Editorial

ملکی سلامتی اور ترقی کیلئے آرمی چیف کا عزم

پاکستان کے قیام کو 76سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اپنے قیام سے ہی وطن عزیز نے تمام ہی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات اُستوار کرنے کی کوششیں کیں اور اس میں کامیاب بھی رہا۔ چند ایک کو چھوڑ کر پاکستان کے تمام ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ پاکستان امن پسند ملک ہے۔ کبھی بھی بدامنی میں ملوث نہیں رہا۔ دُنیا کے مختلف خطوں میں امن و امان کے لیے وطن عزیز کی افواج بارہا خدمات سرانجام دے چکی ہیں اور دُنیا انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ پاکستان جب سے قائم ہوا ہے، تب سے بعض ظاہر و پوشیدہ قوتوں کی نظروں میں بُری طرح کھٹکھتا چلا آرہا ہے اور وہ اسے نقصانات پہنچانے کے درپے رہتی ہیں۔ یہ طاقتیں اس کے لیے بھرپور طریقے سے سرگرم رہتی ہیں۔ ہمارا پڑوسی ملک بھارت پاکستان کے وجود کو ہی سخت ناپسند کرتا ہے اور پچھلے آٹھ عشروں سے اسے دُنیا کے نقشے سے مٹانے کے مذموم مشن پر عمل پیرا ہے، اس کے لیے اس نے شروع میں جنگیں مسلط کیں، پھر اپنے جاسوسوں کے ذریعے ملک میں امن و امان کی صورت حال کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ ملک میں دہشت گردی کے ڈھیروں واقعات میں ملوث رہا۔ اس محاذ پر بھی اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ یہاں اس کے جاسوسوں کو دھرا گیا اور اس کے مذموم منصوبے پر پانی پھیر دیا گیا۔ اس کے بعد اس نے ہائبرڈ وار شروع کی۔ سوشل میڈیا پر پاک افواج کے خلاف مذموم مہمات چلوائیں۔ پاکستان مخالف پروپیگنڈے میں مصروف عمل رہا۔ اس میدان میں بھی قوم کی حمایت سے پاک افواج نے دشمن کی سازشوں کا بھرپور توڑ کیا۔ دشمن اب بھی اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آیا ہے۔ ہر کچھ عرصے بعد اپنے مذموم عزائم کا اظہار کرتا ہے اور اُسے منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ اس کی وجہ ہماری بہادر افواج ہیں، ان کا شمار دُنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے، جو انتہائی محدود وسائل میں ملکی سلامتی اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔ ملک کے چپے چپے کی حفاظت کے لیے ہمارے بہادر افسران و جوان ہر دم چوکس و تیار ہیں۔ پاک افواج پر پوری قوم کو فخر ہے اور انہیں عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ قوم کا ان پر اعتماد غیر متزلزل ہے۔ یہ ملک و قوم کی سلامتی کی ضامن ہیں۔ انہی کے دم سے پوری قوم چین و سکون کی زندگی بسر کررہی ہے۔ پاک افواج نے ڈیڑھ عشرے تک جاری رہنے والے دہشت گردی کے عفریت کو قابو کیا۔ مختلف آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کی کمر توڑ کے رکھ دی اور انہیں یہاں سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ آج بھی افواج پاکستان دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے پوری طرح چوکس و تیار ہیں اور ملک کے مختلف حصّوں میں ان کے خلاف آپریشنز جاری ہیں، جن میں بڑی کامیابیاں مل رہی ہیں۔ جلد ہی ملک میں امن و امان کی صورت حال مکمل طور پر بحال ہوجائے گی۔ ملکی ترقی کے لیے بھی پاک افواج کی کاوشیں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ نئے سال کے موقع پر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاک فوج ملک کی سلامتی اور ترقی میں کردار ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق نئے سال کے آغاز پر اپنے پیغام میں آرمی چیف نے کہا کہ افواج پاکستان اور عوام ایک ہیں، ہمیں پاکستانی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وابستگی پر فخر ہے، پاکستان کے جذبے کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج وطن کی خدمت کے جذبہ حب الوطنی کو تقویت دیتی ہیں، پاکستان کی سرزمین بے پناہ نعمتوں اور بے شمار مواقع کی حامل ہے، بلاشبہ ہماری عظیم قوم ہمارے آباو اجداد کے خوابوں اور پاکستانی عوام کی امنگوں کے مطابق اٹھے گی، یقیناً آنے والی نسلوں کا روشن مستقبل ہمارا منتظر ہے۔ آرمی چیف نے مزید کہا کہ ان شاء اللہ پاکستان کے وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ہم فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، دعا اور امید کرتے ہیں کہ نیا سال ظالم حکومتوں سے ان کے مصائب میں کمی لائے۔ مزید برآں ترجمان پاک فوج نے سال 2024ء کو ملک کے لیے اندرونی اور بیرونی اعتبار سے انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے نئے سال کی آمد پر قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آنے والی نسلوں کے لیے روشن مستقبل ہمارا منتظر ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ 2023ء اہم سال تھا جو ختم ہوگیا، اب 2024ء اندرونی اور بیرونی اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔ آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ مسلح افواج مادر وطن کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں۔ آرمی چیف کا فرمانا بالکل بجا ہے۔ پاک افواج نے ہر نازک موقع پر ملک و قوم کی سلامتی اور بہتری کے لیے اپنا کردار پوری تندہی سے نبھایا ہے اور اب بھی نبھا رہی ہیں۔ ملکی سلامتی کے لیے پاک افواج کی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ملک جب بھی دشمن کے نرغے میں آیا، اس سے افواج پاکستان نے ہی قوم کو خلاصی دلائی۔ دشمنوں کو کرارا جواب دے کر یہاں سے دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ ملک سے ان ناپاک وجودوں کا خاتمہ کر ڈالا۔ پاک افواج کا ہر افسر و اہلکار ملک کے چپے چپے کی حفاظت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ دینے سے دریغ نہیں کرتا۔ پوری قوم کو ان شہدا پر فخر ہے۔ ان کے لواحقین بھی پوری قوم کے لیے لائق احترام ہیں۔ گو ملک پچھلے پانچ چھ سال میں معاشی حوالے سے مشکل صورت حال سے دوچار رہا ہے، لیکن پچھلے کچھ ماہ کے اقدامات کے نتیجے میں صورت حال بہتر رُخ اختیار کر رہی ہے۔ ان شاء اللہ ملک کا مستقبل روشن ہے اور جلد معیشت کی صورت حال بہتر ہوگی۔ عوام خوش حالی سے ہمکنار ہوں گے۔ ملک ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں جلد اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوجاءے گا۔ ملک میں وسائل کی چنداں کمی نہیں ہے۔ بس انہیں درست خطوط پر بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ ملکی آبادی کا 60فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر افرادی قوت کا ہونا ملک و قوم کی ترقی کی ضمانت ہے۔ ان شاء اللہ اب معیشت کے حوالے سے حالات بہتر رُخ اختیار کریں گے۔
ایف بی آر کی شاندار کارکردگی
ماضی میں وطن عزیز میں ٹیکس وصولی کا نظام کئی خرابیوں سے پُر دِکھائی دیتا تھا۔ ٹیکس چوری معمول تھی۔ لوگ ٹیکس چوری سے بچنے کے لیے طرح طرح کے حیلے اور ہتھکنڈے اپناتے تھے۔ اس معاملے میں رشوت کا چلن بھی عام تھا۔ اس کے باعث ملک عزیز کو سالانہ بڑے خسارے کا سامنا رہتا تھا۔ ہر سال کی اس مشقِ ستم کے باعث قومی خزانے کو بے پناہ نقصانات پہنچتے تھے جو ظاہر ہے ملک و قوم کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنتے تھے۔ اس روش پر عشروں گامزن رہا گیا، جس کا خمیازہ ملک و قوم کو بھگتنا پڑا۔ غریبوں پر بدترین مہنگائی مسلط ہوتی رہی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اُن کے حالات ابتر ہوتے چلے گئے۔ ملک معاشی لحاظ سے کمزور ہوتا چلا گیا، لیکن ٹیکس چور اپنی اس روش سے باز نہ آئے۔ یہاں تک کہ گزشتہ پانچ چھ برسوں کے دوران ناقص حکمت عملیوں اور پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت آئی سی یو میں جا پہنچی۔ ہر گزرتا دن نئے امتحان کے ساتھ آتا اور غریبوں کو مشکلات بڑھاتا رہا۔ اس تناظر میں ٹیکس وصولی کے نظام کو موثر اور ٹیکس چوری کی روش کے خاتمے کی ضرورت خاصی شدّت سے محسوس کی جاتی رہی۔ دیکھا جائے تو جن ملکوں میں باقاعدگی کے ساتھ ٹیکس وصولی کا سلسلہ بغیر کسی رُکاوٹ اور خرابی کے چلتا رہے تو حکومت کو نظام مملکت چلانے میں خاصی آسانیاں میسر آتی ہیں۔ معیشت کی صورت حال بھی بہتر رہتی ہے۔ عوام بھی خوش حالی و ترقی سے ہمکنار رہتے ہیں، جن معاشروں میں اس کے برعکس ہو، وہ آہستہ آہستہ مشکلات کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری کی رمق محسوس ہورہی ہے اور اس بار ایف بی آر نے دسمبر میں ریکارڈ ٹیکس جمع کرکے تاریخ رقم کردی ہے۔ رواں مالی سال کا ششماہی ہدف بھی پورا کرلیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے دسمبر 2023کے مہینے میں 1021ارب روپے کے محصولات جمع کرلیے۔ اس ماہ جاری کیے جانے والے 38ارب روپے کے ری فنڈز ایڈجسٹ کرنے کے بعد خالص ٹیکس وصولی 984ارب روپے تک پہنچ گئی۔ ماہ دسمبر کے ساتھ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے اہداف کو بھی حاصل کرلیا گیا۔ پہلی ششماہی کا مقررہ ہدف 4425ارب روپے تھا ( جیسا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے کیا گیا تھا) جس کے مقابلے میں 4468ارب روپے کی ریکارڈ وصولی کی گئی، جو ہدف سے 43ارب روپے زیادہ ہے۔ ایف بی آر نے یوں تاریخ رقم کردی ہے اور گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں 3428ارب روپے اکٹھے کیے تھے، جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں ایک کھرب روپے سے زائد ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ درآمدات میں کمی اور 230 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کرنے کے باوجود مقررہ ہدف حاصل کرلیا گیا۔ چیئرمین ایف بی آر نے اس کام کو پورا کرنے پر ممبر کسٹمز (آپریشنز)، ممبر آئی آر (آپریشنز) اور ان کی ٹیموں کو مبارک باد دی ہے۔ انہوں نے ٹیکس دہندگان کا بھی شکریہ ادا کیا، جن کے مسلسل تعاون اور درست ڈیکلریشنز کے بغیر یہ ہدف حاصل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ شکر ہے دیر آید درست آید۔ اس شاندار کامیابی پر واقعہ ایف بی آر مبارک باد کا مستحق ہے۔ اُس نے انتھک محنت کرکے بڑی کارگزاری کی ہے۔ خدا کرے کہ ٹیکس وصولی کے حوالے سے یہ روش ہمیشہ قائم رہے۔ ٹیکس دہندگان باقاعدگی سے ادائیگی کرتے رہے۔ اس حوالے سے مزید اصلاحات کے ذریعے صورت حال اور بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button