Editorial

مرکز میں اتحادی حکومت بنانے کا اعلان

عام انتخابات کو کچھ روز گزر چکے ہیں، انتخابی نتائج کے مطابق کوئی بھی جماعت سادہ اکثریت حاصل نہ کر سکی۔ اس تناظر میں اتحادی حکومت ہی قائم ہوسکتی ہے۔ سیاسی جماعتیں حکومت کے قیام کے حوالے سے تذبذب کا شکار تھیں، کوئی واضح صورت حال سامنے نہیں آرہی تھی۔ عوام بھی بے یقینی کا شکار اور تشویش میں مبتلا تھے۔ تاجر برادری کو بے پناہ خدشات لاحق ہورہے تھے۔ اسٹاک ایکسچینج میں بدترین مندی کا راج تھا۔ بدترین خسارے سامنے آرہے تھے۔ سرمایہ کاروں کی بد اعتمادی بڑھتی چلی جارہی تھی۔ ایک بحرانی سی کیفیت جنم لیتی دِکھائی دے رہی تھی۔ انتخابات میں معقول نشستیں حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں کی جانب سے تدبر، دُوراندیشی اور دانش پر مبنی فیصلوں کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔ تشویش بڑھتی چلی جارہی تھی، ایسے میں ملک و قوم کے مفاد میں گزشتہ روز سیاسی جماعتوں کی جانب سے بڑا اعلان سامنے آگیا۔ مسلم لیگ ن، ( ق) لیگ، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم ( پاکستان)، آئی پی پی کی جانب سے اتحادی حکومت قائم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ میاں شہباز شریف وزیراعظم کے امیدوار ہوں گے جب کہ مریم نواز شریف پنجاب کی وزیراعلیٰ کے لیے امیدوار نامزد کی گئی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ( ن)، پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، مسلم لیگ ( ق)، استحکام پاکستان پارٹی اور بلوچستان عوامی پارٹی نے اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کر دیا۔ اسلام آباد میں مسلم لیگ ( ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر ملکی سیاسی جماعتوں کا اجلاس ہوا، جس میں آصف زرداری، شہباز شریف، خالد مقبول صدیقی اور صادق سنجرانی نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ مل بیٹھ کر حکومت بنانے کا فیصلہ کیا ہے، چاہتے ہیں مصالحت کے عمل میں پی ٹی آئی بھی شامل ہو، ہماری نظریاتی مخالفتیں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں معاشی ایجنڈے پر سب کو ایک ہونا ہوگا، الیکشن میں مخالفتیں ہوتی ہیں لیکن مل کر آگے چلنا ہوگا۔ آصف زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا دیا۔ ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کا پہلے بھی ساتھ دیا تھا اب بھی دیں گے، ہم سب پاکستان کو بہتر صورت حال کی جانب لے جائیں گے۔ صادق سنجرانی نے کہا کہ ہم میاں صاحب کے ساتھ کھڑے تھے، کھڑے ہیں۔ سابق وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ الیکشن میں ایک دوسرے کے خلاف باتیں کرتے ہیں وہ مرحلہ ختم ہوچکا، اب پارلیمان وجود میں آنے والی ہے، معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا ہے، اپنے اختلافات ختم کرکے قوم کو آگے لے کر جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف معاہدے نے پاکستان کو معاشی استحکام دیا، پاکستان میں جو مہنگائی ہے اس کو کم کرنا ہے، پاکستان کے قرضوں کو کم کرنا ہے، انتخابات میں جس کا جو مینڈیٹ آیا ہے اس کو سب تسلیم کرتے ہیں، پیپلز پارٹی نے ن لیگ کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے اس پران کے شکر گزار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری، خالد مقبول صدیقی، شجاعت حسین، علیم خان کا شکر گزار ہوں، آج جو جماعتیں یہاں اکٹھی ہوئی ہیں وہ دو تہائی اکثریت رکھتی ہیں، اگر پی ٹی آئی کے پاس اکثریت ہے تو وہ لے آئے ہم سب اس کا احترام کریں گے، آئیں آگے بڑھیں میثاق معیشت کو آگے بڑھائیں، باہمی اختلافات ختم کریں۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، نوازشریف سے درخواست کروں گا کہ وزیراعظم کا عہدہ قبول کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر پاکستان کا فیصلہ ان ساتھیوں نے کرنا ہے، مشاورت سے فیصلے کریں گے۔ دوسری طرف مسلم لیگ ( ن) کے قائد نواز شریف نے وزیراعظم کیلئے شہباز شریف کو نامزد کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں مسلم لیگ ( ن) نے صدر پاکستان کے لیے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ مسلم لیگ ( ن) کے قائد نوازشریف نے پارٹی صدر شہباز شریف اور سینئر لیگی رہنمائوں سے مشاورت کے بعد صدر کیلئے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ( ن) صدر کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت کا باقاعدہ اعلان جلد کرے گی۔ قبل ازیں پیپلز پارٹی نے وزارت عظمیٰ کے لیے مسلم لیگ ن کے امیدوار کو ووٹ دینے کا اعلان کر دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے زرداری ہائوس اسلام آباد میں پی پی پی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی ( سی ای سی) کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پاکستان کو بحران سے نکالنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے، ہم آج بھی پاکستان کھپے کا نعرہ لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس مرکز میں حکومت بنانے کیلئے مطلوبہ مینڈیٹ نہیں تھا اس لیے میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں ہوں، ن لیگ نے ہمیں حکومت سازی کیلئے دعوت دی تھی، وزارت عظمیٰ کے لیے مسلم لیگ ن کے امیدوار کو ووٹ دیں گے لیکن ن لیگ کی حکومت کی کابینہ میں شامل نہیں ہوں گے۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے دُوراندیشی پر مبنی فیصلہ سامنے آیا ہے، جس کی جتنی تحسین کی جائے، کم ہے۔ کوشش ہونی چاہیے کہ اتحادی حکومت جلد از جلد تشکیل دی جائے، اس حوالے سے تیزی کے ساتھ کام کئے جائیں۔ اتحادی حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ملکی معیشت کے سنگین چیلنجز سے احسن انداز میں نمٹنے کے لیے راست اقدامات ممکن بنائے۔ مہنگائی کی شدّت میں کمی کے لیے کوششیں کی جائیں۔ عوام کی اشک شوئی کی جائے۔ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ پاکستانی روپے کو اُس کا کھویا ہوا مقام واپس دلایا جائے۔ ملک پر قرضوں کے بار میں کمی کی لیے اقدامات کیے جائیں۔ قرضوں کے بوجھ سے مستقل نجات کا بندوبست کیا جائے۔ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے مسائل کے حل کی سبیل کی جائے۔ عوام کو بہت توقعات وابستہ ہیں، اتحادی حکومت کو ان پر پورا اُترنے کے لیے انتہائی جانفشانی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
مودی کی پالیسیوں کیخلاف کسانوں کا احتجاج
مودی حکومت بھارت کے لیے بڑی رسوائی کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ اس کے 10سالہ دور میں بھارت پستیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں پہنچ چکا ہے، جہاں ہندو انتہاپسندی عفریت کی شکل اختیار کر چکی، اقلیتوں کے لیے زیست جہنم بن چکی، وہیں دوسرے طبقات
بھی مودی حکومت کے ظلم و ستم سے بچ نہیں سکے۔ یہ جس پر چاہتا ہے ظلم اور جبر کی انتہا کر ڈالتا ہے۔ کسان کسی بھی ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اگر ان کی زندگی سہل ہو اور ان کو ہر طرح کی آسانیاں میسر ہوں تو یہ ملک و قوم کی خدمت میں شب و روز ایک کر دیتے ہیں۔ خوراک کی پیداوار میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے۔ زرعی شعبے کو ترقی و کامرانی سے ہمکنار کرنے میں یہ مصروفِ عمل رہتے ہیں۔ یہ بے چارے خود عیش و عشرت سے دُور رہتے ہوئے اپنا آرام و سکون تج دیتے ہیں اور فصلوں کی آبیاری میں مصروفِ عمل رہتے ہیں، اُن کا بے پناہ خیال رکھتے ہیں۔ کسی بھی ملک سے ان کا تعلق ہو، کسان ہر لحاظ سے سراہے جانے کے قابل ہیں اور حکومتوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اُن کو درپیش مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرے۔ اُن کے لیے آسانیاں فراہم کرے، لیکن مودی جب سے برسراقتدار آیا ہے، بھارتی کسانوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ وہ پچھلے کئی سال سے سراپا احتجاج ہیں۔ چند سال قبل اُن کے ملک گیر احتجاج نے خاصا زور پکڑا تھا، 2019ء میں بھی اُنہوں نے بھرپور احتجاج کیا، 2021میں بھی کسان اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے، لیکن سفّاک اور ہٹ دھرم مودی نے اس پر توجہ دینا بھی گوارا نہ کی۔ اب پھر سے مودی کے خلاف کسان سراپا احتجاج دِکھائی دیتے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں مودی سرکار کی کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف ملک بھر سے کسان ٹریکٹرز، گاڑیوں اور پیدل احتجاج کرتے ہوئے دارالحکومت کے لیے روانہ ہوگئے، جہاں مودی کے قلعے کا گھیرائو کیا جائے گا، بھارتی میڈیا کے مطابق اترپردیش، ہریانہ اور پنجاب سے کسان ہزاروں کی تعداد میں نئی دہلی پہنچنا شروع ہوگئے جو مطالبات منظور ہونے تک دہلی کی سرحدوں پر دھرنا دئیے رہیں گے، کسان رہنمائوں کا کہنا ہے کہ اپنے مطالبات کی منظوری تک گھر نہیں جائیں گے اور ضرورت پڑی تو وزیراعظم ہائوس کا بھی گھیرائو کریں گے۔ اپنے جائز مطالبات کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں، کسانوں کے دہلی چلو مارچ سے قبل ہی بھارتی پولیس نے مظاہرین کی آمد روکنے کے لیے سنگھو، غازی پور اور ٹکری کی سرحدوں پر ناکہ بندی کردی۔ گاڑیوں کو روکنے کے لیے سڑکوں پر کیلیں بچھا دیں، دہلی کے اطراف کسان مارچ سے قبل ہی مودی سرکار نے 5ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کر دئیے۔ مختلف اضلاع میں دفعہ 144نافذ کردی گئی جب کہ انٹرنیٹ سروس معطل ہے، بھارتی پولیس نئی دہلی میں داخل ہونے والی پبلک ٹرانسپورٹ کی بھی کڑی نگرانی کر رہی ہے۔ مودی سرکار کی جانب سے کسانوں کے ساتھ یہ بدترین ناانصافی ہے۔ بھارت مودی کے بعد ویسے ہی کمزور ہوا ہے۔ اقلیتوں پر ظلم و ستم انتہائوں پر جا پہنچا۔ اس وجہ سے بھارت میں علیحدگی کی ڈھیروں تحاریک چل رہی ہیں۔ خالصتان تحریک سب سے توانا نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے امریکا اور کینیڈا میں کامیاب ریفرنڈم کا انعقاد بھی ہوچکا ہے۔ اب عام انتخابات کا دور دورہ ہے۔ اس بار بھی اگر مودی جیسے انتہا پسند حکمراں کا انتخاب بھارت اور اُس کے عوام کے لیے بدترین عذاب کا باعث ثابت ہوگا، اس لیے اُنہیں بھارتی جنرل الیکشن میں قیادت کا انتخاب انتہائی سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا، اس ضمن میں غلط چُنائو سوہانِ روح ثابت ہوسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button