سپیشل رپورٹ

شادی کے بعد شہریت دینے والے 17 ممالک اور اُن کی تفصیل

اس خصوصی رپورٹ میں دنیا بھر میں شادی کے بعد شہریت دینے والے 17 ممالک کی تفصیل درج ہے جبکہ اس فہرست میں 7 ممالک سرِ فہرست ہیں جہاں جانا مشکل کام نہیں۔

بین الاقوامی سفر میں گزشتہ برسوں کے دوران زبردست تیزی دیکھنے میں آئی ہے، گلوبل ویلیج کے خیال نے دنیا کو مزید سمیٹ دیا ہے، اقتصادی اور کاروباری وجوہات کی بنا پر بڑھتی ہوئی ہجرت کو فروغ ملا ہے۔

اس طرح کے منظر نامے کے درمیان اب مخلوط قومیت کی شادیاں ایک ناگزیر عمل بن چکی ہیں، شادی کے ذریعے شہریت دینے والے ممالک اب پہلے سے زیادہ مہاجرین کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔

دنیا بھر میں شادی کے ذریعے شہریت حاصل کرنے والے مہاجرین افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

مخلوط قومیت کی شادیوں میں اضافے کا رجحان سوئٹزرلینڈ میں بھی دیکھا گیا ہے جہاں وفاقی شماریات کے دفتر نے 2020ء میں ایسی 12,000 شادیوں کی تصدیق کی ہے۔

بین الاقوامی شادیوں کا پھیلاؤ وسطی، مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں بھی واضح ہے جن کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

تقریباً 3.5 ملین مرد اور خواتین نے بیرون ملک شریک حیات کی تلاش میں مختلف پلیٹ فارمز پر آن لائن پروفائلز پوسٹ کیے ہیں۔

2019ء اور 2020ء کے درمیان، بنگلہ دیشی میڈیا نے بڑے پیمانے پر غیر بنگلہ دیشی خواتین کے ان مردوں سے ملنے اور شادی کرنے کے لیے بنگلہ دیش جانے کے رجحان کو کور کیا جن کا آپس میں آن لائن ملنا ہوا تھا۔

سنگاپور میں  2022ء میں شہریوں کی شادیوں کا تقریباً ایک تہائی حصہ بین الاقوامی جوڑوں پر مشتمل تھا جو کہ 2021ء میں ریکارڈ کی گئی شرح سے 29 فیصد سے زیادہ ہے۔

یوراگوئے

درکار وقت : کم از کم 3 سال

یوراگوئین شہری سے شادی کرنا ملک میں شہریت حاصل کرنے کا ایک آسان ترین راستہ ہے، پہلا عارضی سیڈولا ( شناختی کارڈ) حاصل کرنے کے بعد، شادی شدہ افراد تین سال کے بعد شہریت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

یہ ملک اپنی مستحکم معیشت، کم ٹیکس نظام، اور اس خوبصورت لاطینی امریکی قوم میں موجود حفاظت اور استحکام کی وجہ سے نقل مکانی کے لیے ایک بہترین آپشن کرتا ہے۔

ڈومینیکا

درکار  وقت: کم از کم 3 سال

ڈومینیکا، کیریبین جزیرہ شادی کے ذریعے شہریت دینے کی پیشکش کرتا ہے۔

ڈومینیکن شہری سے شادی کرنے والے افراد شادی کے تین سال بعد شہریت کے اہل ہو جاتے ہیں۔

ڈومینیکن شہریت بہت سے فوائد مہیہ کرتی ہے بشمول ایک سستی طرز زندگی، دنیا کی سب سے شاندار قدرتی خوبصورتی رکھنے والا مقام اور مالی مراعات جیسے ٹیکس سے متعلق فوائد، زندگی کو مزید آرام دہ بناتے ہیں۔

سویڈن

درکار وقت :کم از کم 3 سال

سویڈش شہری سے شادی کرنے یا رجسٹرڈ پارٹنرشپ میں رہنے والے افراد تین سال کے بعد شہریت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں تاہم اس ملک میں محض شادی کافی نہیں ہے۔

اس ملک میں یہ ضروری ہے کہ جوڑا پچھلے دو برسوں سے ایک ساتھ رہ رہا ہو۔

ملک میں منتقل اور یہاں کی شہریت حاصل ہونے سے متعدد مراعات حاصل ہوتی ہیں جن میں زندگی کا اچھا معیار، بہترین صحت کی دیکھ بھال، تعلیم تک مفت رسائی اور مراعات میں بہت کچھ شامل ہے۔

جرمنی

درکار وقت : کم از کم 3 سال

یہ انتہائی ترقی یافتہ یورپی ملک ایسے ملکوں کے زمرے میں آتا ہے جو مختصر مدت میں شادی کے ذریعے شہریت کی پیشکش کرتے ہیں۔

اس ملک میں شہریت کے لیے درخواست دینے سے پہلے شادی یا رجسٹرڈ پارٹنرشپ کا ایک سال ساتھ دو سال گزارنا ضروری ہے۔

یہ ملک بھی شہریت حاصل ہو جانے کے بعد اپنے شہریوں کو بہت سے فوائد فرام کرتا ہے۔

اقوام متحدہ (امریکا)

درکار وقت: کم از کم 3 سال

شادی کے ذریعے شہریت دینے والے ممالک میں امریکا بھی شامل ہے، امریکی شہری سے شادی خود بخود شہریت کی اہلیت نہیں دیتی۔

مخصوص شرائط، جیسے کہ تین سال کے لیے قانونی طور پر امریکا کا مستقل رہائشی ہونا اور اس مدت کے دوران اپنے شریک حیات کے ساتھ رہنا، ضروری تقاضے پورے کرنا ہے۔

امریکا زندگی کے اعلیٰ معیار اور کام کے وسیع مواقع کی وجہ سے نقل مکانی کے لیے بہترین ممالک میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے۔

اپنی زندگی کا نیا سفر شروع کرنے والے جوڑوں کے لیے امریکا ایک مثالی ملک ہے۔

آئرلینڈ

درکار وقت : کم از کم 3 سال

آئرلینڈ میں رہنے والے میاں بیوی اور سول پارٹنرز کے لیے، شادی کے ذریعے شہریت حاصل کرنا واقعی ایک آسان ترین آپشن ہے۔

تین سال کی شادی یا سول پارٹنرشپ کے بعد شہریت کے لیے درخواست دی جا سکتی ہے۔

آئرلینڈ  اپنے شہریوں کو صحت کی مفت دیکھ بھال، حفاظت، تمام بجٹ کے لیے رہائش کے اختیارات اور نئے آنے والوں کو قدرتی خوبصورتی اور  تسلی بخش زندگی فراہم کرتا ہے۔

برطانیہ

درکار وقت : کم از کم 3 سال

شادی کے ذریعے شہریت کی سہولت فراہم کرنے والے یورپی ممالک میں سے ایک برطانیہ بھی ہے جہاں شہریت حاصل کرنے کے لیے آنے والے افراد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

یو کے اپنے شہری سے شادی یا سول پارٹنرشپ قائم کرنے پر شہریت دیتا ہے بشرطیکہ وہ کم از کم تین سال سے ملک میں مقیم ہوں۔

برطانیہ کا شمار غیر ملکیوں کے لیے مقبول ترین یورپی مقامات میں ہوتا ہے جو اس آسانی کو ظاہر کرتا ہے جس کے ساتھ لوگ ایک نئے ماحول میں ایڈجسٹ ہو سکتے ہیں۔

برطانیہ نئے آنے والے شہریوں کو اعلیٰ معیار زندگی، کام کے وافر مواقع، بہترین صحت کی مفت دیکھ بھال، تعلیم تک مفت رسائی اور دیگر فوائد فراہم کرتا ہے۔

اپنے ملک کے باشندے سے شادی کرنے کے تین سال بعد شہریت دینے والے دیگر ممالک میں نیدرلینڈز، سولوینیا، چلی، گرینیڈا،  بولیویا شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button