سپیشل رپورٹ

ایک جج کی کہانی جس نے شریف خاندان سے بھائی کو ملازمت سے نکالنے کا بدلہ لیا

یہ کہا جائے کہ پاکستان کے سیاسی میدان میں منظر کچھ اور ہوتا ہے اور پس منظر کچھ اور تو بے جا نہ ہوگا۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی عدلیہ اور اہل سیاست و حکومت کے دریسن محاز آرائی سے عبارت رہی جہاں انصاف کی چکی میں بہت کچھ پس گیا۔ اسی حوالے سے روز نت نئی کہانیاں سامنے آتی ہیں۔ اور اب ایک جج کی مبینہ کہانی سامنے آئی ہے جس نے شریف خاندان سے بھائی کو ملازمت سے نکالنے کا بدلہ لیا۔
یہ کے راوی ملک کے معروف صحافی سہیل وڑائچ ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ حال ہی میں مستعفی ہونے والے جسٹس اعجاز الاحسن کے سگے بھائی اتفاق فائونڈری میں اعلیٰ عہدے پر ملازم تھے۔ حسین نواز، اتفاق گروپ کے سربراہ بنے تو انہوں نے انہیں ملازمت سے نکال دیا شریف خاندان کا خیال ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کے دل میں اس وقت سے گرہ پڑی ہوئی ہے یہی وہ می لارڈ تھے جو جج ارشد ملک کو بلا کر کہتے تھے کہ نواز شریف کو زیادہ سے زیادہ سزا دو جج ارشد ملک کی اس حوالے سے ویڈیو ریکارڈنگ شریف خاندان کے پاس موجود ہے۔

شریف خاندان کے ذرائع کا خیال ہے کہ جسٹس ثاقب نثار اس لئے انکے خلاف ہوگئے تھے کہ انہیں لاہور ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بننے میں تاخیر ہوئی جبکہ ثاقب نثار کے قریبی دوست تعلقات کی خرابی کی طویل کہانی سناتے ہیں، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انکے جج نہ بننے میں شریف خاندان نہیں بلکہ چیف جسٹس میاں محبوب کا کردار زیادہ تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button