Editorial

الیکشن کمیشن کی جانب سے دھاندلی الزامات مسترد

8فروری کو پاکستان میں عام انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پُرامن اور شفاف الیکشن کے انعقاد کے لیے تمام تر اقدامات کیے۔ نگراں حکومت نے اس کی بھرپور مدد و معاونت کی۔ سیکیورٹی اداروں نے بھی اس ضمن میں اپنا بھرپور کردار نبھایا۔ پورے ملک میں کہیں بھی کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی، البتہ کچھ مقامات پر جھگڑے ضرور ہوئے، پولنگ کچھ دیر رُکی، لیکن سیکیورٹی فورسز کی کوششوں سے پھر یہ عمل تسلسل سے جاری رہا۔ لگ بھگ تمام ہی قومی اور صوبائی حلقوں کے نتائج سامنے آچکے ہیں۔ پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں نے قومی اسمبلی کی 92نشستیں جیتی ہیں۔ مسلم لیگ ن 79سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے جب کہ پیپلز پارٹی نے 54نشستیں حاصل کی ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کے حصّے میں 17نشستیں آئی ہیں۔ کوئی بھی تن تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں۔ ایسے میں مخلوط حکومت ہی مرکز میں قائم کی جاسکتی ہے۔ اس حوالے سے معاملات آگے بڑھتے ہوئے دِکھائی دے رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے پی پی پی کو اتحاد کی دعوت دی تھی، جس پر دو روز تک پی پی کی سی ای سی کے اجلاس ہوئے، اس حوالے سے پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کو ووٹ دینے اور حکومت کا حصّہ نہ بننے کا اعلان کیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کو پھر سے صدر پاکستان دیکھنے کے خواہش مند ہیں اور اس کا اظہار بھی اُنہوں نے کیا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے مجلس وحدت المسلمین کے ساتھ وفاق اور پنجاب میں جب کہ کے پی کے میں جماعت اسلامی کے ساتھ حکومت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب انتخابی نتائج پر احتجاج کے سلسلے جاری ہیں۔ مختلف شہروں میں دھرنے، احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ جماعت اسلامی، جی ڈی اے، جے یو آئی (ف) اور دیگر جماعتوں کی جانب سے احتجاج کے سلسلے ہیں۔ پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، جی ڈی اے و دیگر کی جانب سے بعض نتائج کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ملک اس وقت کسی بھی سیاسی بحران کی کیفیت سے دوچار نہیں ہوسکتا۔ جتنا جلد ممکن ہوسکے، عوام کا حق نمائندگی ادا کرتے ہوئے منتخب حکومت کو اقتدار سنبھال کر ملک و قوم کو لاحق مسائل اور مشکلات کے حل کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ احتجاج کسی بھی طور ملک وقوم کے مفاد میں بہتر ثابت نہیں ہوں گے۔ اس سے نقصانات ہی سامنے آئیں گے۔اسی ضمن میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا، اپنے اعلامیہ میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ اکّا دکّا واقعات سے انکار نہیں، تدارک کیلئے متعلقہ فورمز موجود ہیں۔ اعلامیہ کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے شکایات پر فوری فیصلے کیے جارہے ہیں، مشکلات اور مسائل کے باوجود 8فروری کو انتخابی عمل پُرامن اور منظم رکھنے میں کامیاب رہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات ایک بہت بڑا آپریشن تھا، جسے کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا، ای ایم ایس نے آر اوز کے دفاتر میں تسلی بخش کام کیا، موبائل سروس کی بندش سے پریذائیڈنگ افسران الیکٹرانک ڈیٹا بھیجنے سے قاصر رہے۔ اعلامیہ کے مطابق معمول کی کوآرڈی نیشن اور نقل و حمل کو موبائل سروس کی بندش نے بری طرح متاثر کیا، 2018انتخابات کا پہلا نتیجہ اگلے روز صبح 4بجے موصول ہوا تھا، اس مرتبہ پہلا نتیجہ رات دو بجے موصول ہوا۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیہ کے مطابق کچھ حلقوں کے علاوہ انتخابات کے نتائج ڈیڑھ دن میں مکمل کیے گئے، 2018کے انتخابات میں نتائج کی تکمیل میں تین روز لگے تھے، کچھ حلقوں میں نتائج کی تاخیر سے کسی مخصوص سیاسی جماعت کو فائدہ یا نقصان نہیں پہنچا۔ ترجمان کے مطابق انتخابات کے انعقاد سے پہلے اور انتخابی عمل کے دوران الیکشن کمیشن کو بے پناہ چیلنجز درپیش تھے۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن کے باہر شکایات سیل قائم کردیا گیا۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ شکایات سیل میں چاروں صوبوں کے علیحدہ علیحدہ کائونٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ شکایات سیل انتخابی نتائج سے متعلق قائم کیے گئے ہیں، درخواست گزار اپنے حلقے سے متعلق معلومات لے سکیں گے۔ ادھر الیکشن کمیشن نے این اے 253اور پی بی 9کوہلو کے 7پولنگ اسٹیشنوں پر جہاں امن وامان کی خراب صورتحال کی وجہ سے پولنگ نہیں ہوسکی تھی دوبارہ پولنگ کرانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے ، اب ان پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ 16فروری کو ہوگی جبکہ الیکشن کمیشن نے حلقہ این اے58اور حلقہ این اے59کا نوٹیفکیشن روک دیا اور14فروری کو ریٹرننگ افسران حلقہ 58 اور 59کو مع ریکارڈ طلب کرلیا ہے، کامیاب ہونے والے امیدواروں کو بھی نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔ حلقہ این اے58کے آزاد امیدوار ایاز امیر نے درخواست دی تھی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ فارم45 کے مطابق کامیاب ہوئے مگر ریٹرننگ افسران نے دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے مسلم لیگ ن کے امیدوار میجر (ر) طاہر اقبال کی کامیابی کا47فارم جاری کیا۔ اُدھر حلقہ این اے59کے ملک رومان احمد نے بھی اسی قسم کا موقف اختیار کیا جس پر دونوں درخواستوں پر ابتدائی سماعت کے بعد14فروری کا نوٹس کردیا گیا۔ مزید برآں لاء آفیسر الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس 100کے قریب شکایات دائر ہوچکی ہیں، الیکشن کمیشن ان شکایات کو سماعت کیلئے مقرر کردیا گیا ہے، الیکشن کمیشن جلد ان شکایات پر فیصلہ کردے گا۔ مزید برآں الیکشن کمیشن نے این اے 49اور 50اٹک میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے این اے 71سیالکوٹ سے ن لیگی رہنما خواجہ آصف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک دیا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ الیکشن کمیشن شکایات کے ازالے میں مصروف عمل ہے۔ انتخابات پُرامن اور شفاف ہوئے۔ عوام نے اپنا فیصلہ سُنادیا ہے۔ ہارنے والوں کو اپنی شکست کھلے دل سے تسلیم کرنی چاہیے۔ احتجاج کسی بھی طور مسئلے کا حل نہیں، اس سے انارکی کی کیفیت پیدا ہوگی، ملک اور قوم مزید کسی بحران کے ہرگز متحمل نہیں ہوسکتے۔ سیاسی تدبر، دانش اور بردباری کا مظاہرہ ناگزیر ہے۔ ضروری ہے کہ حکومت کی تشکیل کا عمل جلد از جلد پایۂ تکمیل کو پہنچایا جائے اور منتخب حکومت اپنے مینڈیٹ کے مطابق ملک و قوم کو لاحق مسائل کے حل کی جانب تیزی سے قدم بڑھائے۔ ملک عزیز کی معیشت اس وقت انتہائی مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ پاکستانی روپیہ تاریخ کی بدترین بے وقعتی اور بے توقیری کا شکار ہے۔ مہنگائی کا عفریت غریبوں کے لیے سوہانِ روح ثابت ہورہا ہے۔ ملک عزیز پر قرضوں کا بے پناہ بوجھ ہے۔ امور مملکت چلانے کے لیے مزید قرضوں کے ملک و قوم مزید متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس تناظر میں درست خطوط پر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے مسائل کے حل کی جانب قدم بڑھائے جائیں۔
مردان میں 2دہشت گرد ہلاک میانوالی میں حملہ ناکام
وطن عزیز میں پچھلے ایک سال سے زائد عرصے سے دہشت گردی کا عفریت پھر سے سر اُٹھاتا دِکھائی دے رہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خصوصی نشانے پر ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان صوبوں میں دہشت گردی کے متواتر واقعات رونما ہورہے ہیں۔ کبھی سیکیورٹی فورسز کے قافلوں پر حملہ کیا جاتا ہے تو کبھی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، سیکیورٹی فورسز کے کئی جوان و افسران جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ اس کے تدارک کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مختلف آپریشنز جاری ہیں، جن میں بڑی بڑی کامیابیاں نصیب ہوئی ہیں، کئی علاقوں کو دہشت گردوں سے کلیئر کرایا جا چکا ہے، کتنے ہی دہشت گردوں کو مارا اور گرفتار کیا جا چکا ہے اور اب بھی یہ کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور دہشت گردوں کی کمر ٹوٹنے تک جاری رکھی جائیں گی۔ پاکستان پہلے بھی تن تنہا دہشت گردی کو قابو کرکے دُنیا کو انگشت بدنداں ہونے پر مجبور کر چکا ہے اور اب بھی ان شاء اللہ اس حوالے سے جلد قوم کو خوش خبری ملے گی۔ گزشتہ روز بھی مردان میں ایک آپریشن میں دو دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا ہے جبکہ میانوالی میں پولیس چیک پوسٹ پر بڑا دہشت گرد حملہ ناکام بنایا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے مردان میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، فائرنگ کے تبادلے میں 2دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے دہشت گردوں سے اسلحہ، گولا بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد کرلیا گیا، ہلاک ہونے والے دہشت گرد علاقے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں سرگرم رہے۔ آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے میں پائے جانے والے کسی دوسرے دہشت گرد کو ختم کرنے کیلئے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، مقامی لوگوں نے آپریشن کو سراہا اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کا اظہار کیا۔ دریں اثنا میانوالی میں قبول خیل چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنادیا گیا۔ پولیس کے مطابق 12سے 13دہشت گردوں نے رات کے اندھیرے میں پولیس ناکے پر تین اطراف سے حملہ کیا، پولیس نے بہترین حکمت عملی سے حملہ ناکام بنادیا۔ حکام کے مطابق پولیس جوانوں کی جوابی فائرنگ سے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاکر تمام دہشت گرد فرار ہوگئے۔ ڈی پی او میانوالی پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے، انہوں نے کہا کہ پولیس کے جوان سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے، دہشت گردوں کا ہر طرح سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پولیس کے مطابق دہشت گردوں کی گرفتاری کیلئے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے پر پولیس ٹیم کو شاباش دی۔ دہشت گرد عناصر کے خلاف مذکورہ بالا کارروائیاں لائق تحسین ہیں۔ قوم کو اپنی سیکیورٹی فورسز پر فخر ہے۔ سیکیورٹی فورسز کو قوم کی مکمل حمایت اور سپورٹ حاصل ہے۔ دہشت گرد عناصر کا مکمل قلع قمع نزدیک ہے۔ ان کے خلاف آپریشنز جاری ہیں۔ اس ضمن میں کچھ ہی عرصے میں قوم کو خوش خبری ملے گی۔ امن و امان کا دور دورہ ہوگا۔ ملک اور قوم ترقی اور خوش حالی کی جانب تیزی سے قدم بڑھاتے ہوئے نظر آئیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button