Editorial

ن لیگ کا اتحادی حکومت بنانے کا اعلان

ملک میں جمعرات کو پُرامن طریقے سے عام انتخابات کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس کے بعد انتخابی نتائج کے لیے پورے ملک میں لوگ بے چین دِکھائی دئیے، جہاں امیدوار انتخابی نتائج کے منتظر تھے، وہیں اُن کے چاہنے والے بھی خاصے پُرجوش تھے، وقت بیتتا رہا اور انتخابی نتائج کے آنے کا سلسلہ تاخیر سے دوچار رہا، یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور محض چار ہی نشست کے نتائج سامنے آسکے۔ تادم تحریر، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے خاصے زیادہ حلقوں کے نتائج سامنے آچکے ہیں جب کہ کئی حلقوں کے رزلٹس سامنے آنا باقی ہیں۔ اب تک کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار قومی اسمبلی کی 91نشستیں جیت چکے ہیں، مسلم لیگ ن کے حصّے میں 63 نشستیں آئی ہیں جب کہ پیپلز پارٹی نے 50 سیٹیں اپنے نام کی ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان 13، مسلم لیگ ق 2، استحکام پاکستان پارٹی 2 اور جے یو آئی (ف) اب تک 2 نشستوں پر کامیابی حاصل کرچکی ہیں۔ اب بھی نتائج آرہے ہیں۔ اسی درمیان مسلم لیگ ن کی جانب سے بڑا اعلان سامنے آیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف نے عام انتخابات کے نتائج میں سب سے بڑی جماعت ہونے، دیگر سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو ملک کیلئے ساتھ بیٹھنے کی دعوت دے دی۔ کارکنوں سے خطاب میں کہا کہ عام انتخابات میں ن لیگ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، ہم پر فرض بنتا ہے کہ اس ملک کو بھنور سے نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب پارٹیوں کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں، سب کا احترام کرتے ہیں چاہے وہ پارٹی ہے یا آزاد لوگ ہیں، ان کو بھی دعوت دیتے ہیں زخمی پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کیلئے آئو ہمارے ساتھ بیٹھو، ہمارا ایجنڈا صرف اور صرف خوش حال پاکستان ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ آپ کو معلوم ہے کس نے اس ملک کیلئے کیا کیا ہے؟ ہم نے کس طرح معاشی مشکلات سے نکالا اور معیشت کو ٹھیک کیا، ہمیں مینڈیٹ ملا ہے ضروری ہے کہ سب پارٹیاں مل کر ملک کو اس بھنور سے نکالیں، یہ سب کا پاکستان ہے، سب کو مل کر اس کو بھنور سے نکالنا ہے۔ اُن کا کہنا تھاکہ سیاستدان، پارلیمنٹ، افواج پاکستان، میڈیا سب مل کر مثبت کردار ادا کریں، ملک میں استحکام کے لیے کم از کم دس سال چاہئیں، پاکستان اس وقت کسی لڑائی کا متحمل نہیں ہوسکتا سب کو مل کر بیٹھنا ہوگا، معاملات طے کرنے ہوں گے۔ نواز شریف نے سادہ اکثریت نہ ہونے پر اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ میں کسی سے موازنہ نہیں کرنا چاہتا، خوشی کی بات ہوتی اگر ہمیں پورا مینڈیٹ ملتا، جو جماعتیں انتخابات میں کامیاب ہوئی ہیں ان کوحکومت میں شامل ہونے کی دعوت دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان اور خالد مقبول صدیقی سے ملاقات کا ٹاسک دیا ہے، انہیں مینڈیٹ دیا ہے کہ آج ہی سیاسی رہنمائوں سے ملاقاتیں کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ روشنیاں پھر لوٹ آئیں گی، بے امنی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا، ن لیگ کے جیتنے والے امیدوار اب سیاست عبادت سمجھ کر کریں، عوام کے مسائل حل کریں۔بلاشبہ ملک اس وقت بدترین مشکلات کے بھنور میں ہے۔ عوام نے اپنا فیصلہ سُنادیا ہے۔ جیسا کہ مسلم لیگ ن نے اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کردیا ہے تو ایسے میں وہ ہونا چاہیے جو ملک و قوم کے حق میں بہتر ہو۔ غیر جانبدارانہ طور پر دیکھا جائے تو ن لیگ حکومت کی کارکردگی دوسری سیاسی جماعتوں سے خاصی بہتر دِکھائی دیتی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ مسلم لیگ ن کے سابقہ ادوار ملک و قوم کی ترقی اور خوش حالی کے حوالے سے بے مثال رہے ہیں۔ عالمی ادارے بھی اس امر کو تسلیم کرتے دِکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ ہفتوں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس میں اس امر کا انکشاف بھی کیا گیا تھا۔ دوسری جانب شہباز شریف کی سربراہی میں پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت قائم ہوئی تھی، اس کی کارکردگی بھی تسلی بخش تھی۔ اس نے انتہائی نامساعد حالات میں ملک کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا، اس سے وطن عزیز کو بچایا تھا۔ خارجہ سطح پر بہترین کارکردگی پیش کی تھی اور روٹھے ہوئے دوستوں کو منایا گیا تھا۔ دوستانہ تعلقات کو پھر سے فروغ دیا گیا تھا۔ سستی گیس اور خام تیل کے حصول کے لیے بڑے معاہدے کیے گئے تھے۔ گو اس سال بھر سے زائد مدت پر محیط حکومت کے دور میں گرانی بے پناہ بڑھی اور عوام کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا، لیکن ملک ڈیفالٹ کے خطرے سے بچ نکلنے میں سرخرو ہوا اور یہ اس اتحادی حکومت کی بڑی کامیابی گردانی جاتی ہے۔ اب جب کہ انتخابات ہوچکے، نتائج آرہے ہیں، ن لیگ کی جانب سے اتحادی حکومت بنانے کا اعلان بھی سامنے آچکا ہے، ایسے میں سیاسی جماعتوں کو ملک و قوم کے مفاد میں مل بیٹھ کر گلے شکوے دُور کرنے ہوں گے۔ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں مل کر کام کرنے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ملک کی معیشت کو مشکلات کے بھنور سے نکالنا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر غریب عوام کے مصائب اور مسائل کے حل کے لیے راست کوششیں یقینی بنانی ہوں گی۔ پاکستانی روپے کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلانا ہوگا۔ معیشت کو پٹری پر پھر واپس لانا ہوگا۔ وطن عزیز مزید کسی کشیدگی، تنائو اور سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اب عوام اور ملک کی بہتری کے لیے اقدامات وقت کی ناگزیر ضرورت معلوم ہوتے ہیں اور اس حوالے سے سب کو ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دانش مندی، تدبر اور بردباری پر مشتمل فیصلے کرنے ہوں گے۔
مقبوضہ کشمیر پھر بھارتی چھائونی میں تبدیل
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کی داستان پچھلے 76سال سے رقم ہورہی ہے۔ اس میں ایسے ایسے موڑ آئے ، جن کے تذکرے پر روحیں کانپ جاتی اور جسم لرز کر رہ جاتے ہیں۔ کیا کیا مظالم درندہ صفت بھارتی فوج نے کشمیری مسلمانوں پر نہیں ڈھائے۔ لاکھوں کی تعداد میں اُن کو شہید کیا۔ گرفتار کیا اور لاپتا کر ڈالا۔ کتنی ہی خواتین ایسی ہیں کہ جن کے شوہروں کو چھاپوں کے دوران گرفتار کرکے بھارتی سیکیورٹی فورسز نے لاپتا کرڈالا اور آج تک اُن کے اہل خانہ اُن کی راہ تک رہے ہیں۔ کشمیر میں گمنام قبروں کی تعداد بھی کم نہیں۔ بھارت کی ظالم، سفّاک فوج 2لاکھ 37ہزار سے زائد کشمیری مسلمانوں کو شہید کرچکی ہے۔ اُس کا جب جی چاہتا ہے، کسی بھی بے گناہ کو گرفتار کرلیتی اور بعض اوقات زندگی چھیننے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں مقبوضہ کشمیر کا بڑا حوالہ ہے۔ پوری حریت پسند قیادت قید و نظربند ہے۔ کشمیر کی آزادی کے لیے اُٹھنے والی ہر توانا آواز کو بزور طاقت دبادینے کی روش جاری ہے۔ بھارت نے مظلوم کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو دبانے کے لیے تمام حربے، ہتھکنڈے آزمالیے، ظلم و ستم کی انتہائوں پر پہنچ گیا، ہر جبر اُن پر مسلط کر ڈالا، لیکن شاباش ہے کشمیری مسلمانوں پر کہ وہ بھارتی ظلم و ستم کے پہاڑ خود پر ٹوٹنے کے باوجود استقامت کی معراج پر ہیں اور آزادی کے سورج کے طلوع ہونے کے منتظر ہیں۔ اہم کشمیری لیڈروں کو شہید کیا گیا۔ اس کے ذریعے کشمیریوں کو ڈرانے کی کوشش کی گئی، جدوجہد آزادی سے پیچھے ہٹانے کی سازش کی گئی، لیکن وہ ڈٹے رہے اور اب بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے شہدا کا یوم شہادت اُن کے شایان شان مناتے اور بھارت کے خلاف بھرپور احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں۔ 11فروری کو افضل گورو اور مقبول بٹ کی برسیوں کے موقع پر بھی ایسا ہی ہوگا۔ اس پر بھارت اب نیا ہتھکنڈا اختیار کر رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں متعین بھارتی فوجیوں کی تعداد میں بڑا اضافہ کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں پوسٹر چسپاں کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے کشمیریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ممتاز آزاد ی پسند رہنمائوں محمد افضل گورو اور محمد مقبول بٹ کی شہادت کی برسیوں کے موقع پر11فروری بروز اتوار کو مکمل ہڑتال کریں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزاد ی پسند تنظیموں کی طرف سے یہ پوسٹر سری نگر اور جموں و کشمیر کے دیگر علاقوں میں چسپاں کیے گئے ہیں جن میں محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ دوسری طرف بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض انتظامیہ نے بھارتی پارلیمنٹ کی طرف سے متنازع جموں و کشمیر شیڈل ٹرائبز بل کی منظوری سے قبل راجوری اور پونچھ اضلاع میں سخت پابندیاں نافذ اور انٹرنیٹ سروسز معطل کردی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جموں و کشمیر شیڈول ٹرائبز آرڈر ترمیمی بل 2023کو بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا نے منظور کرلیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں شیڈول ٹرائبز میں حالیہ توسیع کیخلاف بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد ڈپٹی کمشنر سچن کمار ویشیا نے دونوں اضلاع میں دفعہ 144نافذ کردی ہے۔ گجر اور بکروال برادریوں کی طرف سے شیڈول ٹرائبز بل کی منظوری کیخلاف احتجاج جاری ہے ۔ جموں کے مختلف علاقوں بشمول راجوری اور پونچھ اضلاع میں بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے کیلئے بھارتی پیرا ملٹری اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ موبائل انٹرنیٹ سروسز کو دونوں اضلاع میں مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ بھارت چاہے جتنے مظالم ڈھالے وہ کشمیریوں کو آزادی کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔ ان شاء اللہ جلد مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button