سپیشل رپورٹ

حوثی حملوں کا ’دفاع‘ اور لائیو پروگرام میں غزہ میں جنگ بندی کا نعرہ لگانے والی خاتون کون ہیں؟

ہم تجارت کے بارے میں بات کرنے کا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں جب غزہ میں بچوں کے آپریشن انھیں بے ہوش کیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔‘

سکائی نیوز کے ایک پروگرام ’دی ورلڈ ود یلدا حکیم‘ میں صحافی اور فلم میکر ڈاکٹر مریم فرانسوا نے بہت واضح انداز میں یہ بات کہی۔

اس پروگرام میں دراصل امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے حوثیوں پر ہونے والے حملوں کے بارے میں بات ہو رہی تھی۔ حوثیوں کا مطالبہ ہے کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کروائی جائے اور وہ اب تک بحیرہ احمر میں متعدد بحری جہازوں پر حملے بھی کر چکے ہیں۔

بحیرہ احمر کے اس حصے کو عالمی تجارت کے لیے بہت اہم سمجھا جاتا ہے اور یہ عالمی میعشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ایسے میں پروگرام میں تجارت اور حوثی حملوں سے متعلق سوالوں کا انتہائی واضح انداز میں جواب دینے پر ڈاکٹر مریم فرانسوا کا یہ کلپ ٹک ٹاک اور ایکس سمیت متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہیں۔

غزہ میں جاری جنگ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید ہلاکت خیز ہوتی جا رہی ہے لیکن اس کے اثرات وقت کے ساتھ خطے میں بھی واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔

جہاں عالمی میڈیا پر جانبداری کے الزامات لگتے رہے ہیں وہیں غزہ جنگ کے بعد سے سوشل میڈیا پر غزہ میں رہنے والے عام شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے وہاں کی لمحہ بہ لمحہ صورتحال بتائی جاتی رہی ہے اور دنیا کے مختلف ممالک میں فوری جنگ بندی کے مطالبے کیے گئے ہیں۔

سکائی نیوز کے پروگرام کی میزبان یلدا حکیم نے مریم سے پوچھا کہ ’بہت سارے لوگ یہ بات کر رہے تھے کہ بائیڈن انتظامیہ کو (حوثیوں کے خلاف) جلدی ردِ عمل دینا چاہیے تھا کیونکہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں ایک علاقے کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور اربوں ڈالر اس وقت خطرے میں ہیں۔۔۔‘

ڈاکٹر مریم نے جواب دیا کہ ’ہم اس وقت دنیا کے سب سے غریب ترین ممالک میں سے ایک پر بمباری کر رہے ہیں، جس کا چاروں جانب سے محاصرہ کیا جا چکا ہے، یہاں قحط سالی ہے، ان لوگوں کو تباہ کر دیا گیا ہے اور وہ لوگ (حوثی) جو فلسطین میں ہونے والی اس نسل کشی کے خلاف ہیں، ہم ان پر بمباری کر رہے ہیں۔

’کم آن۔ یہ سوچنا بھی کتنی بڑی بیوقوفی ہے۔ میں بہت معذرت خواہ ہوں کہ آپ کے ایمازون پیکج تاخیر کا شکار ہیں۔ کاش میرے بھی وقت پر آ جاتے لیکن (یہاں) نسل کشی ہو رہی ہے، نسل کشی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’غزہ میں دو مائیں ہر دن (اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ہر گھنٹے میں) میں ہلاک ہو رہی ہیں۔ 109 دن پر محیط اس جنگ کے بارے میں ہر روز ایک انسانی بحران کے بارے میں دنیا کے لوگوں کو ہر روز بتایا جا رہا ہے۔‘

غزہ جنگ میں اب تک 25 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع دہائیوں سے جاری ہے اور یہ تازہ ترین جنگ حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے سات اکتوبر کے حملے کے بعد شروع ہوئی۔

’جنگ بندی کا اعلان کر دیں حوثیوں کی مثبت برانڈنگ رک جائے گی‘

پروگرام کی میزبان یلدا حکیم نے یہ جواب سننے کے بعد سوال کیا کہ ’بہت سارے تجزیہ کار جو یمن پر نظر رکھتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اس سے حوثیوں کی برانڈنگ کو بہت فائدہ ہو رہا ہے اور وہ صرف مسئلہ فلسطین پر توجہ نہیں رکھتے۔‘

ڈاکٹر فرانسوا نے کہا کہ ’تو پھر جنگ بندی کا اعلان کر دیں اور ان کی مثبت برانڈنگ رک جائے گی۔ اگر آپ حوثیوں کو اس سے روکنا چاہتے ہیں جو وہ کر رہے ہیں تو جنگ بندی کا اعلان کر دیں۔‘

یلدا حکیم نے پوچھا کہ ’آپ کو کیسے معلوم کہ حوثی یہ اقدامات اٹھانے سے رک جائیں گے۔‘

ڈاکٹر فرانسوا نے جواب دیا کہ ’حوثیوں نے اس سے پہلے کبھی بھی کسی اور وجہ کے باعث یہ گزرگاہ بند نہیں کی سوائے اس وجہ کہ، اس لیے مجھے یقین ہے کہ وہ رک جائیں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں مغرب کو بھی یہ احساس کرنا چاہیے کہ وہ دنیا میں کاؤ بوائز کی طرح نہیں پھر سکتے، آپ کی کارروائیوں کے نتائج ہوتے ہیں، آپ لوگوں کے ممالک پر بمباری کر کے، عالمی قوانین کو نظر انداز کرنے کے بعد یہ نہیں سوچ سکتے کہ کوئی ردِ عمل نہیں آئے گا۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں حوثیوں کی مداح نہیں ہوں لیکن ان کی جانب سے فلسطین کے حق میں گزر گاہ کو بلاک کرنے کے حق میں ہوں۔‘

پروگرام میں موجود دوسرے مہمان برطانوی نژاد امریکی کاروباری شخصیت بل براؤڈر تھے۔

انھوں نے اس دوران کہا کہ ’ایک گھنٹہ قبل ہم نے جب اس بارے میں بات شروع کی تھی تو ہم ہاؤسنگ افورڈ نہ کر سکنے اور یونٹ جنریشن کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ یہ لوگ (حوثی) تجارت میں خلل ڈال رہے ہیں جس کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس سے ہر کسی کو مشکلات کا سامنا ہے۔‘

اس پر ڈاکٹر مریم کا کہنا تھا کہ ’25 ہزار لوگ غزہ میں مارے جا چکے ہیں۔ 60 ہزار افراد زخمی ہیں اور ان کے پاس کھانا، پانی اور امداد نہیں۔‘

’ایسے میں ہم تجارت کے بارے میں بات کرنے کا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں جب غزہ میں بچوں کے آپریشن انھیں بے ہوش کیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے لیے ہمیں قربانیاں دینی چاہییں اور یہ ان میں سے ایک ہے۔‘

یلدا حکیم نے کہا کہ ’انھوں (حوثیوں) نے عالمی مارکیٹوں اور عالمی معیشت کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔‘ ڈاکٹر مریم نے جواب دیا: ’بہت اچھا کیا ہوا ہے۔‘ پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر فرانسوا نے ’فوری جنگ بندی‘ کا نعرہ بھی لگایا۔

ڈاکٹر مریم فرانسوا کون ہیں؟

مریم فرانسوا کی یہ گفتگو اس وقت سوشل میڈیا پر خاصی وائرل ہے اور اس پروگرام کے بعد سے ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کو فالو کرنے والوں کی تعداد 50 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔

ایسے میں سوشل میڈیا پر لوگ ڈاکٹر مریم فرانسوا کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مریم فرانسوا سنہ 1982 میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد فرانسیسی جبکہ والدہ آئرش تھیں۔ مریم نے چائلڈ اداکار کے طور ’سینس اینڈ سینسیبلٹی‘ نامی 1995 کی فلم میں مارگریٹ ڈیش وڈ کا کردار ادا کیا تھا، اس فلم میں کیٹ ونزلیٹ اور ایما ٹامسن سمیت دیگر مقبول اداکار شامل تھے۔

تاہم سنہ 2001 میں 9/11 کے بعد سے مریم کا اسلام سے متعلق نظریہ تبدیل ہو گیا۔ وہ اس وقت کیمبرج یونیورسٹی میں پڑھ رہی تھیں۔

بی بی سی ساؤنڈز کی پاڈکاسٹ ’ہارٹ اینڈ سول‘ کی سنہ 2011 کی ایک قسط میں مریم نے اس بارے میں تفصیل سے بات کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’9/11 کے حملوں کے بعد ہمیں یونیورسٹی میں خاصا تناؤ محسوس ہونا شروع ہو گیا۔

’اس سے پہلے ہم مسلمانوں کو عام لوگوں کے طور پر دیکھتے تھے لیکن اس واقعے کے بعد سے ہم نے انھیں علیحدہ شناخت کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔ اس لیے میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں ان کے بارے میں مزید جانوں۔‘

انھوں نے اپنے ایک اور انٹرویو میں یہ بھی بتایا کہ ’یونیورسٹی میں پہلی بار ان کی ملاقات ایسے مسلمانوں سے ہوئی جو اسلام کی تعلیمات پر عمل کرتے تھے اور وہ اچھے لوگ تھے، ایسے لوگ جن کی آپ کو اس وقت ضرورت ہوتی ہے جب آپ کے ساتھ آپ کے والدین نہ ہوں۔‘

مریم بتاتی ہیں کہ انھوں نے اس دوران قرآن سمجھنا شروع کیا اور دو سال تک اس حوالے سے تحقیق کرتی رہیں اور مزید مطالعہ بھی کرتی رہیں جس کے بعد سنہ 2003 میں انھوں نے اسلام قبول کیا۔

اس کے بعد سے ان کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں جن میں وہ اسلام سے متعلق متعدد موضوعات خصوصاً خواتین سے متعلق موضوعات پر تفصیل سے بات کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے ان موضوعات پر متعدد آرٹیکل بھی لکھے ہیں۔

مریم ایک صحافی اور فلم میکر ہیں۔ ان کی ڈاکیومینٹری ’Finding Alaa‘ کو متعدد ایوارڈ مل چکے ہیں جبکہ وہ بی بی سی، الجزیرہ اور ٹی آر ٹی ورلڈ جیسے عالمی نشریاتی اداروں کے لیے بطور پریزینٹر، پروڈیوسر اور فلم میکر کام کر چکی ہیں۔

انھوں نے سنہ 2017 میں اپنی پی ایچ ڈی مراکش میں اسلامی تحریکوں کے موضوع پر مکمل کی تھی۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سے ڈاکٹر مریم فرانسوا نے انسٹاگرام پر اپنے فالووز سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے مل کر آواز اٹھانے کی بات کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button