سیاسیات

الیکشن التوا کی تحریک اچانک آَئی: سینیٹ میں موجود حامد میر نے کیا دیکھا

سینیٹ نے الیکشن ملتوی کروانے کی تحریک پاس کی ہے۔ اس حوالے سے سینئر صحافی حامد میر کا کہنا تھا قرارداد منظور ہونے سے پہلے میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہی موجود تھا اور قرار داد منظور ہونے سے کچھ دیر پہلے تک قرارداد منظور کرنے والے تمام سینیٹر چیئرمین سینیٹ کے آفس میں موجود تھے اور کسی کو بھی اس حوالے سے نہیں پتا تھا کہ اس قسم کی کوئی قرارداد آنے والی ہے۔

ان کا کہنا تھا قرارداد کی حمایت کرنے والے سارے سینیٹرز کہہ رے تھے کہ سینیٹ الیکشن ملتوی نہیں ہونا چاہیے لیکن سینیٹر افنان اللہ کہہ رہے تھے مجھے لگ رہا ہے کہ کوئی سازش ہونے والی ہے۔
حامد میر نے اپنے چینل کو بتایا کہ پرنس عمر بتا رہے تھے ان کے کاغذ منظور ہو گئے ہیں وہ الیکشن کی تیاری کر رہے ہیں اور منظور کاکڑ بھی کہہ رہے تھے کہ الیکشن کی تیاری شروع کر دی ہے جبکہ اقلیت کے ایک رکن خاموش بیٹھے تھے لیکن پھر اچانک چیئرمین سینیٹ اوپر چلے گئے اور آناً فاناً قرار داد پیش ہوئی، ہاؤس میں صرف 14 لوگ تھے جن میں سے 12 نے قرارداد کی حمایت کی جبکہ سینیٹر افنان اللہ نے قرارداد کی مخالفت کی، جن سینیٹرز نے قرارداد کی حمایت کی ہے ان کا تعلق فاٹا اور بلوچستان سے ہے اور یہ تمام سینیٹرز چھوٹی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button