Column

شمس العالم حضرت حافظ شاہ شمس الدین ترک پانی پتی

ضیاء الحق سرحدی
ہر دور میں دنیا کے مختلف خطوں میں اللہ تعالیٰ ایسی عظیم ہستیوں کو بھیجتا رہا جنہوں نے بھٹکی ہوئی انسانیت کی اصلاح کا کام کیا برصغیر پاک و ہند میں اشاعت اسلام میں اولیاء کرام اور صوفیائے کرام نے نمایاں کردار ادا کیا اور اللہ تعالیٰ کے ان برگزیدہ بندوں کی بدولت یہ خطہ دولت ایمان و اتفاق سے منور ہوا طریقت کے چاروں سلاسل سے فیض یاب بزرگوں نے اس خطے میں اشاعت دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کیں۔ 1999ء کو مجھے ہندوستان جانے کا اتفاق ہوا اور دہلی میں مجھے کافی اولیائے کرام کے مزارات پر جانے کا موقع ملا یہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے آج ایسی ہی بلند پا یہ ارباب کشف روحانی شخصیت حضرت خواجہ شاہ شمس الدین ترک پانی پتی کا ذکر خیر کرنے کی سعادت نصیب ہو رہی ہے۔ میں جس وقت ہندوستان گیا ان دنوں پاک انڈیا تعلقات بھی بڑے کشیدہ تھے اور میرے پاس پانی پت ( کرنال) کا ویزا بھی نہیں تھا اور میری دلی خواہش تھی کہ میں اپنے سلسلہ چشت کے روحانی پیشوا حضرت خواجہ شمس الدین ترک پا نی پتی اور حضرت قطب ابدال مخدوم شیخ شرف الدین بو علی قلندر کے مزارات جو کہ پانی پت میں تھے ان کے مزارات پاک کی زیارت کروں لیکن ویزا نہ ہونے کی وجہ سے کافی پریشان تھا لیکن ارادہ پختہ اور مصمم تھا ان اولیاء کرام کی نظر کرم سے میں بغیر ویزے ہی دہلی سے بذریعہ موٹر کار پانی پت روانہ ہو گیا تقریباً ایک گھنٹہ کی مسافت کے بعد بغیر خوف و خطر میں وہاں پہنچ گیا حالانکہ راستے میں ایک پولیس چیک پوسٹ بھی آتی تھی۔
بو علی قلندر کے مزار کی زیارت کرنے کے بعد میں خواجہ شمس الدین ترک پانی پتی کے مزار کی طرف روانہ ہوا میں یہاں آپ کو بتا تا چلوں کہ شمس الدین ترک کا مزار ایک بہت بڑے احاطے میں واقع ہے اور اس احاطے کے ایک حصے میں سکھوں کے گرو کا مزار واقع ہے، دروازہ کھولنے پر پہلے سکھوں کے گرو کا مزار ہے اور پھر اس احاطہ کے اندر ایک دوسرا دروازہ ہے آگے ایک کمرہ ہے، جس میں حضرت شمس الدین ترک کا مزار واقع ہے چونکہ ایک ہی عمارت میں دونوں مزار واقع ہیں اور ان کی دیکھ بھال سکھ ہی کرتے ہیں عمارت کا دروازہ اپنے ٹائم پر کھو لا جاتا ہے اور پھر بند کیا جا تا ہے چونکہ ہم لوگ جس وقت وہاں پہنچے اس وقت دروازہ بند ہو چکا تھا اور پھر دوسرے دن کھلنا تھا لیکن ہمارے ساتھ ایک سکھ ساتھی بھی تھا وہ مزار کے قریب ہی ایک گھر میں گیا جس میں دوسرے سکھ جو کہ اس عمارت کی دیکھ بھال کرتے تھے اور دروازے کی چابی بھی ان کے پاس تھی ان سے چابی لی اور دروازہ کھول کر زیارت کرائی جونہی زیارت کے اندر ہم داخل ہوئے تو جو قلبی و روحانی سکون ملا وہ تحریر کرنے سے باہر ہے۔
آستانہ شمس الدین ترک پر ہر روز بے شمار زائرین و عقیدت مند ملک و بیرون ملک سے حاضر ہوتے ہیں اور گلہائے عقیدت پیش کر کے روحانی کیف و سرور کے ساتھ واپس جاتے ہیں یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ حضرات اولیاء کرام کی خانقاہیں و درگاہیں ہر دور میں اشاعت اسلام اور اصلاح سیرت و کردار کا مرکز رہی ہیں مگر افسوس کہ انقلابات زمانہ کی بدولت آج بعض مقدس خانقاہوں میں علم و عرفان اور زہد و تقویٰ کی وہ فیض رسانیاں مفقود ہو چکی ہیں جو صرف اور صرف انہی خانقاہوں سے طالبان حق کو حاصل ہو تی تھیں۔ حضرت شمس الدین ترک پانی پت ترکستان کے صحیح النسب سادات میں سے تھے آپ کا سلسلہ نسب کچھ اس طرح سے ہے حضرت خواجہ شمس الدین پانی پتی ابن حضرت سید احمد ابن حضرت سید عبدالمومن ابن حضرت سید عبد الملک ابن حضرت سید سیف الدین ابن حضرت خواجہ ورعنا ابن حضرت بابا قرعنا جبکہ شجرہ طریقت حضرت مخدوم علائوالدین علی احمد صابر سے ہو کر امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔
شمس الاولیاء حضرت خواجہ شمس الدین ترک پا نی پتی زہد و تقویٰ بزرگ تھے ان کے مناقب بے شمار ہیں علوم ظاہری و باطنی میں آپ کو کمال حاصل تھا چنانچہ آپ کے پیر روشن ضمیر آپ کے بارے میں اکثر فر ما یا کرتے تھے کہ اولیاء کے اندر میرا شمس آفتاب کی مانند ہے خرقہ فقر و ارادت آپ کو غوث صمدانی حضرت مخدوم خواجہ علائوالدین علی احمد سے عطا ہوا تھا راقم کو حضرت مخدوم علائو الدین علی احمد کلیئر شریف جانے کا شرف بھی حاصل ہوا اور خلافت اور اجازت آپ کو حضرت شیخ با با فرید الدین گنج شکر سے بھی حاصل تھی آپ کو اپنے پیر و مرشد پیر روشن ضمیر سے بہت راز و نیاز حاصل تھا آپ نے ان کی دل و جان سے خدمت کی اور نعمت اور فیض سے بہرہ مند ہوئے کچھ عرصہ اپنے پاس رکھنے کے بعد حضرت غوث صمدانی نے قطب ابدال شیخ شرف الدین بو علی قلندر کے پانی پت میں موجود ہونے کے باوجود پانی پت روانہ کیا پانی پت پہنچ کر آپ نے پانی پت کو چاروں اطراف سے نور ولایت سے معمور کر دیا آپ مقرب بارگاہ ربانی تھے چنانچہ آپ کے نام پاک میں یہ تاثیر ہے کہ کوئی شخص کسی مہم ، مصیبت اور مشکل کی آسانی کے لئے آپ کا اسم گرامی ایک لاکھ مر تبہ ورد کری تو اس کی مشکل آسان ہو جاتی ہے حضرت شمس الدین کو جب محبت الٰہی میں سرشاری ہوئی تو مرشد کامل کی تلاش میں ہندوستان پہنچے ملتان آکر حضرت شیخ با با فرید الدین شکر گنج کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کچھ عرصہ آپ کی خدمت میں رہ کر خلافت سے سر فراز ہوئے۔
لیکن با با فرید نے خود مرید کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ تم کو نعمت اور کمال کا حصول کسی دوسرے مرشد سے مقدر ہو چکا ہے چنانچہ امام ربانی کے مطابق بابا فرید الدین شکر گنج نے ان کو کلیر شریف کی طرف روانہ کر دیا اور وہاں پہنچ کر حضرت خواجہ علائوالدین علی احمد صابر کی قدم بوسی سے شرف یاب ہوئے۔ حضرت غوث صمدانی بہت شفقت اور توجہ سے پیش آئے اور فرمایا ! تم میرے فرزند ہو اللہ تعالیٰ سے میں نے دعا مانگی تھی کہ میرا یہ سلسلہ تم سے جاری ہو اور قیامت تک قائم رہے پھر کلاہ چہار ترکی ان کے سر پر رکھا اور مرید کیا سر پر مقراض چلاتے ہی تخت الثریٰ تک ان پر روشن ہو گیا حضرت خواجہ شمس الدین ترک گیارہ برس تک اپنے پیر روشن ضمیر کی خدمت کرتے رہے کافی ریاضت و مجاہدہ اور فقر و فاقہ کرنے کے بعد جب آپ مرتبہ اعلیٰ پر پہنچے تو حضرت غوث صمدانی نے ان کو خلافت و اجازت دے کر اسم اعظم جو سینہ بہ سینہ چلا آرہا تھا سکھایا اور اپنا خرقہ عطا فر مایا خلافت اور خرقہ دینے کے بعد حضرت غوث صمدانی مخدوم علائو الدین احمد صابر کلیری نے جب آپ کو پانی پت روانہ کرنا چاہا تو آپ نے عرض کیا کہ غلام کو ابھی پوری صلاحیت نہیں ہوئی ہے اگر آپ کا حکم ہو تو کچھ دنوں تک مزدوری کر لوں۔
حضرت غوث صمدانی نے درخواست قبول کر لی ۔ آپ اپنے پیر سے رخصت ہو کر سلطان غیاث الدین بلبن کے ہاں نوکر ہو گئے اور کافی پیسے اور مال و متاع جمع کر لیا لیکن اس کے باوجود زندگی درویشانہ ہی رکھی اور شب و روز عبادت الٰہی میں مشغول رہے ۔ حضرت غوث صمدانی مخدوم سرکار نے آپ کو وصیت فرمائی کہ جب وہ ( مخدوم سرکار ) اس دنیا سے پردہ کریں تو وہ یہاں تین دن سے زیادہ نہ رہیں پھر حضرت مخدوم سرکار نے حضرت شاہ شمس الدین کو مخاطب کرتے ہوئے فر ما یا ’’ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیار پانی پت کی ولایت عطا فر مائی ‘‘ تم وہاں جا کر رہو اور خلق خدا کو ہدایت کی راہ پر گامزن کرو حضرت مخدوم سرکار نے یہ بھی فر ما یا کہ میں ہر حالت میں تمہارا معاون و مدد گار رہوں گا۔ اس پر شاہ شمس الدین ترک پانی پتی نے عرض کیا چونکہ حضرت مخدوم سرکار آپ کی ولایت دائمی ہے بندے کا ارادہ تو یہ ہے کہ ساری عمر آپ کے آستانہ مبارک کی جاروب کشی کرتا رہوں لیکن اب فرمان ہوا ہے کہ پانی پت چلا جائوں وہاں تو حضرت شیخ شرف الدین بو علی قلندر رہتے ہیں معلوم نہیں ان کے ساتھ صحبت کیسی رہے۔ حضرت مخدوم سرکار نے فرمایا فکر مت کرو ان کا وقت آخر ہے تمہارے وہاں پہنچتے ہی وہ چلے جائیں گے۔
حضرت شاہ شمس الدین حضرت مخدوم سرکار کی وصیت کے مطابق پانی پت کی طرف چل پڑے پانی پت پہنچتے ہی آپ کو شہر میں رہنے کی جگہ نہ ملی چنانچہ آپ ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے اسی اثناء میں آپ کے پانی پت آنے کی اطلاع حضرت شیخ شرف الدین بو علی قلندر کو ہوئی تو وہ اپنا بوریا بستر اٹھا کر پانی پت سے چل پڑے آپ کے ایک عقیدت مند نے آپ کو روکا اور کہا کہ وہ انہیں جانے نہیں دیں گے جس پر حضرت بو علی قلندر نے فرمایا اب میں یہاں ہر گز نہیں رہ سکتا یہ ولایت کسی دوسرے کے سپرد ہو گئی ہے جبکہ مجھے کسی دوسرے مقام پر بلایا گیا ہے ۔
عقیدت مند نے ضد کی اور نئے صاحب ولایت کے بارے میں اصرار کیا تو بو علی قلندر نے فرمایا ایک درویش قلندرانہ لباس چرمی پہنے دیوار کے سائے میں بیٹھا ہوا ہے لیکن ان سے گستاخی نہ کر نا اور دور سے دیکھ کر واپس چلے آنا جب حضرت بو علی قلندر کا منظور نظر عقیدت مند وہاں پہنچا تو دیکھا ’’ شہباز‘‘ بیٹھا ہوا ہے جس کی ولایت کے انوار آفتاب جہاں تاب کی طرح چمک رہے ہیں اور دائیں بائیں دو شیر بیٹھے حفاظت کر رہے ہیں حضرت شاہ شمس الدین ترک پانی پتی نے اپنے مرشد حضرت مخدوم علائوالدین احمد صابر کلیری کے حکم کے مطابق پانی پت میں سکونت اختیار کر لی آپ کا دور دور تک چرچا ہوا اور خلق خدا آپ کی طرف متوجہ ہوئی۔
پانی پت میں کئی سال تک مریدین کی تربیت کرتے رہے روایت کے مطابق ایک دفعہ آپ حجرہ خاص کے دروازے پر بیٹھے مریدین کے سامنے حقائق و معارف بیان فر ما رہے تھے کہ شیخ جلا ل الدین نامی ایک خوبصورت نوجوان آپ کے سامنے سے گھوڑے پر سے گزرا آپ کی نظر اس پر پڑی تو آپ نے مریدین کو مخاطب کر کے فرمایا مجھے اپنی نعمت اس نوجوان کے چہرے پر چمکتی ہوئی نظر آتی ہے نوجوان گھوڑے پر سے اترا اور اپنا سر آپ کے قدموں میں رکھ دیا حضرت شاہ شمس الدین نے نوجوان کا سر اوپر اٹھا کر فرمایا گھوڑے پر سوار ہو کر خوب چکر لگائو اس دوران حضرت شاہ شمس الدین نے اپنی باطنی قوت سے نوجوان کے قلب سے سب کچھ باہر نکال کر پھینک دیا اس لمحے شیخ جلال الدین پر توحید ، انوار کی بارش برسی اور وہ حضرت شمس الدین کی بیعت سے مشرف ہو گئے آپ نے جو چرمی کلاہ پہن رکھا تھا اتار کر شیخ جلال الدین کے سر پر رکھ دیا شیخ جلال الدین تھوڑے ہی عرصہ میں حضرت شاہ شمس الدین کی نظر عنایت سے مرتبہ تکمیل ارشاد تک پہنچ گئے پھر آپ نے شیخ جلال الدین سے فرمایا کہ اب نکاح کر لو کیونکہ مجھے عالم باطن میں تمہاری اولاد ہزاروں کی تعداد میں نظر آرہی ہے شیخ جلال الدین نے انکساری سے فرمایا مجھے حکم کی تکمیل میں کوئی عذر نہیں لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ بری اولاد باعث رنج و غم ہوتی ہے۔ حضرت شاہ شمس الدین نے کمال شفقت سے فرمایا جو نیک ہوں گے وہ تمہارے ہونگے اور جو بد ہو نگے وہ میرے ہیں۔ شمس الدین فقیر ہرگز جنت میں قدم نہیں رکھے گا جب تک تیری ساری اولاد کو ساتھ نہ لے جائے شیخ جلال الدین نے جب یہ خوشخبری سنی تو فوراً شادی کر لی آپ کی اولاد کثرت سے ہوئی جو پانی پت اور اس کے گرد نواح میں اب تک موجود ہے۔ آخری ایام زندگی میں آپ نے حضرت مخدوم علائوالدین احمد صابر سرکار کلیری سے حاصل کیا ہوا خرقہ خلافت اور نعمت دو جہاں حضرت شیخ جلال الدین محمد کبیر اولیاء کو عطا کردی اور انہیں اپنا جانشین مقرر فرما کر 19شعبان المعظم 1413ھ کو اس فانی دنیا سے پردہ فرمایا آپ حضرت شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کے ہم عصر تھے اور ان کے فیوض اور بر کات کی خوشبو بر صغیر کے گوشے گوشے میں اہل دل کو تازگی بخشتی ہے۔ پانی پت کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں میں آپ کے عرس شریف کی تقریبات19شعبان بمطابق یکم مارچ 2024ء بروز جمعۃالمبارک سے شروع ہوتی ہیں پشاور میں پیر صاحب تمبر پورہ شریف رئیس الفقراء حضرت پیر سید مستان شاہ سرکار حق بابا کے صاحبزادے پیر سید عنایت شاہ باچا عرف موتیاں والی سرکار کے زیر سرپرستی ختم خواجگان ہوتا ہے شجرہ شریف، چشتیہ صابریہ پڑھا جا تا ہے اور محفل سماع میں عارفانہ کلام پیش کیا جاتا ہے اس کے علاوہ سید عنایت شاہ باچا خصوصی دعا فرماتے ہیں جس میں عقیدت مند گلہائے عقیدت پیش کر کے روحانی کیف و سرور کے ساتھ دنیا و آخرت کی سر بلندی و سر فرازی کی دولت سے مالا مال ہو کر واپس جاتے ہیں۔ حضرت شاہ شمس الدین ترک پانی پتی کا مزار پاک پانی پت ( کرنال) بھارت میں مرجع خلائق ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button