انتخابات

الیکشن کے پورے نتائج کب ملیں گے؟

ملک میں عام انتخابات کیلئے پولنگ کل 8 فروری کو ہوگی اور قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کیلئے عوام اپنا حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

ملک میں پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ضابطہ اخلاق کے مطابق شام 6 بجے سے قبل الیکشن نتائج کا اعلان نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم پولنگ کے بعد فطری طور پر قوم کی نظریں الیکشن نتائج پر ہوں گی اور ماضی میں بروقت الیکشن نتائج کا اعلان نہ ہونے کی روایت رہی ہے۔

گو کہ گزشتہ دنوں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کہہ چکے ہیں کہ الیکشن کی رات 1بجے تک تمام نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔

لیکن 2018 کے انتخابات کے نتائج کی بات کی جائے تو رات 10 بجے کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے بنایا گیا رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) بیٹھ گیا تھا اور نتائج مکمل ہونے میں کافی وقت لگا تھا اور یہ معاملہ اگلے روز بھی جاری رہا تھا۔

اس سے قبل 2013 کے انتخابات میں بھی نتائج تاخیر کا شکار ہوئے تھے اور کئی حلقوں کے نتائج آنے میں کئی دن لگے تھے۔

لیکن الیکشن والی رات کو سامنے آنے والے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے تحت یہ واضح ہوگیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنے گی تو نواز شریف نے کارکنوں سے وکٹری اسپیچ کی تھی اور حکومت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ نتائج آنے کے دوران ان کی کامیابی کے دعوے کی تقریر پر سیاسی حریفوں نے اعتراض بھی کیا تھا۔

عام انتخابات کے علاوہ گزشتہ سال ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے بھی نتائج کے اعلان میں تاخیر ہوئی تھی اور کئی روز بعد الیکشن کمیشن نے سرکاری نتائج کا اعلان کیا تھا۔

ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن حکام کی جانب سے حالیہ انتخابات میں نتائج کی ترسیل کیلئے رزلٹ منیجمنٹ سسٹم (آر ایم ایس) استعمال کیا جائے گا اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس نظام کے تحت شفاف نتائج بروقت جاری کیے جائیں گے۔

الیکشن کمیشن کے نتائج جاری کرنے کے نظام میں کوئی خلل یا سیکیورٹی مسائل نہ ہوئے تو امید کی جاسکتی ہے کہ حالیہ انتخابات کے نتائج بروقت مکمل ہوجائیں گے۔

انتخابات میں کامیاب امیدواروں کی جانب سے الیکشن اخراجات کی تفصیلات جمع کروائی جاتی ہیں جس کے بعد ہی الیکشن کمیشن کامیاب امیدواروں کا سرکاری نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے۔

ووٹوں کی گنتی کے بعد ہر حلقے کا غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ ریٹرننگ آفیسر کے دفاتر سے جاری کیا جاتا ہے اور یہی غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ جیو نیوز کو بھی اپنے رپورٹرز اور نمائندوں کے ذریعے موصول ہوتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے تحت شام 6 بجے کے بعد جیو نیوز اپنے ناظرین کو ٹیلی ویژن اور ویب سائٹ پر لمحہ بہ لمحہ اپڈیٹ دیتا رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button