Column

لکیر کے فقیر

رفیع صحرائی
انگریز نے برصغیر پر قابض ہونے کے بعد جب اپنا نظامِ تعلیم متعارف کروایا تو یہاں کے لوگوں کے لیے تعلیمی امتحان میں پاسنگ مارکس 33فیصد مقرر کر دئیے۔ یعنی کل نمبروں کا ایک تہائی حاصل کرنے والا امتحان میں پاس ہونے کا اہل ہوتا۔ اس پر ایک اور سہولت یا آسانی یہ دی گئی کہ امتحان میں دئیے گئے سوالات میں چوائس کا مارجن بھی سو فیصد رکھ دیا گیا۔ یعنی اگر پانچ سوالات کے جوابات درکار ہوتے تو کل دس سوالات دئیے جاتے۔ ان میں سے طالب علم اپنی مرضی کے پانچ سوال منتخب کر کے ان کے جوابات دے سکتا تھا۔ یہ بہت آسان ہوتا تھا۔ اگر کتاب کے دس ابواب ہوتے تو ہر باب سے ایک سوال لیا جاتا۔ طلبہ پہلے تین ابواب کو رٹا لگا کر آسانی سے پاس ہو جاتے۔ ستر فیصد نصاب کو چھوئے بغیر وہ اس مضمون میں پاس ہو کر قابلیت کے لحاظ سے جاہل ہی ہوتے تھے۔ یہی انگریز چاہتے تھے کہ محنت کی بجائے اس قوم کو سہل پسندی کا عادی بنایا جائے۔
جہاں تک انگریزوں کے اپنے ملک برطانیہ کا تعلق تھا تو وہاں ایسا سسٹم رائج نہ تھا۔ انہوں نے اپنے ملک میں پاسنگ مارکس دوتہائی یعنی 67فیصد رکھے ہوئے تھے۔ برِصغیر میں رعایتی پیکیج کی وجہ انگریز یہ بتاتے تھے کہ ذہنی صلاحیتوں کے لحاظ سے برِصغیر کے لوگ انگریزوں کی نسبت آدھے معیار کے حامل ہیں۔ شاید انہوں نے یہ نتیجہ اس لیے نکالا ہو کہ یہاں کی عوام ہی نہیں، حکمرانوں کو بھی رعایا کی ترقی اور ملک کی خوشحالی سے کبھی کوئی دلچسپی نہ رہی تھی۔ انگریز حکمران جب اپنی ملک میں میڈیکل یونیورسٹیاں بنا رہے تھے تو ہمارے یہاں محبت کی یاد گار تاج محل تعمیر ہو رہا تھا۔ حکمرانوں کی ترجیحات ہی ملک و قوم کے عروج و زوال اور مستقبل کا فیصلہ کرتی ہیں۔
انگریز یہاں سے چلے گئے مگر غلام قوم کے لیے انہوں نے جو نقوش تراشے تھے ہمارے حکمران کالے انگریزوں نے ان نقوش کو مشعلِ راہ بنا کر چلنا اپنے لیے اعزاز سمجھا اور آج تک سمجھتے آ رہے ہیں۔ انگریز نے اگر 33فیصد نمبروں سے ہماری ذہانت کا پیمانہ مقرر کیا تھا تو ہم نے آج 76سال بعد بھی اپنے آپ کو دانستہ اسی کمتر درجے پر براجمان کر رکھا ہے۔ ہم احساسِ کمتری یا ذہنی غلامی سے نکل ہی نہیں پائے۔ البتہ اتنی تبدیلی ضرور کر دی ہے کہ طلبا ء سے تخلیقی صلاحیتیں چھیننے کی شعوری کوشش کرتے ہوئے امتحانی سوالیہ پرچہ جات میں کثیرالانتخابی سوالات اور مختصر جوابی سوالات کی بھرمار کر کے طالب علموں کے لیے مزید سہولت کاری پیدا کر دی ہے۔ کس قدر اچنبھے اور شرم کا مقام ہے کہ ہمارے مڈل سٹینڈرڈ کے امتحان میں کثیرالانتخابی سوالات کی بھرمار کی وجہ سے محض درست جوابات پر ٹِک کا نشان لگا کر ایسا طالب علم بھی پاس ہو سکتا ہے جسے اپنا نام بھی لکھنا نہ آتا ہو۔ ہم اپنے آپ کو آدھی ذہانت کا حامل سمجھنے کے احساسِ کمتری سے کبھی نکل سکے ہیں نا اس کی کوشش کبھی کی ہے۔ نتیجے کے طور پر تعلیم یافتہ جہلا ء کی فوج ظفر موج پیدا کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ضرورت ٹیکنیکل ایجوکیشن کی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے نصاب میں شامل الیکٹریکل وائرنگ، زراعت، فرنیچر سازی وغیرہ جیسی مہارتوں والے مضامین ہمارے ہائی سکولوں میں پڑھائے ہی نہیں جاتے۔ شاید پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں درسی کتب مارکیٹ میں آنے سے پہلے ان کی گائیڈیں اور خلاصے بازار میں دستیاب ہوتے ہیں۔ حالانکہ ان پر سخت پابندی ہے اور ان کی اشاعت پر سزائیں مقرر کی گئی ہیں مگر کوئی بھی احتجاج نہیں کرتا۔ اساتذہ کا کام سہل ہو گیا ہے۔ وہ نوٹس تیار کرنے کے جھنجھٹ سے بچ گئے ہیں۔ طلبا ء کو رٹّا سسٹم پر لگا دیا گیا ہے۔ اب تو ہمارے امتحانی نظام کی برکت سے میٹرک میں 98سے 100فیصد نمبر حاصل کرنے والوں کی ایک لمبی قطار نظر آتی ہے مگر ان میں سے ایک بڑی تعداد ایف ایس سی میں داخلے کے انٹری ٹیسٹ میں فیل ہو جاتی ہے۔ نوے فیصد سے زائد نمبر حاصل کرنے والے میٹرک کے بعد گمنام ہو جاتے ہیں۔ اتنے جینیئس طلبا ء کو میٹرک کے بعد بریک کیوں لگ جاتی ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب سبھی جانتے ہیں مگر اصلاح کی کوشش اور ضرورت کوئی بھی محسوس نہیں کرتا۔
یہی حال ہمارے ہاں موسم گرما اور موسم سرما کی چھٹیوں کے معاملے کا ہے۔ انگریزوں نے دسمبر کا آخری ہفتہ کرسمس کی چھٹیوں کے لیے مختص کیا تھا جسے ہمارے ہاں سردی کی چھٹیوں کے طور پر رائج کیا گیا۔ ہم نے 76سالوں سے اسی لکیر پر چلنا فرض سمجھ رکھا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہمارے ہاں دسمبر کی نسبت جنوری میں زیادہ سردی پڑتی ہے۔ مگر ہم آدھی ذہانت والے لوگ دسمبر کے آخری ہفتے میں سردی کی چھٹیاں کر کے اپنے گلے میں غلامی کی زنجیر ہونے کا عملی ثبوت دیتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر موسم کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہ جنوری میں ان چھٹیوں میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ اس غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے طویل چھٹیوں کی بدولت ہونے والے تعلیمی نقصان کی کسی کو پروا ہے نا کسی نے اس پر کبھی سوچا ہے۔ یہی حال گرمی کی چھٹیوں کا ہے۔ موسم چاہے معتدل ہی کیوں نہ ہو یکم جون کو چھٹیاں کرنا ایسی روایت ہے جسے توڑنا شاید گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔
یاد رکھیے! رجوع کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ معروضی حالات کے پیشِ نظر اب ’’ اٹل فیصلوں‘‘ کو ٹالنا ہو گا۔ لکیر کے فقیر بننے کی عادت کو ترک کر کے آگے بڑھنا ہو گا۔ ورنہ ہم آنے والی نسل کو وراثت میں قرضوں کے بوجھ کے علاوہ اور کچھ نہیں دے پائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button