری کی انتہائوں پر ہے۔ اوپر سے ملک پر قرضوں کا ہولناک بار ہے۔ صورت حال مشکل اور بڑا وبال ہے۔ ایسے میں اقتدار کسی طور پھولوں کی سیج نہیں، بلکہ کانٹوں سے پُر ایسا راستہ ہے، جس سے گزرنا چنداں آسان نہیں۔ لہٰذا حکومت کو ملک اور قوم کو ترقی کے سفر پر گامزن کرنے کے لیے پھونک پھونک کر قدم اُٹھانے ہوں گے۔ نگراں سیٹ اپ سے قبل بھی شہباز شریف وزیراعظم تھے۔ اُن کی حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ کے خطرے سے بچایا تھا۔ اُمید ہے کہ اُن کا یہ تجربہ اس بار نئی قائم ہونے والی حکومت میں کام آئے گا۔ ملک اور قوم کو ترقی اور خوش حالی سے ہمکنار کرنے کا چیلنج مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن ہرگز نہیں۔ سب سے پہلے نئی حکومت کو شاہانہ اخراجات کو چھوڑنا ہوگا اور حقیقی کفایت شعاری کی روش اختیار کرنی ہوگی۔ ملک عزیز میں وسائل کی کمی نہیں، ان کے ذریعے تمام مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے، بس نیک نیتی کے ساتھ سنجیدہ بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ زرعی ملک ہونے کے ناتے پاکستان کی زمینیں سونا اُگلتی ہیں۔ ان زمینوں میں قدرت کے عظیم خزینے مدفن ہیں۔ پاکستان قدرت کے عظیم اور خوبصورت ترین مقامات کا حامل اور سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے، سیاحت کی صنعت کے فروغ کے اقدامات سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ سب سے بڑھ کر پاکستان کو 60فیصد سے زائد نوجوانوں کا ساتھ میسر ہے، اتنی زیادہ تعداد میں نوجوان کا ساتھ حاصل ہونا، خود ترقی کی کنجی کہلاتی ہے، ان نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے اور قابل بنانے کے لیے اُن کی درست رہنمائی کا بندوبست کیا جائے۔ یقیناً صورت حال چند ہی سال میں بہتر رُخ اختیار کر لے گی اور خوش حالی و ترقی کا دور دورہ ہوگا۔
پنجاب میں نمونیا سے 456بچے جاں بحق
اس بار موسم سرما پنجاب کے سیکڑوں گھرانوں پر غم و اندوہ کے پہاڑ توڑتا دِکھائی دے رہا ہے۔ نمونیا سے اتنی اموات پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئیں، جتنی اس بار ہوچکی ہیں۔ 456اطفال نمونیا کی وجہ سے اس سال داعیٔ اجل کو لبیک کہہ چکے ہیں، سیکڑوں مائوں کی گودیں اُجڑ چکی ہیں اور اب بھی یہ سلسلہ رُکا نہیں ہے، روزانہ ہی اس حوالے سے اطلاعات میڈیا کے ذریعے سامنے آرہی ہیں۔ روزانہ ہی سیکڑوں نمونیا کے نئے کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔ کچھ بچے جاں بحق ہورہے ہیں۔ اس ضمن میں ماہرین صحت کا کہنا ہے پنجاب میں نمونیا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی بڑی وجہ رواں سال موسمِ سرما میں فضائی آلودگی کے باعث پیدا ہونے والی اسموگ بھی ہے۔ نمونیا پھیپھڑوں کے اندر انفیکشن کو کہا جاتا ہے۔ اس مرتبہ اسموگ میں بھی شدّت دیکھنے میں آرہی ہیں۔ اس کے تدارک کے لیے سابق نگراں حکومت کوشاں رہی، کئی اقدامات کیے، لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات رہا۔ روز بروز معصوم بچوں کے نمونیا سے جاں بحق ہونے کی اطلاعات آرہی ہیں، ان میں کسی طور کمی واقع نہیں ہورہی ہے، عوام میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔ پنجاب حکومت کو اس صورت حال کے تدارک کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں، وہیں لوگوں کو بھی بچوں اور بزرگوں کو اس سخت موسم سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ روز بھی 5معصوم بچے نمونیا کے باعث جان کی بازی ہارگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں خطرناک نمونیا مزید 5بچوں کی زندگیاں نگل گیا۔ پنجاب میں 24گھنٹوں کے دوران نمونیا کے 464اور لاہور میں 98نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ پنجاب میں رواں سال نمونیا سے 456اموات ہوئی ہیں اور 36ہزار کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ صرف لاہور میں رواں سال نمونیا سے 73اموات ہوئیں اور 8085کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ صورت حال تشویش ناک ہونے کے ساتھ لمحہ فکر بھی ہے۔ نومنتخب پنجاب حکومت کو اس کے تدارک کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہئیں۔ دوسری جانب ان سطور کے ذریعے لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ موسم سرما میں ہر طرح کی احتیاط کا مظاہرہ کریں۔ بچوں اور بزرگوں کی قوتِ مدافعت کمزور ہوتی ہے۔ ان کو موسمی شدّت سے بچانے کے لیے ہر طرح کے انتظامات کیے جائیں۔ انہیں موسم کی سختی سے ہر صورت تحفظ دیا جائے۔ ان کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ غیر ضروری انہیں گھروں سے باہر نہ لے جایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button