سپیشل رپورٹ

جب برصغیر میں پڑھے لکھے اور امیر لوگ ہی ووٹ ڈال سکتے تھے

برطانیہ کے ہندوستان پر قبضے کو لگ بھگ 43 سال ہو چکے تھے جب اس نے مقامی لوگوں کو اپنے نمائندے چُننے کا اختیاردیا۔ لیکن یہ مقامی افراد عام لوگ ہرگز نہیں تھے۔

برطانوی پارلیمنٹ نے 1858 میں ہندوستان کا انتظام ایسٹ انڈیا کمپنی سے لے لیا۔ مقامی قانون سازی کے لیے 1861 کے قانون کے تحت چھوٹے ادارے بنائے۔ نامزد اراکین پر مشتمل ان اداروں میں مقامی لوگوں کی کوئی نمائندگی نہیں تھی۔ 1892 کے انڈین کونسلز ایکٹ کے تحت بنے اداروں میں مقامی نمائندگی دی تو گئی مگر بہت کم۔

انڈین کونسلز ایکٹ 1901 کے تحت پہلی بار برطانوی ہندوستان میں قانون ساز اداروں میں مقامی لوگوں کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا۔

سبھاش سی کشیپ ’انڈیا کی پارلیمنٹ کی تاریخ‘ میں لکھتے ہیں کہ اس ایکٹ کے تحت بنی پہلی مرکزی قانون ساز کونسل کے 68 میں سے 27 ارکان منتخب تھے۔ لیکن انھیں برطانوی ہندوستان کے عام لوگوں نے نہیں بلکہ میونسپلٹی، ضلع اور لوکل بورڈز، یونیورسٹیوں، چیمبرز آف کامرس اور تجارتی اور زمین داروں یا چائے کے باغوں کے مالکان کی انجمنوں نے چُنا تھا۔
انڈین کونسلز ایکٹ 1909 کے تحت بنے قانون ساز ادارے 1915 تک چلے۔

گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1915 اور پھر گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1919 کے تحت، مرکز میں ایک دو ایوانی قانون ساز ادارہ بنایا گیا۔ مرکزی اسمبلی میں 145 ارکان تھے۔ ان میں سے 105 نامزد اور باقی منتخب تھے۔ اسمبلی کی مدت تین سال تھی۔

ریاست کی کونسل کے 60 ارکان تھے۔ ان میں سے 34 منتخب اور باقی گورنر جنرل کے نامزد کردہ تھے۔ کونسل کی مدت پانچ سال تھی
ایکٹ میں حلقوں سے دونوں ایوانوں کے لیے براہ راست انتخابات ہونا تھے۔ لیکن صرف چند افراد کو جائیداد یا زمین کی ملکیت، یا انکم ٹیکس، یا میونسپلٹی ٹیکس کی ادائیگی کی بنا پر ووٹ کا حق دیا گیا۔

اے گوئیر اور ایم اپادورائی کی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ کونسل کا حق رائے دہی بہت محدود تھا۔ جائیداد کی اہلیت اس قدر بلند رکھی گئی کہ صرف مال دار زمیندار اور تاجر ہی نمائندہ بن سکتے۔ مخصوص نشستوں کے لیے مرکزی یا صوبائی مقننہ کا تجربہ، میونسپل کونسل کی سربراہی، یونیورسٹی سینیٹ کی رکنیت اور اسی طرح کا مرتبہ اور عوامی امور میں تجربہ ووٹ کے لیے ضروری تھے۔

وی ایس راما دیوی اور ایس کے مینڈیرٹا اپنی کتاب، ’ہاؤ انڈیا ووٹس: الیکشن لاز، پریکٹس اینڈ پروسیجر‘ میں لکھتے ہیں کہ 1919 کا ایکٹ بھی ہندوستانی عوام کے مطالبات اور توقعات پر پورا نہ اترا۔

نیٹ شانی اپنی ایک کتاب میں لکھتی ہیں کہ برطانوی حکام کی دلیل یہ تھی کہ سب کو ووٹ کا حق دینا ’ہندوستان کے لیے غیرموزوں‘ ہے۔

’نوآبادیاتی ہندوستان میں انتخابات محدود جمہوریت کی مشق ہوتے جن میں ووٹروں کی ایک محدود تعداد مذہبی، برادری اور پیشہ ورانہ خطوط پر مختص نشستوں پر اپنا حق رائے دہی استعمال کرتی۔‘

مورخ جیرالڈائن فوربس لکھتی ہیں ہندوستانی خواتین کی تنظیموں نے خواتین کے حق رائے دہی کے لیے سخت جدوجہد کی۔
سنہ 1921 میں، بمبئی (اب ممبئی) اور مدراس (اب چنئی) خواتین کو ووٹ کا محدود حق دینے والے پہلے صوبے بن گئے۔ 1923 اور 1930 کے درمیان سات دیگر صوبوں نے خواتین کو حق رائے دہی دیا۔

ڈاکٹر فوربس نے اپنی کتاب ’ویمن ان ماڈرن انڈیا‘ میں لکھا ہے کہ ہاؤس آف کامنز نے متعدد ہندوستانی اور برطانوی خواتین تنظیموں کے ووٹ کے حق کے مطالبات نظر انداز کیے۔

ڈاکٹر فوربس کے مطابق ووٹ کے مخالفین ’عوامی معاملات میں خواتین کی کمتری اور نااہلی کی بات کرتے۔‘

بعض کہتے کہ خواتین کو ووٹ کا حق دینے سے شوہر اور بچے نظر انداز ہو جائیں گے۔ ایک شخص نے یہاں تک کہا کہ سیاسی سرگرمی سے خواتین بچوں کو دودھ پلانے کے قابل نہیں رہیں گی۔‘

گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 ہندوستان کے لیے آخری نوآبادیاتی قانونی ڈھانچا تھا۔

اس ایکٹ میں برطانوی صوبوں اور ہندوستانی شاہی ریاستوں کے ایک وفاقی سیٹ اپ کا تصور دیا گیا۔ دو ایوانوں والی وفاقی مقننہ میں کونسل آف سٹیٹ کی کل رکنیت 260 تھی، جن میں سے 104 ہندوستانی شاہی ریاستوں کے حکمرانوں اور باقی 156 ارکان برطانوی صوبوں کے نمائندے تھے۔ انھیں حلقوں سے براہ راست منتخب کیا جانا تھا، لیکن انتہائی محدود رائے دہی پر۔

ان انتخابات کے لیے ووٹرز کے طور پر اندراج کی اہلیت بھی محدود تھی اور اس کا انحصار ٹیکس، جائیداد، تعلیم، سرکاری خدمات وغیرہ پر تھا اورہر ریاست میں اہلیت کا معیار مختلف تھا۔

اس کے تحت حق رائے دہی کو تین کروڑ سے کچھ زیادہ یا بالغ آبادی کے تقریباً پانچویں حصے تک بڑھایا گیا۔ ان میں تھوڑی تعداد خواتین کی تھی۔
بہار اور اڑیسہ کی حکومت (تب ایک ہی صوبہ) نے ووٹروں کی تعداد کو کم کرنے اور خواتین سے ووٹ کا حق چھیننے کی کوشش کی۔

ڈاکٹر شانی لکھتی ہیں کہ حکومت کا یہ بھی ماننا تھا کہ ’عورت کو اگر طلاق ہو جائے، یا اگر اس کا شوہر فوت ہو جائے یا اس کی جائیداد ضائع ہو جائے تو اس کا نام انتخابی فہرست سے نکال دیا جانا چاہیے۔‘

صوبوں نے بھی خواتین کے اندراج کے حوالے سے اپنے قوانین بنائے۔ مدراس میں، ایک عورت ووٹر بننے کی صرف اسی صورت میں اہل ہو سکتی تھی جب وہ پنشن یافتہ بیوہ ہو یا کسی افسر یا سپاہی کی ماں ہو یا اس کا شوہر ٹیکس ادا کرتا ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس جائیداد ہو۔

لہٰذا ایک عورت کی ووٹ ڈالنے کی اہلیت زیادہ تر اس کے شوہر اور اس کی قابلیت اور اس کی سماجی حیثیت پر منحصر تھی۔

ڈاکٹر شانی کہتی ہیں کہ ’ووٹ کا حق دینے اور خواتین کو حقیقی طور پر ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کا تصور نوآبادیاتی نوکر شاہی کی سوچ کے دائرے سے باہر تھا۔

’یہ نوآبادیاتی حکومت کے ہندوستان کے ناخواندہ عوام پر اعتماد کی کمی اور غریب اور دیہی، ناخواندہ لوگوں کے حق رائے دہی کے بارے میں ان کے منفی رویوں سے بھی مطابقت رکھتا تھا۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button