Editorial

وزیراعظم کا انتخاب آج

پاکستان میں حکومت سازی کی جانب قدم تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا انتخاب عمل میں آچکا ہے۔ اسپیکرز اور ڈپٹی اسپیکرز منتخب کیے جاچکے ہیں۔ 8فروری کے انتخابات کے نتیجے میں کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کر سکی۔ اس لیے مرکز میں اتحادی حکومت کا قیام ہی عمل میں آسکتا ہے۔ اس کے لیے مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان معاملات طے ہوچکے ہیں۔ وزیراعظم کے لیے میاں شہباز شریف مشترکہ امیدوار ہیں جبکہ صدر مملکت کے لیے آصف علی زرداری مشترکہ امیدوار ہوں گے۔ اس حوالے سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے جاچکے ہیں۔ سنی اتحاد کونسل ( پی ٹی آئی) کے وزارتِ عظمیٰ کے لیے عمر ایوب امیدوار ہیں جبکہ صدر مملکت کے عہدے کے لیے محمود خان اچکزئی کو نامزد کیا گیا ہے اور ان کی جانب سے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے جاچکے ہیں۔ آج ملک کے نئے وزیراعظم کا انتخاب عمل میں آئے گا۔ دعا ہے کہ یہ مرحلہ بہ احسن و خوبی انجام کو پہنچے۔ گزشتہ روز جہاں پی پی کے میر سرفراز بگٹی بلوچستان کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، وہیں پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے علی امین گنڈاپور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ چُنے گئے، اسی روز قومی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب عمل میں آیا۔ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سردار ایاز صادق ایک بار پھر قومی اسمبلی کے اسپیکر چُنے گئے جبکہ پی پی سے تعلق رکھنے والے غلام مصطفیٰ شاہ کا بہ حیثیت ڈپٹی اسپیکر انتخاب عمل میں آیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے نامزد سردار ایاز صادق قومی اسمبلی کے اسپیکر اور پیپلز پارٹی کے سید غلام مصطفیٰ شاہ ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوگئے۔ راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں اراکین نے خفیہ رائے شماری کے ذریعے اسپیکر کے عہدے کے لیے امیدواروں کو ووٹ کاسٹ کیا۔ راجہ پرویز اشرف نے سردار ایاز کی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اسپیکر کے عہدے کے لیے کل 291 ووٹ ڈالے گئے، جس میں ایک ووٹ مسترد ہوا اور سردار ایاز 199ووٹ حاصل کرکے قومی اسمبلی کے نئے اسپیکر منتخب ہوگئے ہیں۔ راجہ پرویز اشرف نے اعلان کیا، سردار ایاز صادق کے مقابلے میں سنی اتحاد کونسل کے امیدوار ملک عامر ڈوگر نے 91 ووٹ حاصل کیے۔ بعدازاں راجا پرویز اشرف نے ایاز صادق سے قومی اسمبلی کے 23ویں اسپیکر کی حیثیت سے حلف لیا۔ اسپیکر منتخب ہونے کے بعد ایاز صادق ملک عامر ڈوگر کی نشست پر گئے اور ان کے ساتھ مصافحہ کیا، ایاز صادق نے حامد رضا اور عمر ایوب خان سے بھی مصافحہ کیا جب کہ یوسف رضا گیلانی نے پُرجوش طریقے سے گلے لگاکر ایاز صادق کو مبارکباد دی جبکہ نومنتخب اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ کوشش ہوگی حکومت اور اپوزیشن میں تفریق نہ کروں، میری طرف سے آپ میں سے کسی کی عزت میں کمی نہیں آئے گی۔ تیسری بار اس کے لیے مجھے نامزد کرنے پر نواز شریف کا شکر گزار ہوں، شہباز شریف سے بہت کچھ سیکھا، اعتماد کرنے پر آصف زرداری کا بھی شکر گزار ہوں، خالد مقبول صدیقی اور ان کی جماعت کا بھی شکر گزار ہوں، چودھری شجاعت اور عبدالعلیم خان کا بھی شکر گزار ہوں۔ بعدازاں نومنتخب ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے بھی حلف اٹھالیا۔ اسپیکر ایاز صادق نے ان سے ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کا حلف لیا۔ سید غلام مصطفیٰ شاہ نے ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں 197ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے مدِمقابل جنید اکبر نے 92ووٹ حاصل کیے۔ ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے کُل 290 ووٹ ڈالے گئے۔ اس سے قبل اجلاس کے آغاز پر سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی جانب سے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، اس موقع پر اراکین نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حق میں نعرے لگائے۔جمہوری حکومت کے قیام کے لیے معاملات رفتہ رفتہ آگے بڑھ رہے ہیں۔ آج ملک کے نئے وزیراعظم کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ میاں شہباز شریف اور عمر ایوب کے درمیان مقابلہ ہے۔ یہ مرحلہ بھی بہ حُسن و خوبی انجام کو پہنچے۔ اپوزیشن کو اپنا حقیقی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ مخالفت برائے مخالفت کی سیاست کے بجائے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں سوچا جائے اور حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کیا جائے۔ حکومت کی خامیوں پر جہاں اُسے تنقید کا نشانہ بنایا جائے، وہیں خوبیوں پر کُھلے دل سے تعریف و توصیف بھی کی جائے۔ سیاسی دانش، تدبر اور دُور اندیشی اسی کا تقاضا کرتی ہے۔ نئی حکومت کے لیے حالات ہرگز سازگار نہیں۔ اُسے بہت سے سنگین چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ اقتدار کانٹوں سے پُر راستہ ثابت ہوگا، جس سے انتہائی احتیاط کے ساتھ گزرنا ہوگا اور ملک و قوم کو مشکلات سے نکالنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ مسائل بے شمار ہیں اور وسائل کی بھی کمی نہیں۔ قدرت کی عظیم نعمتوں سے مالا مال ملک ہے۔ زراعت کا ملکی معیشت میں بڑا حصّہ ہوتا ہے۔ اس حوالے سے پیداوار کو بڑھانے کے لیے جدید زرعی طریقوں کو رواج دینے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ملک کے بعض حصّوں میں اقدامات جاری ہیں۔ اسی طرح یہاں کی زمینوں میں قدرت کے انمول خزانے مدفن ہیں، ان کو تلاش اور دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک قدرت کے عظیم، لازوال اور دلکش مناظر اور مقامات کا حامل ہیں۔ سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے۔ سیاحت کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات ملک و قوم کو خوش حالی کی راہ پر گامزن کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ وطن عزیز کو 60فیصد سے زائد نوجوانوں کا ساتھ میسر ہے، جو کسی بھی ملک کی تقدیر بدل دینے کی پوری اہلیت رکھتے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے مواقع کشید کیے جائیں اور ان کی صلاحیتوں کو بھرپور طور پر نکھارا جائے۔ بس نیک دلی اور ملک و قوم کے مفاد میں شفافیت سے کیے گئے اقدامات کے مثبت اثرات ظاہر ہوں گے۔
مہنگائی کی شرح میں بڑا اضافہ
پاکستان کے غریب عوام پچھلے 6 سال سے مہنگائی کے بدترین نشتر سہہ رہے ہیں۔ گرانی کی شرح تین، چار گنا بڑھ چکی ہے جب کہ آمدن اس تناسب سے ہرگز نہیں بڑھی، یا اگر اضافہ ہوا بھی تو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر، اس لیے آج کے دور میں غریب طبقے کو روح اور جسم کے رشتے کو برقرار رکھنے کے لیے خاصے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، طرح طرح کی مشقتیں کرنی پڑتی ہیں، انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تب جاکر اُن کے لیے مہینہ گزارنا ممکن ہوپاتا ہے، اُن پر ہر طرف سے مہنگائی کے سیلاب چھوڑے ہوئے ہیں۔ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جہاں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی ہوئی ہیں، وہیں اشیاء ضروریہ کے دام بھی مائونٹ ایورسٹ سر کرچکے ہیں۔ عام سبزیوں کے دام بھی ڈیڑھ سے دو سو روپے فی کلو تک پہنچ چکے ہیں۔ پیاز ہی کی مثال لے لی جائے تو اُس کی قیمت دو سو، ڈھائی سو اور کہیں تین سو روپے تک پہنچ چکی ہے۔ آٹا، چینی، گھی، تیل، چائے کی پتی، دالیں، چاول، دودھ، دہی وغیرہ کے دام بھی آسمان کو چھورہے ہیں۔ ایسے میں ایک معمولی آمدن کے حامل گھرانے کے لیے اپنا معاشی نظام چلانا کسی طور آسان نہیں۔ اُس پر طرّہ یہ کہ مہنگائی کی شرح میں اب بھی ہولناک طریقے سے اضافہ جاری ہے۔ فروری کا آخری ہفتہ غریب عوام کے لیے انتہائی کڑی آزمائش کا حامل رہا، جب اُن پر مہنگائی کے نشتر بے دردی کے ساتھ برستے رہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق فروری کے آخری ہفتے مہنگائی کی شرح میں 1.27 فیصد اضافہ ہوگیا جب کہ سالانہ بنیاد پر یہ شرح 32.73 فیصد ہوگئی، 22 تا 29 ہزار روپے ماہانہ آمدن رکھنے والا طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا، جس کے لیے مہنگائی کی شرح 38.07 فیصد رہی۔ ادارۂ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 14 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جب کہ 12 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور 25 اشیاء ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران آلو، انڈے، لہسن، بیف اور دال مونگ سمیت کئی اشیاء مہنگی ہوئیں، جن میں گیس کی قیمتوں میں 15.52 فیصد، پیاز کی قیمتوں میں 2.87 فیصد، انڈے کی قیمتوں میں 1.32 فیصد، آلو کی قیمتوں میں 0.68 فیصد، دال مونگ کی قیمت میں 0.27 فیصد، بیف کی قیمت میں 0.32 فیصد اضافہ ہوا۔ مہنگائی کے عفریت سے گلوخلاصی آسان تو ہرگز نہیں، لیکن یہ ناممکن بھی نہیں۔ پاکستانی روپے کی بے وقعتی مہنگائی کی ہولناک شرح کی بنیادی وجہ ہے۔ پاکستانی روپے کو اُس کا کھویا ہوا وقار واپس دلادیا جائے تو کافی حد تک غریبوںکی اشک شوئی ممکن ہوسکتی ہے۔ ملک میں چند روز میں نئی حکومت عنان اقتدار سنبھالے گی، اُس کے لیے مہنگائی سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ ضروری ہے کہ عوام کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اب تک غریب اشک شوئی سے محروم ہیں، اُن کی دادرسی کا مناسب بندوبست لازمی کیا جائے اور معیشت کی گاڑی کو پٹری پر واپس لایا جائے۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے راست کوششیں یقیناً مثبت نتائج کی حامل ثابت ہوں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button