Column

پا پا کی پری بس دو کام کر دو

سیدہ عنبرین
ہماری زمین جس پر ہم بس رہے ہیں کائنات میں اس کی حیثیت ایک ذرے سے زیادہ نہیں ہے۔ حضرت آدمؑ اور حضرت حوّاؑ کو خلق کرنے کے بعد اس زمین پر اتارا گیا۔ پھر بنی نوع انسان تک خالق کائنات کا پیغام پہنچانے کیلئے سوا لاکھ پیغمبرٌ آئے۔ ان میں عورت ایک بھی نہ تھی، یہ جان کر عقل حیران رہ جاتی ہے۔ جس خدا نے سوا لاکھ پیغمبرٌ یہاں بھیجے جو سب کے سب مرد تھے اس کیلئے کچھ مشکل نہ تھا کہ وہ اس تعداد کا نصف عورتوں کیلئے مخصوص کر دیتا۔ ایک چوتھائی عورتیں ہوتیں، کل تعداد کا دسواں حصہ ہی عورتوں کو مل جاتا، کم از کم ایک پیغمبر ہی عورت ہوتی تو آج عورتیں کسی اور انداز میں اس کا ذکر کرتیں مگر نہیں۔ عورت کے حصے میں کئی اور فضیلتیں آئیں، اسے پیغمبر نہیں بنایا گیا۔ عورت پیغمبر کو جنم دے سکتی ہے۔ پیغمبر کی بیوی ہوسکتی ہے، بہن ہوسکتی ہے، بیٹی ہوسکتی ہے، مگر پیغمبر نہیں۔ یہ خدا کا فیصلہ ہے، والدہ ماجدہ رسولؐ خدا کی کیا شان ہے، آپ کو سردار الانبیائؐ کی والدہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ حضرت مریمؑ کو نبی خدا حضرت عیسیٰؑ کی والدہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ خدا چاہتا تو کسی کو بھی پیغمبری عطا کر سکتا تھا مگر اس کی حکمت، اس کی مرضی، اس کی مثیت اس نے یہ سرداری مرد کیلئے مختص کی، خدا کے اس فیصلے کو چیلنج نہیں کرنا چاہئے۔ یہ کہنا کہ مرد اور عورت برابر ہیں، یہ خدا کے فیصلے، اس کی تخلیق کو چیلنج کرنے کے برابر ہے۔
عرب عورتوں سے بھرا پڑا تھا، خدا چاہتا تو حکم آجاتا کہ ہر پیغمبر کا اپنا عہد ہوگا لیکن خلق خدا کے معاملات ایک عورت دیکھے گی۔ ان کے فیصلے عورت کرے گی، نظام مملکت عورت چلائے گی جبکہ پیغمبر خدا صرف خدا کا پیغام بندوں تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیں گے۔ ایسا حکم بھی نہ آیا۔ یہ فیصلہ بھی خدا نے نہ کیا۔ پس ماننا پڑتا ہے کہ مرد کو عورت پر فضیلت خدا نے دی اور مملکت کا انتظام و انصرام بھی مرد کے ہاتھ میں رکھا۔ اب یہ کہنا کہ قرآن مجید میں عورت کی حکمرانی پر پابندی نہیں دل کے بہلانے کیلئے تو شاید کافی ہو لیکن عورت کو سربراہ حکومت بنانے کا حکم بھی قرآن میں نہیں ہے۔
حبیب خدا حضرت محمد نبی آخری الزمانؐ کو ایک صحابیؓ نے آکر اطلاع دی کہ اہل فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا حکمران بنا دیا ہے، آپؐ نے فرمایا جنہوں نے عورت کو اپنا حکمران بنایا انہوں نے اپنے مقدر میں بربادی لکھ دی ہے۔
حکومتوں کا نظام عقل سے چلایا جاتا ہے جذبات سے نہیں، عورت جذبات سے مغلوب ہوجاتی ہے مرد نہیں، دنیا کے مختلف ملکوں کی سربراہ حکومت عورتیں رہی ہیں۔
ہم مغربی ممالک کی خواتین سربراہان مملکت سے بہت متاثر نظر آتے ہیں، بعض نے تو تین، تین ٹرم حکومت کی، ان ممالک کی ترقی ان خواتین سربراہان مملکت کے دم سے نہ تھی بلکہ ان ملکوں میں ایک بھرپور اور مربوط نظام قائم تھا، جو انصاف، قانون کی عملداری اور انسانی حقوق کے ہر حال میں تحفظ کے ساتھ ساتھ ہر شخص کو بلا تمیز آگے بڑھنے کے یکساں مواقع مہیا کرتا رہا۔ اگر صرف خواتین کے اپنے ویژن کی بات کی جائے تو ملک کی وزیراعظم اور صدر کے عہدوں پر فائز خصوصاً یورپی خواتین اپنے اپنے ملک سے اولڈ ہومز ختم نہ کرا سکیں، جہاں بوڑھے والدین کو ان کی اولاد لاوارث چھوڑ جاتی ہے، پھر زندگی بھر پلٹ کر ان کی شکل نہیں دیکھتی، یہ ضعیف والدین روتے سسکتے زندگی کے آخری دن ان اولڈ ہومز میں گزارتے ہیں۔ اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز خواتین اپنے اپنے ملک میں نئی نسل کی تعلیم پر تو مناسب دھیان دیتی رہیں لیکن اس سے زیادہ اہمیت کی حامل تربیت کے معاملے پر کوئی کارنامہ انجام نہ دے سکیں۔ یورپی نئی نسل خطرناک حد تک کاہل، خود سر اور خود غرض ہے، وہ اپنے آج میں زندہ رہتی ہے، اس کا مقصد اول آج کیلئے کمانا اور ویک اینڈ پر اپنے ساتھی کے ساتھ ایک شب گزارنے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم و ملک امریکہ اور امریکی سمجھے جاتے ہیں لیکن ان سے زیادہ تارکین وطن ہیں جو اہم عہدوں پر اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔ صرف بیس فیصد امریکی اعلیٰ تعلیم کی طرف آتے ہیں، اسی فیصد امریکی سکول کی تعلیم ختم کرنے کے بعد تعلیم کو ضروری نہیں سمجھتے۔ یہی حال یورپی ممالک کا ہے۔ دنیا کے غریب اور پس ماندہ ملکوں سے آنے والے ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان، ماہر تعمیرات ہر ملک میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، یہی حال آئی ٹی کے میدان میں ہے جس میں امریکیوں اور یورپی باشندوں کی نسبت دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد زیادہ ہے جو دنیا کی معیشتوں کو سنوار رہے ہیں۔
پاکستان میں خواتین تیزی سے مختلف میدانوں میں آگے آ رہی ہیں لیکن بدقسمتی سے اعلیٰ ترین تعلیم یافتہ خواتین کیلئے سیاست میں جگہ کم ہے اور سربراہ مملکت بننے کا امکان تو بہت ہی کم، اس کی وجوہات لاتعداد ہیں، سب سے بڑی وجہ وہی ہے کہ خدا نے عورت کو حکومت کرنے کیلئے پیدا ہی نہیں کیا، اس کی اور ذمہ داریاں ہیں جن کی اپنی اہمیت ہے، عورت لمبی دوڑ کیلئے پیدا نہیں کی گئی، نازک اقدام ہے۔ چند روز قبل پاپا کی پری نے ایک اہم منصب سنبھالا ہے، نصف پاکستان اس کے حوالے کیا گیا ہے، اس کی والدہ اسے ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں۔ ایف ایس سی میں نمبر کم آئے، میرٹ پر داخلہ نہ مل سکا تو جنرل ضیاء الحق مرحوم صدر پاکستان کے کوٹے سے انہیں میڈیکل کالج میں داخلہ ملا لیکن پہلے ہی سال معلوم ہوا کہ ڈاکٹر بننے کیلئے دل لگا کر پڑھنا پڑے گا، بس یہ مشکل کام بس کی بات نہ تھی، سیاست میں آنا تو حادثہ تھا، وہ بھی اس لئے خیال آیا کہ چچازاد الیکشن لڑکر ایم این اے بن گیا، پھر وہ ایم پی اے بن گیا تو محسوس ہوا وہ وزیراعلیٰ پنجاب یا وزیراعظم پاکستان بن سکتا ہے، وہ آگے نکل جائیگا، ہم پیچھے رہ جائیں گے، ہمارے یہاں شریکوں کا منہ لال دیکھ کر اپنا منہ لال کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے، پس وہ کرلیا گیا۔ منصوبہ بندی سے سیاست میں آتے تو قانون کا علم حاصل کرتے، انٹرنیشنل ریلیشن پر نظر مارتے، اکنامکس پڑھتے یا پولیٹیکل سائنس کا مضمون پڑھتے، فی الحال تو لگتا ہے ایک مضمون ہی پڑھا ہے وہ ہے لڑائی، اساتذہ کے انتخاب میں بھی غلطی کی گئی، شاگردی ان کی اختیار کی گئی جو فوج کیخلاف بغض سے بھرے ہوئے تھے۔ انہوں نے یہی کچھ پڑھایا۔
ترجیحات کا اعلان کیا گیا ہے جس میں خدا کی خوشنودی اور خلق خدا کیلئے کچھ نہیں، اہمیت کاروباری طبقے اور بیوروکریسی کی ہے۔ پاپا کی پری اگر اپنی حکومت کے دورانیے میں فقط دو کام کر دے تو اپنے بزرگوں کو پیچھے چھوڑ جائے، پنجاب میں ملاوٹ اور تجاوزات ختم کر دے۔ تعلیم اور صحت کو تاجروں سے چھین لے۔ یہ کام نہ تو پری کے پاپا کر سکے نہ ہی چچا، اب اس کا امتحان ہے، مہنگے ملبوسات اور مہنگے ترین میک اپ سے گریز بھی ضروری ہے۔ سیاستدان کو سیاستدان نظر آنا چاہئے، ماڈل گرل یا سکرین کی پروین نہیں۔ بچپن میں سنا تھا پری ہر مشکل کام کر دیتی ہے دیکھتے ہیں کیا کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button