Column

ڈرامہ لکھنے کا مجرب نسخہ

صفدر علی حیدری
ایک عدد ہیروئن۔۔۔
ایک ایسی لڑکی جس میں زمانہ سازی بالکل بھی نہ ہو۔ معصوم ایسی کہ بچے بھی اسے ماموں بنا لیں۔ ہر چال اس پر کامیاب ٹھہرے۔ ہر حربہ اس پر کارگر ثابت ہو۔۔۔ ہر جال اسے پھنسا لے۔۔۔ بلکہ وہ جال کی تلاش میں ہو جو آئے اور اسے پھانس لے۔ نرم دل، خوش گمان اور بھولی بھالی ایسی کہ جو کسی کی بھی بڑے سے بڑی خطا معاف کر دے، حتی کہ جانی دشمن کی بھی۔ دھوکہ دینے والا تھک جائے، وہ دھوکہ کھانے سے باز نہ آئے۔ اس جیسے اور بھی بہت سے اوصاف جن کو دیکھ کر آپ کو حیرت کم ہو غصہ زیادہ آئے اور آپ چاہ کر بھی اس کو جسٹی فائی نہ کر سکیں۔
ایک عدد ہیرو۔۔۔
جو ایسا کاٹھ کا الو ہو کہ اسے شادی سے پہلے جو پٹی ماں پڑھا دے آنکھ بند کر کے یقین کر لے اور شادی کے بعد بیوی کی بات اسے حرف آخر لگے، یا حرف غلط۔ وہ ایسا قابل ہو کہ شہر کا سب سے بڑا بزنس مین وہی ہو مگر گھر کے معاملات میں ایسا غبی الذہن کہ اسے یہ پتہ ہی نہ چل سکے کہ سالن میں بے تحاشہ مرچیں اس کے کسی گھر کے فرد کی سازش بھی ہو سکتی ہیں۔ شروع میں روشن خیال ہو مگر شادی کے بعد تنگ نظر ہو جائے۔ کسی مرد سے بات کرتا دیکھ کر مارنے مرنے پر تل جائے مگر باپ کے سمجھانے پر معاف کر دے، مگر اسے بعد میں پتہ چلے کہ وہ اس کی بیوہ کا محبوب تھا تو۔۔۔ ایسی ہی کئی خوبیاں جنہیں محسوس کر کے آپ کا فشار خون بلند ہو جائے۔
ایک عدد ماں۔۔۔
جو ایسی چال باز ہو کہ جسے اپنی شادی شدہ بیٹی کے کان بھرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہ ہو۔۔۔۔ وہ ساس کے روپ میں عورت نہ لگے ناگن معلوم ہو۔ اس کا واحد مقصد بیٹے کی دوسری شادی کرنا ہو۔ اور اس کام کے لیے وہ ہر پتھر الٹائے۔ ہر حیلہ کرے حتیٰ کہ پیروں فقیروں عاملوں کے چکر کاٹے۔ ناکامی کے بعد آستانہ بدل دے مگر اس کام سے باز نہ آئے۔
ایک عدد سائیڈ ہیروئن ۔۔۔
جو آفت کی پرکالہ ہو۔۔۔ ایسی فتنہ توش کہ مخالفین کے ہوش اڑا دے ۔۔۔ اس کی مکاریوں کا سلسلہ ڈرامے کی آخری قسط تک طویل ہو اور پھر۔۔۔۔ وہ انتہائی عام سی غلطی کرے اور اس کا کردار ایک دم سب پر عیاں ہو جائے۔ اور یوں اس کے سارے منصوبے ناکام ہو جائیں ( لیکن آخری قسط میں )
ایک عدد والدین۔۔۔
جن کا بیٹا ڈرامے کا ہیرو ہو جن کا کام نصیحت کرنا، صبر کرنا، ہر دم کڑھتے رہنا، آہیں بھرنا، دعائیں کرنا، پر امید رہنااور اچھے وقت کے انتظار میں رہنا ہو
ایک عدد ذہین لڑکی جو ہیروئن کی مخلص سہیلی ہو۔ جو ہر سازش کو دیکھ سونگھ کر محسوس کر کے، جو ہر ہر قدم پر بہترین مشورے دے۔۔۔۔۔ لیکن اس کی دوست اس کی کسی بات پر یقین نہ کرتی ہو، اور ہر بار چال کے ان دیکھے جال میں پھنس کر ہی اپنی دوست کی ذہانت کی قائل ہوتی ہو۔ لیکن آخری قسط سے پہلے تک اس کی کوئی بات نہ مانی جاتی ہو
ہیرو کے ساتھ بھی ایک ایسا ہی دوست چمٹا دیا جائے تو سونے پر سہاگے کا کام دے گا۔
ایک چھٹا ہوا بدمعاش۔۔۔
جو ہیرو یا ہیروئن کو دیکھ کر ایسا پگھلے کہ ہر برے کام سے تائب ہو جائے ۔ پہلے پیسے لے کر ہیرو، ہیروئن کی زندگی برباد کر ڈالے۔ لیکن آخر میں وعدہ معاف گواہ بن کر سائیڈ ہیروئن کا پول کھول کر اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرے، نقصانات کی تلافی کرے۔
ہیرو، ہیروئن کو پھر سے ملا دے اور پھر باقی تمام عمر انہیں دیکھ دیکھ آہیں بھرتا اور یہ سوچ کر خوش ہوتا رہے کہ اس کی وجہ سے اس کا محبوب خوشگوار زندگی گزار رہا ہے۔
ایک عدد ٹائٹل سانگ۔۔۔
جو لامحالہ ڈرامے کے مصنف کا قلمی اعجاز ہو
جسے ترجیحاً راحت فتح علی خان نے گایا ہو یا ساحر علی بگا۔ عاطف اسلم کے گلے کی چھنگاڑ بھی چلی گی۔
پھر ایک عدد انٹرٹینمنٹ چینل
ڈرامے کو کامیاب کرنے کے لیے اس کا وجود بہت ضروری ہوتا ہے۔
جو ڈرامے کے آغاز سے کم و بیش ایک ماہ قبل دن میں تیس، تیس بار ڈرامے کے مختلف مناظر دکھائے اور او ایس ٹی چلائے ۔
خاتون لکھاری۔۔۔
یہ بات تو طے ہے کہ اگر ڈرامے کو ہر لحاظ سے کامیاب سیریل بنانا ہے تو اسے کسی خاتون نے لکھا ہو یا مرد نما خاتون نے۔
بنیادی تھیم۔۔۔
ڈرامے میں مرد کو بے وفا، عورت کو وفا کی دیوی، ماں باپ کو مظلوم اور بے بس، ساس کو ظالم، دکھایا جائے۔۔۔۔۔۔
جو بھی ان باتوں کو مدنظر رکھ کر ڈرامہ سیریل لکھے گا ضرور کامیاب ہو گا
نوٹ ۔۔۔۔ اگر راتوں رات کامیاب مصنفین کی صف میں شامل ہونے کا ارادہ ہے تو ڈرامے کا اختتام ہیپی نوٹ پر نہیں ہونا چاہیے ۔
ہیرو جب اپنی غلطیوں کی معافی مانگنے کے لیے تشریف لائے تو ہیروئن اسے خوب کھری کھری سنائے۔۔۔۔
خوب بے عزت کرے
اور اسے معاف نہ کرتے ہوئے گھر سے دفع ہونے کا کہہ دے
اور کوئی ان آئیڈیاز کو من و عن نقل کرنا چاہے تو حقیر کم ترین کی طرف سے پوری پوری اجازت ہے۔ کسی قسم کے حصے کا کبھی مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ بس اتنا عرض ہے کہ ایک آدھ چانس اسے بھی دلوا دیا جائے کہ وہ بھی کوئی روایتی قسم کا ڈرامہ لکھ کر ثواب دنیا اور مال و متاع دنیا کما سکے
پیشگی شکریہ۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button