Column

مریم، پہلی خاتون وزیر اعلیٰ پنجاب

روشن لعل
محترمہ مریم نواز کا وزیر اعلیٰ پنجاب بننا ، ان کے حامیوں یا مخالفوں میں سے کسی کے لیے بھی حیران کن نہیں ہے۔ مریم جب حالیہ انتخابات میں قومی اسمبلی کے ساتھ صوبائی اسمبلی کی سیٹپر بھی امیدوار بن کر سامنے آئیں تو اسی وقت یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں کہ اگرچہ ان کی خواہش ملک کا وزیر اعظم بننے کی ہے مگر ایسا نہ ہونے کی صورت میں وہ وزیر اعلیٰ پنجاب ضرور بن جائیں گی۔ انتخابات کے دوران کی گئی قیاس آرائیوں کے عین مطابق پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا عہدہ بڑی آسانی سے ان کی جھولی میں آگرا۔ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا عہدہ آسانی سے جھولی میں آگر اس لیے کہا جارہا ہے کیونکہ چند دن پنجاب کی وزارت اعلیٰ اپنے پاس رکھنے کے لیے حمزہ شہباز کو جو پاپڑ بیلنے پڑے ، مریم کو ویسا کچھ بھی نہیں کرنا پڑا۔ ماضی میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے جو سیاسی و قانونی لڑائیاں ہوتی رہیں گو ان کی کہانیاں کچھ کم اہم نہیں ہیں مگر مریم کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے سے جو کچھ ہوا ہے اسے بلاشبہ نئی تاریخ رقم ہونا کہا جاسکتا ہے۔ جس خاندان نے عورت کی حکمرانی کو مذہبی طور پر حرام قرار دے کر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے وزیر اعظم پاکستان بننے کی بدترین مخالفت کی تھی اسی خاندان سے تعلق رکھنے والی مریم نواز کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کو کسی طرح بھی نئی تاریخ رقم ہونے سے کم واقعہ نہیں سمجھا جاسکتا۔
مریم نواز کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے پر مختلف سیاسی گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنی سیاسی وابستگیوں کے سیاق و سباق میں اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے لوگ زیادہ تر مریم کی قابلیت اور اہلیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ جن لوگوں نے اپنی زبان، آنکھیں اور دماغ بند کر کے عثمان بزدار جیسے بندے کو وزیر اعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے قبول کیا اور اپنی توانائیاں اس کی فضول ترین کارکردگی کے دفاع پر خرچ کیں ، آج وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ مریم وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کی اہل نہیں ہیں۔ مریم کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے پر پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا لب لباب یہ ہے کہ جس خاندان نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی مخالفت میں عورت کی حکمرانی حرام قرار دینے کے لیے نہ صرف اندرون ملک مذہبی عناصر کو استعمال کیا بلکہ اس کام کے لیے اسامہ بن لادن کی دامے ، درمے ، قدمے ، سخنے مدد طلب کرتے ہوئے اسے اپنے مالی وسائل صرف کرنے پر بھی راضی کیا ، آج اس خاندان نے کس منہ سے اپنی بیٹی کے ہاتھ میں پنجاب کی حکمرانی سونپی ہے۔
عثمان بزدار کے قصیدے پڑھنے والے جو لوگ مریم نواز کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کی مخالفت کر رہے ہیں ان کی مخالفت کو تعصب کے علاوہ کچھ اور نہیں سمجھا جاسکتا مگر جن لوگوں نے شریف خاندان کی طرف سے ماضی میں عورت کی حکمرانی کو حرام قرار دینے کے موقف کا حوالہ دیا ہے ، ان کے سوالوں کو مبنی بر تعصب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عورت کی حکمرانی پر ، آج ، شریف خاندان کے ماضی کے موقف کا حوالہ دیا جانا اگرچہ تعصب نہیں ہے مگر اسے وسیع القلبی بھی نہیں کہا جاسکتا۔ جن لوگوں نے 1988ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے وزیراعظم بننے پر عورت کی حکمرانی کو حرام قرار دیئے جانے والے پراپیگنڈے کو رد کیا، انہوں نے یہ کام کسی شخصیت کا مداح یا پیروکار بن کر نہیں بلکہ اپنی شعوری بلوغت کی وجہ سے کیا تھا۔ اسی شعوری بلوغت کا تقاضا ہے کہ مریم نواز کے وزیر اعلیٰ بننے پر وسیع القلبی کا مظاہر کرتے ہوئے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا جائے کہ چاہے پنجاب کی حکمرانی کسی عورت کے ہاتھ میں ہے مگر یہ عورت ہر حال میں عثمان بزدار جیسے مردوں سے بہتر ہے۔
مریم نواز نے چاہے پاکستانی پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے مگر وہ کسی بھی پنجاب کی پہلی خاتون حکمران نہیں ہیں۔ پنجاب، جب تخت لاہور ہوا کرتا تھا اس دور میں پہلے مغلانی بیگم اور پھر رانی جنداں نے یہاں بالواسطہ حکمرانی کی۔ تخت لاہور کی ان دونوں خاتون حکمرانوں کے پاس کوئی ٹائٹل تو نہیں تھا مگر انہوں نے حکمرانی کا ٹائٹل رکھنے والے اپنے نابالغ بیٹوں کے سرپرست کی حیثیت سے اقتدار کے اختیارات استعمال کیے۔ مغلانی بیگم کے کردار اور طرز حکمرانی میں کچھ ایسا نہیں جسے مریم کے ساتھ جوڑا جاسکے مگر رانی جنداں کی زندگی کی ضرور کچھ ایسی باتیں ہیں جنہیں مریم کے معاملات سے مماثل قرار دیا جا سکے۔ مریم پنجاب کی حکمران بننے سے پہلے کچھ عرصہ جیل میں رہیں جبکہ رانی جنداں نے اپنے اقتدار کے خاتمے کے بعد طویل عرصہ قید و بند میں گزارا۔ رانی جنداں کے چار سالہ اقتدار کی خاص بات یہ ہے کہ اس نے طاقتور سکھ فوج اور سول انتظامیہ کے درمیان توازن قائم کرنے کی بھر پور کوشش کی۔ جب رانی جنداں کے ہاتھ میں اقتدار آیا اس وقت سکھ ریاست یعنی تخت لاہور بد ترین مالی مشکلات کا شکار تھا ۔ آج مریم نواز کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالنے پر پنجاب کا خزانہ جس بد حالی کا شکار ہے اس کا اندازہ پنجاب کے سبکدوش ہونے والے نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ صوبے کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بڑی مشکل سے کی جارہی ہے۔ رانی جنداں کے دور میں تخت لاہور میں بسنے والے بااثر جاگیر داروں میں سے کوئی بھی حکومت کو ٹیکس دینے کے لیے تیار نہیں تھا ۔ آج کے پنجاب کے مالدار تاجروں کو بھی انکم ٹیکس کی ادائیگی سب سے زیادہ ناگوار گزرتی ہے۔ رانی جنداں کے دور میں تخت لاہور جس حد تک بد ترین انتشار کا شکار تھا آج پنجاب میں ویسا شدید انتشار تو نہیں ہے لیکن ملک میں موجود سیاسی تنائو اور معاشی مشکلات کی وجہ سے یہ صوبہ انتشار سے پاک ہر گز نہیں سمجھا جاسکتا۔ رانی جنداں تخت لاہور میں موجود انتشار پر قابو پانے میں ناکام ہونے کی وجہ سے بہت جلد غیر مقبول ہونے کے بعد اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی ۔
مریم نواز کے پنجاب کو اس وقت جو مشکلات درپیش ہیں ان کی نوعیت ان مشکلات سے قدرے مختلف ہے جن کا سامنا رانی جنداں نے کیا۔ رانی جنداں کے ہاتھ میں جب تخت لاہور کا اقتدار آیا اس وقت اس کی عمر 26برس تھی جبکہ مریم تقریباً 50سال کی عمر میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ بنی ہیں۔ رانی جنداں ہمیشہ تابع فرمان مشیروں سے محروم رہی جبکہ مریم نواز کا تعلق جس خاندان سے اس کے مرد حکمرانوں کا خاصہ ہی یہ ہے کہ انہیں سرتاج عزیز مرحوم اور طارق فاطمی جیسے فرمانبردار مشیروں کی اعانت حاصل رہتی ہے۔ اس وقت پرویز رشید، مریم نواز کے مشیر خاص کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ مریم اورنگ زیب کو بھی مریم نواز کی خاص اعانت کے لیے قومی اسمبلی کی بجائے پنجاب اسمبلی میں بھیجا گیا ہے۔ اب آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ پرویز رشید اور مریم اورنگ زیب جیسے خاص مشیروں کی اعانت میں مریم نواز بحیثیت وزیر اعلیٰ پنجاب کیسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button