Editorial

حکومت سازی، جلد فیصلہ کیا جائے

ملک میں عام انتخابات کے کامیاب، پُرامن اور شفاف انعقاد کو کچھ روز ہوئے ہیں۔ عوام نے اپنا فیصلہ سُنا دیا ہے۔ چونکہ کوئی بھی سیاسی جماعت تن تنہا اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ ایسے میں مخلوط حکومت بننے کے روشن امکانات ہیں، لیکن سیاسی جماعتوں کی جانب سے حکومت سازی کے حوالے سے اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔ یہ امر عوام النّاس کو تشویش میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ دوسری جانب تاجر برادری اور سرمایہ کار بھی بے یقینی کی اس صورت حال میں تذبذب میں مبتلا دِکھائی دیتے ہیں۔ کاروبار کے حوالے سے بھی مندی کی صورت حال چل رہی ہے۔ ملکی معیشت پہلے ہی مشکلات سے دوچار ہے۔ پاکستانی روپیہ بے وقعتی اور بے قدری سے دوچار دِکھائی دیتا ہے۔ ملک پر قرضوں کا بے پناہ بار ہے۔ ہر نومولود لاکھوں قرض کے بوجھ تلے جنم لیتا ہے۔ وسائل کے درست استعمال کا فقدان ہے۔ بجلی، گیس، ایندھن کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی ہوئی ہیں۔ مہنگائی کے نشتر غریبوں پر بُری طرح برس رہے ہیں۔ ہر شے کے دام آسمان سے باتیں کررہے ہیں۔ غریبوں کے لیے روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھنا ازحد مشکل ہوچکا ہے۔ کاروبار کی صورت حال بھی ناگفتہ بہ ہے۔ سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی حالات سازگار نظر نہیں آتے۔ اس تناظر میں جلد از جلد منتخب حکومت کے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کی ضرورت ہے، لیکن اس حوالے سے تادم تحریر کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آسکا ہے، لیکن اس حوالے سے ایک اُمید کی کرن ضرور جاگی ہے اور مسلم لیگ (ن) جس نے قومی اسمبلی کی 75 نشستیں جیتی ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی سے حکومت کے قیام کے لیے رابطہ قائم کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سے مسلم لیگ ن نے پہلا باضابطہ رابطہ کیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف پیپلز پارٹی سے حکومت سازی میں تعاون کیلئے بلاول ہائوس پہنچ گئے۔ آصف علی زرداری، چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری اور سابق وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان حکومت سازی پر بات چیت کی گئی۔ مسلم لیگ ن کے وفد میں اعظم نذیر تارڑ، ایاز صادق، احسن اقبال، رانا تنویر، خواجہ سعد رفیق، ملک احمد خان، مریم اورنگزیب اور شزا فاطمہ شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت نے ن لیگ کو جواب دیا ہے کہ حکومت سازی میں تعاون کے حوالے سے آپ کی پیشکش پر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں تبادلہ خیال ہوگا جبکہ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق صدر پی پی پی پی آصف علی زرداری، چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری سے سابق وزیراعظم شہباز شریف کی وفد کے ہمراہ بلاول ہائوس میں ملاقات کی، ملاقات میں ملک کی مجموعی صورت حال اور مستقبل میں سیاسی تعاون پر تفصیلی بات چیت کے علاوہ قائدین کا ملک کو سیاسی استحکام سے ہمکنار کرنے کے لیے سیاسی تعاون کرنے پر اتفاق کیا گیا، دونوں جماعتوں کے قائدین کا اصولی اتفاق تھا کہ سیاسی عدم استحکام سے ملک کو بچائیں گے، ملاقات میں دونوں جماعتوں نے صورتحال پر مشاورت کی اور تجاویز پر تبادلہ خیال کیا، پی پی پی قیادت نے مہمان وفد کو بتایا کہ مسلم لیگ ن کی تجاویز کو سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں سامنے رکھیں گے، قائدین کا کہنا تھا کہ عوام کی اکثریت نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے، ہم عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔ دوسری طرف متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے وفاق میں مسلم لیگ ن) کی حکومت بننے پر سندھ کی گورنر شپ مانگ لی ہے۔ مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے وفود کے درمیان لاہور میں ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات 50منٹ تک جاری رہی۔ ذرائع نے بتایا کہ ملاقات کے دوران ایم کیو ایم نے مطالبات کی فہرست نوازشریف کے سامنے رکھی اور ن لیگ کی حکومت بننے کی صورت میں سندھ کی گورنر شپ مانگ لی ہے جبکہ دونوں جماعتوں کے درمیان آئندہ مل کر چلنے پر اتفاق ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق کراچی میں وفاق کے ترقیاتی منصوبوں میں ایم کیو ایم کو آن بورڈ رکھا جائے گا جبکہ مسلم لیگ ن اور متحدہ قومی موومنٹ حکومت سازی کے مشاورتی عمل میں شریک رہیں گے، ن لیگ نے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان مصالحانہ کردار ادا کرنے کی ہامی بھی بھر لی ہے۔ نواز شریف نے ہدایت کی کہ شہباز شریف آپ نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان مصالحانہ کردار ادا کرنا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ دونوں سیاسی پارٹیوں نے مستقبل میں ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لئے لائحہ عمل پر غور و خوض کیا جبکہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سے حکومت سازی، سندھ کی گورنر شپ یا کسی اور معاہدے کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی ، لیگی قیادت سے پاکستان کو درپیش خطرات اور اندیشوں اور اس سے باہر نکالنے کے حوالے سے باہمی تعاون پر بات چیت ہوئی ہے۔ حکومت سازی کا عمل جتنی جلد ہوسکے، پورا ہوجانا چاہیے۔ اس حوالے سے تاخیر عوام کے تذبذب میں اضافے کا باعث قرار پائے گی۔ عام انتخابات میں زیادہ نشستیں جیتنے والی دونوں سیاسی جماعتوں کی قیادت کی جانب سے دانش مندی، تدبر اور دُوراندیشی ناگزیر ہے۔ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر ملک و قوم کی بہتری اور مفاد میں فیصلے کیے جائیں اور مل کر ملکی معیشت کو مشکلات سے نکالا جائے۔ کاروبار دوست ماحول کو پروان چڑھایا جائے۔ تاجروں، سرمایہ کاروں کے تذبذب اور بے چینی کو دُور کیا جائے۔ پاکستانی روپے کو اُس کا کھویا ہوا مقام واپس دلایا جائے۔ مہنگائی پر قابو پایا جائے۔ بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتیں مناسب سطح پر واپس لائی جائیں۔ عوام کے دلدر دُور کیے جائیں۔ پاکستان پر قرضوں کے بار کو ختم کرنے کے لیے مل کر اقدامات کیے جائیں۔ اُدھار کی رقوم سے امور مملکت چلانے کے بجائے وسائل کو درست خطوط پر بروئے کار لایا جائے۔ یقیناً نیک دلی، شفافیت سے کیے گئے اقدامات ملک و قوم کی خوش حالی کی جانب بڑھتے قدم ثابت ہوں گے۔
ماحولیاتی آلودگی، تدارک ضروری
ماحولیاتی آلودگی کے نقصانات میں وقت گزرنے کے ساتھ ہولناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ انتہائی بڑے پیمانے پر موسمیاتی تغیر رونما ہورہے ہیں۔ سخت سردی اور آگ برساتی، جھلساتی گرمی کے موسموں سے دُنیا کو واسطہ پڑ رہا ہے، جس کے انتہائی نقصان دہ اثرات دُنیا پر مرتب ہورہے ہیں۔ طرح طرح کے امراض جنم لے رہے ہیں، جن سے بچے خاص طور پر زیادہ متاثر دِکھائی دیتے ہیں۔ فصلوں پر بھی ان کے انتہائی مضر اثرات پڑرہے ہیں۔ پنجاب میں تو اس بار موسم سرما اطفال کے لیے سنگین ثابت ہوا ہے۔ ساڑھے تین سو کے قریب بچے نمونیا کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اب بھی یہ سلسلہ رُکنے میں نہیں آرہا بلکہ روزانہ ہی نمونیا کے کئی کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔ دوسری جانب دیکھا جائے تو ماحولیاتی آلودگی کو بڑھاوا دینے میں عوام کا بڑا حصّہ ہے۔ لوگ اپنے گھروں کو تو صاف ستھرا رکھتے ہیں، لیکن گلی، محلے اور سڑکوں پر کچرا پھینکنے، گند پھیلانے سے ذرا بھی اجتناب نہیں کرتے۔ عوامی مقامات پر ڈسٹ بِن نصب ہوتی ہیں، لیکن لوگ کچرا باہر پھینکتے ہیں۔ بازاروں میں جاکر مشاہدہ کیا جائے تو کچرا زمین پر ہی پھینکا جارہا ہوتا ہے۔ سڑکوں پر جہاں دھواں چھوڑتی گاڑیاں آلودگی میں اضافے کا باعث ہیں، وہیں دھواں چھوڑنے والی فیکٹریاں، کارخانے بھی آلودگی کے عفریت میں اضافے کا سبب ہیں۔ افسوس ملک میں ہر طرح کی آلودگی خاصی شدّت سے موجود ہے، جو ماحول دشمنی میں اپنا کردار نبھارہی ہے۔ ہمارے ہاں آلودگی میں کمی کے لیے اقدامات کا فقدان پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے شہروں کا شمار آئے روز دُنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سب سے اوپر ہوتا ہے۔ آلودگی بڑھتی رہتی ہے، اس میں کمی دیکھنے میں نہیں آتی۔ لاہور سمیت بیشتر اضلاع میں موسم خشک رہا۔ گرمی اور آلودگی میں اضافہ ہونے لگا۔ آلودہ ترین شہروں میں لاہور پہلے نمبر پر رہا۔ ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق فضائی معیار خطرناک درجے تک مضر صحت ریکارڈ کیا گیا۔ لاہور کے اے کیو آئی 252ریکارڈ کیا گیا، جو دُنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سب سے زیادہ ہے۔ کراچی آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں ساتویں نمبر پر رہا۔ یہ صورت حال تشویش ناک ہونے کے ساتھ لمحہ فکر بھی ہے۔ آلودگی پر قابو پانا اکیلے حکومت کی ذمے داری نہیں، شہریوں کا بھی کچھ فرض ہے اور وہ اس میں کمی لانے میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انسان دوست ماحول کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔ درخت آلودگی کے خلاف موثر ہتھیار ہیں۔ ضروری ہے کہ آلودگی کے عفریت کو قابو میں رکھنے اور انسان دوست ماحول کو پروان چڑھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔ ملکی کُل رقبے کے تناسب سے جنگلات خاصے کم ہیں، انہیں اس حوالے سے معقول حد تک بڑھایا جائے۔ حکومت ہر کچھ روز بعد شجرکاری مہم شروع کرے اور اس میں ہر شہری شرکت کرے اور اپنے حصّے کا پودا لازمی لگائے اور اُس کی آبیاری کی ذمے داری احسن انداز میں ادا کرے۔ آلودگی کو بڑھاوا دینے والے عناصر کا راستہ روکا جائے۔ دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں، کارخانوں کے خلاف کارروائیاں عمل میں لائی جائیں اور انہیں اس سے باز رکھا جائے۔ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے مالکان کے خلاف سخت کریک ڈائون کیا جائے اور انہیں سڑکوں پر کسی طور دوڑنے کی اجازت نہ دی جائے۔ یقیناً درست سمت میں اُٹھائے گئے قدم مثبت نتائج کے حامل ثابت ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button