سیاسیات

پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں ن لیگ، پی پی پی میں بانٹنے کا فیصلہ؟

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما اور وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ ان کی طرف سے الیکشن کمیشن کو بتایا گیا ہے کہ آئین کے مطابق مخصوص نشستوں میں جو ان کی جماعت کے حمایت یافتہ امیدواروں کا حصہ ہے وہ انھیں ملنا چاہیے۔

بدھ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’ایک بحث کی گئی کہ سُنّی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت تو ہے لیکن انھوں نے پارلیمنٹ میں کوئی نشست نہیں جیتی اس لیے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی شمولیت کے بعد بھی اس جماعت کو اقلیتوں کی اور خواتین کی مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں۔‘

انھوں نے الیکشن کمیشن میں جاری سماعت کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ ’اس پر ہم نے آرٹیکل 51 دکھایا الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اور یہ بتایا کہ وہاں لکھا ہوا ہے کہ کسی بھِی سیاسی جماعت کو جوائن کیا جا سکتا ہے، آئین میں کہیں یہ قدغن نہیں لگائی گئی کہ جو سیاسی جماعت پارلیمنٹ میں ہو صرف اُس میں ہی شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دوسری بحث یہ کی گئی کہ سُنّی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کے لیے کوئی لسٹ نہیں دی۔

’بالکل درست ہے کہ لسٹ نہیں دی لیکن اس میں کہاں قدغن ہے قانون میں کہ آپ دوبارہ لسٹ نہیں دے سکتے؟‘

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے اور انھیں امید ہے کہ آئین و قانون کے مطابق فیصلہ ہوگا۔

انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کی سیٹیں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی میں تقسیم کی گئیں تو ان کی جماعت سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔

خیال رہے بدھ کو الیکشن کمیشن میں سُنّی اتحاد کونسل میں آزاد امیدواروں کی شمولیت اور خصوصی نشستوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

دورانِ سماعت چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ سربراہ سُنّی اتحاد کونسل نے 26 فروری کو الیکشن کمیشن کو خط لکھا، سُنّی اتحاد کونسل نے کہا کہ جنرل الیکشن نہیں لڑے نا مخصوص نشستیں چاہییں۔

چیف الیکشن کمشنر نے علی ظفر کو مخاطب ہو کر سوال کیا کہ سُنّی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں چاہییں تو آپ کیوں ان کو مجبور کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button