Column

سیاستدانوں کے پاس مزید غلطیوں کا وقت نہیں

محمد ناصر شریف
وطن عزیز کے سیاستدانوں کے پاس اب مزید غلطیاں کرنے کا وقت ہے اور نا ہی وہ اسی کی تاب لاسکتے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو معاشی پالیسیوں کے تسلسل اور معاشی بہتری کے لئے سیاسی استحکام کو فروغ دینا ہوگاورنہ ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔29فروری 2024کو بالآخر نومنتخب قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، نوازشریف، شہباز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان،بلاول بھٹو زرداری، خالدمقبول صدیقی، بیرسٹر گوہر سمیت 284نومنتخب ارکان قومی اسمبلی نے حلف اٹھا لیا۔ اس کے بعد کا مرحلہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا ہے اور پھر قائد ایوان یعنی وزیراعظم پاکستان کا انتخاب اتوار 3مارچ 2024کو ہو گا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد کے لئے کم و بیش وہی صورتحال تھی جو انتخابات کے لئے تھی کہ انتخابات ہوں گے یا نہیں ہوں گے۔ اب صدر مملکت عارف علوی کو ہی لے لیں جب سمری گئی کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلالیا جائے تو سمری اعتراضات کے ساتھ واپس کردی پھر جب ان کے رہنما اسپیکر کی جانب سے بلائے گئے اجلاس کو غیر آئینی قرار دینے لگے تو موصوف نے اسپیکر کی جانب سی طلب کئے گئے اجلاس کی تاریخ یعنی 29فروری 2024سے صرف 15منٹ قبل یعنی 45:11بجے رات اجلاس بلا کر اپنے ہی رہنمائوں کے ان دعوئوں پر کالک مل دی جو میڈیا پر آکر کہہ رہے تھے کہ اسپیکر سے جانب سے بلایا جانے والا اجلاس غیر قانونی ہے یہ اسمبلی غیر قانونی ہے۔ اب کیونکہ صدر مملکت نے اجلاس بلالیا ہے تو ایک آئینی تقاضا پورا ہونے کے ساتھ اسمبلی کو آئینی تحفظ بھی مل گیا ہے۔
صدرمملکت اس حوالے سے کہنا تھا کہ وزیراعظم کی قومی اسمبلی اجلاس سے متعلق سمری آرٹیکل 48(1)کے مطابق واپس کی گئی، میرا مقصد آئین کے آرٹیکل 51کے تحت قومی اسمبلی کی تکمیل تھا مگر میرے عمل کو جانبدارانہ تصور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مینڈیٹ، آرٹیکل 51دو میں دیئے گئے وقت، مذکورہ تحفظات اور21ویں دن تک مخصوص نشستوں کے معاملے کے حل کی اُمید کے ساتھ قومی اسمبلی کا اجلاس 29فروری کو طلب کیا جاتا ہے۔ اس سے قبل قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جمعرات کی صبح قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔
ایک طالب علم کی حیثیت سے مشاہدہ یہ ہے کہ لوگ ملک سے زیادہ اپنی پسند اور ناپسند کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ایک سیاسی جماعت تحریک انصاف جو حقیقی طور پر میڈل کلاس اور غریب عوام کے دکھوں کا مدوا کر سکتی تھی اپنے دور اقتدار اور اس کے بعد پے در پے سیاسی غلطیوں کی مرتکب ہورہی ہے۔ اس جماعت سے تعلق رکھنے والے رہنما اپنے لیڈر کی طرح اپنے موقف سے ہر گھنٹے بعد پیچھے ہٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
بیرونی مداخلت پر اپنی حکومت کے خلاف سازشوں کا ڈھنڈورا پیٹنے والی جماعت کبھی اپنے لئے امریکی سینیٹرز سے مدد طلب کرتی ہے کبھی عالمی برادری کو دوہائی دیتی نظر آتی ہے تو اس وقت تو اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ مالیاتی ادارہ 2ہفتے کے اندر قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 30فیصد نشستوں کا آڈٹ یقینی بنائے، آئی ایم ایف پاکستان کو مالی سہولت دینے سے پہلے گڈ گورننس سے متعلق شرائط رکھیں۔ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے ترجمان رئوف حسن نے آئی ایم ایف کی ایم ڈی کو خط لکھا ہے جس کے متن کے مطابق یہ خط بانی پی ٹی آئی کی ہدایت اور ان کی طرف سے آئی ایم ایف کو بھیجا جارہا ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کو مالی سہولت دینے سے پہلے دیگر شرائط سامنے رکھے۔ خط کے متن کے مطابق ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ آئی ایم ایف تحقیقاتی ادارے کا کام کرے، فافن اور پتن نے عام انتخابات کے آڈٹ کا طریقہ کار بتا دیا ہے، ان کے دئیے گئے طریقہ کار میں کچھ تبدیلیاں کرکے اطلاق کیا جائے، آئی ایم ایف کی مالی امداد پاکستانی عوام پر بوجھ بڑھائے گی۔ اس کے علاوہ ان کے ہمنوا ای میل کے ذریعے بھیجے گئے لاکھوں میسیج پر بھی فخر کرتے نظر آتے ہیں۔سیاسی جماعت کی جانب سی کسی عالمی مالیاتی ادارے کو اندرونی ملکی معاملات کے حوالے سے خط لکھنا ویسے بھی نہیں چاہیے کیونکہ اس طرح ان اداروں کی مداخلت مزید بڑھ جائیگی۔ کیا کسی محلے کا چوکیدار یا کسی اپارٹمنٹ کی یونین کی کابینہ درست طریقے سے کام نہیں کرتی تو اس جگہ کے مکین اور اپوزیشن دوسرے محلوں سے مدد لیتے پھرتے ہیں یا اس معاملے کو خود درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں ہماری نظر میں یہ عمل میں 9مئی کے واقعات کا تسلسل ہے اور ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے جس طرح اس جماعت کے لوگ پہلے 9مئی کو ڈیفنڈ کرتے رہے پھر جب ان کو احساس ہوا یا ان پر گرفت سخت کی گئی تو ہر کوئی ٹی وی پر آکر کہتا تھا کہ 9مئی ہم نے نہیں کیا اور غلط ہوا ہے ۔ اس بات کا پورا یقین ہے کہ ملک دشمنی پر مبنی آئی ایم ایف کو لکھا گیا خط جس کے لئے آج تحریک انصاف کے رہنما بھرپور دلائل دے رہے ہیں کل وہ خود اس خط کے حوالے سے مذمت کرتے نظر آئیں گے۔ویسے مخصوص نشستوں کا واویلا کرنے والی جماعت کو ایک اور سبکی اس وقت ہوئی جب چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے 26فروری کو لکھا گیا خط سنی اتحاد کونسل کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کے حوالے کر دیا جس میں سنی اتحاد کونسل نے موقف اپنایا ہے کہ انہوں نے پارٹی کے پلیٹ فارم سے عام انتخابات میں حصہ نہیں لیا لہٰذا انہیں مخصوص نشستیں نہیں چاہئیں، چیف الیکشن کمشنر نے علی ظفر سے مکالمہ کیا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں چاہئیں تو آپ کیوں ان کو مجبور کر رہے ہیں۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اعتراض یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ نہیں دی، جب غیر معمولی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو تشریح کرنی پڑتی ہے۔مسلم لیگ کے سینئر رہنما اور سابق وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے انکشاف کیا ہے کہ اس دور میں قانون سازی کے لئے آئی ایس آئی کے میس میں جاتے تھے۔ جنرل ( ر) باجوہ اور جنرل ( ر) فیض بیٹھ کر ہم سے قانون سازی کراتے تھے۔ مجلس عاملہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق بھی قانون سازی کرائی گئی۔ یہ دونوں قانون سازیاں فوج اور آئی ایس آئی کی مداخلت کے باعث ہوئیں جو بگاڑ اس وقت پیدا ہوا وہی ہم بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے لئے صرف سیاستدان نہیں باقی پلیئرز بھی ہیں۔ سب کو سیاسی استحکام کے لئے اکٹھے بیٹھنا چاہیے۔ ہمیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ جب یہ جرنیل سروس میں ہوتے ہیں تو سیاستد ان سے پینگیں بڑھا رہے ہوتے ہیں اور جب یہ ریٹائرڈ ہوجاتے ہیں تو ہر کوئی برملا ان کا نام لے کر کہتا ہے کہ یہ کام ہم نہیں انہوں نے کرایا ہے تو جب آپ لوگ یہ کام کر رہے ہوتے ہیں تو کیا اس وقت ان کاموں کی انجام دہی میں آپ کا کوئی مفاد وابستہ نہیں ہوتا تھا ادھوری بات کیوں کی جاتی ہے ۔ یہ بھی بتائیں کہ آپ نے جو قانون سازی ان کے کہنے پر کی ہے اس سے آپ نے کیا حاصل کیا۔ سیاستدان اور سیاسی جماعتیں کوئی بھی کام بغیر فائدے کے نہیں کرتی یہ اچھی روایت نہیں ، پاکستانیوں کا ضمیر ہمیشہ کام کی انجام دہی کے وقت نہیں بلکہ اس وقت جاگتا ہے جب وہ کسی بھی عمل میں شریک ہوتے ہیں اور نتائج اس کے برعکس آتے ہیں جس کی توقع کی جارہی ہوتی ہے۔ ویسے ہمارے ملک میں سیاسی ، معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار میں بہتری کی بھی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button